امریکی عدالتکی جانب سے  نے ٹرمپ کے اختیارات محدود 

ٹرمپ

?️

سچ خبریں: امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک بڑی فتح دیتے ہوئے، ججوں کی صدارتی پالیسیوں کو ملک بھر میں روکنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا۔
 واضح رہے کہ یہ فیصلہ  (Birthright Citizenship) کے مقدمے سے متعلق تھا، جس میں کورٹ نے واضح کیا کہ وفاقی جج صدارتی حکمناموں کو فوری طور پر روکنے کے بجائے، ان کے دائرہ کار پر نظرثانی کریں۔ تاہم، کورٹ نے ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کی قانونی حیثیت پر کوئی رائے نہیں دی۔
ٹرمپ نے اس فیصلے کو "بڑی کامیابی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب ان کی انتظامیہ جنسیت بلحاظ پیدائش سمیت متعدد پالیسیوں پر آگے بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس اس سلسلے میں متعدد ایگزیکٹو آرڈرز اور پالیسیاں ہیں۔ ہم اس فیصلے سے بہت خوش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کا بے جا استعمال انتظامیہ کے امیگریشن پالیسیوں پر عملدرآمد کو محدود کرتا ہے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ: کیا اثرات ہوں گے؟
سپریم کورٹ نے وفاقی ججوں کے "یونیورسل انجنکشنز” (عالمی پابندیاں) کے دائرہ کار کو کم کرتے ہوئے، ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست کو تسلیم کیا۔ یہ انجنکشنز میری لینڈ، میساچوسٹس اور واشنگٹن کی وفاقی عدالتوں نے جاری کیے تھے، جنہوں نے ملک بھر میں ٹرمپ کے حکمنامے کو عارضی طور پر روک دیا تھا۔ کورٹ کے مطابق، ٹرمپ کا حکمنامہ جمعے کے فیصلے کے 30 دن بعد تک نافذ نہیں ہو سکتا، جس سے بعض علاقوں میں اس کے جلد نافذ ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔
Birthright Citizenship پر تنازعہ
ٹرمپ نے اپنی حکومت کے پہلے دن ہی ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت وفاقی اداروں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ان بچوں کی شہریت تسلیم نہ کریں جو امریکا میں پیدا ہوئے ہوں، لیکن جن کے والدین میں سے کوئی بھی امریکی شہری یا مستقل رہائشی (گرین کارڈ ہولڈر) نہ ہو۔ 22 ڈیموکریٹ ریاستوں اور انسانی حقوق کے گروپس نے اس حکمنامے کے خلاف عدالتی چیلنجز دائر کیے تھے۔
شکایات میں کہا گیا تھا کہ یہ پالیسی سالانہ 1.5 لاکھ بچوں کو شہریت سے محروم کر دے گی، جس سے انہیں صحت کی بیمہ، قانونی روزگار اور ووٹنگ جیسی وفاقی سہولیات سے محروم ہونا پڑے گا۔
ٹرمپ کی دیگر پالیسیوں پر سپریم کورٹ کی حمایت
سپریم کورٹ نے ٹرمپ کی دیگر امیگریشن پالیسیوں کو بھی تقویت دی، جن میں شامل ہیں:
• غیرقانونی تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر deportation (ملک بدری) بغیر کسی سماعت کے۔
• ہزاروں پناہ گزینوں کی عارضی رہائشی حیثیت ختم کرنا۔
• ٹرانسجینڈر افراد کی فوج میں خدمات پر پابندی۔
• حکومتی ملازمین کی بڑے پیمانے پر برطرفی کی حمایت۔
سپریم کورٹ کا محافظہانہ رجحان
9 رکنی سپریم کورٹ، جس میں 6 محافظہ کار اور 3 لبرل جج شامل ہیں، نے گزشتہ دنوں کئی اہم فیصلے سنائے، جن میں:
• ٹیکساس کے آن لائن فحاشی کے قوانین کی توثیق۔
• والدین کو یہ حق کہ وہ اپنے بچوں کو LGBTQ+ موضوعات پر مبنی کلاسز سے نکال سکیں۔
• او بیما کیئر کے تحت صحت کی بیمہ کی پالیسیوں کو برقرار رکھنا۔
یہ فیصلے کورٹ کے معاشرتی، ثقافتی اور معاشی امور پر محافظہانہ اثرات کو ظاہر کرتے ہیں۔
ٹرمپ کے لیے دوسری بڑی فتح
یہ دوسرا سال ہے جب سپریم کورٹ نے اپنے سالانہ سیشن کا اختتام ٹرمپ کے حق میں فیصلے دے کر کیا ہے۔ گزشتہ سال 1 جولائی 2024 کو کورٹ نے صدارتی استثنیٰ (Immunity) کو تسلیم کیا تھا، جس کے تحت صدر اپنے دورِ حکومت میں کیے گئے سرکاری اقدامات کے لیے قانونی چارہ جوئی سے محفوظ ہوں گے۔
اگلا مرحلہ: مزید قانونی لڑائی
سپریم کورٹ کا اگلا سیشن اکتوبر میں شروع ہوگا، لیکن ٹرمپ انتظامیہ کے کئی فوری درخواستیں زیرِ التوا ہیں، جن میں وفاقی ملازمین کی برطرفی اور امیگریشن پالیسیوں سے متعلق احکامات شامل ہیں۔

مشہور خبریں۔

اسرائیل نے عرب وزرائے خارجہ کو رام اللہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی؛ وجہ ؟

?️ 31 مئی 2025سچ خبریں: صہیونی ریژیم کے ٹی وی چینل 12 کے نیوز پورٹل

چین اور یمن کے درمیان براہِ راست تجارتی شروع ہونے سے اسرائیل کی تشویش بڑھ گئی 

?️ 9 اکتوبر 2025چین اور یمن کے درمیان براہِ راست تجارتی شروع ہونے سے اسرائیل

2028 کے انتخابات میں بائیڈن اور ڈیموکریٹک پارٹی کا ابتدائی امتحان

?️ 17 مئی 2025سچ خبریں: واشنگٹن ٹائمز نے جو بائیڈن کی ذہنی اور جسمانی صحت

عمران خان کی سپریم کورٹ کے ’تحفظ‘ کیلئے پُرامن احتجاج کی اپیل

?️ 16 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی

اہم قانون سازی کا فیصلہ، وزیر اعظم آج اتحادی جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ کو عشائیہ دیں گے

?️ 9 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) رواں ہفتے اہم قانون سازی کے معاملے پر

پرویز الٰہی کے گھر پر چھاپہ،وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت سے 3 فروری کو جواب طلب

?️ 1 فروری 2023لاہور: (سچ خبریں) پرویز الٰہی کے گھر پر چھاپہ،لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت

اقربا پروری پر یقین نہیں رکھتی، ٹیلنٹ اپنی جگہ خود بناتا ہے، مسکان کادوانی

?️ 4 نومبر 2023کراچی: (سچ خبریں) معروف ہدایت کار اور اداکار عبداللہ کادوانی کی صاحبزادی

بھارت مذاکرات کیلئے 5 اگست کے فیصلے پرنظرثانی کرے: وزیر خارجہ

?️ 19 اپریل 2021دبئی (سچ خبریں) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نےبھارت کو مذاکرات کے لئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے