?️
سچ خبریں: لبنان کے اخبار "الاخبار” سے بات چیت میں ایک فرانسیسی جغرافیہ دان اور ایران کے امور کے ماہر، جو قومی سائنسی تحقیقاتی مرکز (CNRS) میں تحقیقاتی ڈائریکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، نے اسرائیلی ریاست کے ایران پر وحشیانہ حملے کے نتائج پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے اس انٹرویو میں تہران میں موجود بعض اختلافات کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اسرائیل کے جھوٹے بہانے پر ایران پر حملہ، جبکہ امریکی خفیہ اداروں نے 15 مئی کو کانگریس کو اطلاع دی تھی کہ ایران کا کوئی جوہری بم بنانے کا پروگرام نہیں، درحقیقت ملک کے اتحاد کو مضبوط کرنے اور داخلی اختلافات پر قابو پانے میں معاون ثابت ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حملے نے قومی یکجہتی کو تقویت بخشی۔
اسرائیل کا ہدف ایران کی عوامی طاقت کو کمزور کرنا تھا
اورکاڈ نے زور دے کر کہا کہ صہیونی ریاست کا مقصد ایران کی عوام کو کمزور کرنا تھا نہ کہ اسلامی جمہوریہ کو۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے 92 ملین باشندے، جو مشرق وسطی کے سب سے زیادہ تعلیم یافتہ لوگوں میں شامل ہیں، ایک طاقتور اور بین الاقوامی سطح پر مربوط ملک میں اپنے نظریات اور رجحانات کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جس سے اسرائیل خوفزدہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے جوہری شعبے کو نقصان پہنچانا درحقیقت ایران کی سائنسی ترقی کو نقصان پہنچانا ہے۔
ایران سائنسی اور فکری اعتبار سے ایک ترقی یافتہ ملک ہے
اس فرانسیسی تجزیہ کار نے کہا کہ ٹرمپ کا نقطہ نظر قدرے مختلف ہے، وہ ایران کو کمزور کرنا چاہتا ہے لیکن اسے ختم نہیں کرنا چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے لیے انسانی حقوق کا مسئلہ اہم نہیں۔ ایران فکری اور سائنسی لحاظ سے ایک انتہائی ترقی یافتہ ملک ہے، جس کے پاس اگلے 200 سالوں تک آمدنی کا ذریعہ بننے والے تیل اور گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔
جوہری مذاکرات کا مستقبل
انہوں نے ایران کے جوہری مذاکرات کے مستقبل پر روشنی ڈالتے ہوئے زور دیا کہ ایران یقیناً جوہری مسئلے کا حل چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ایٹم بم نہیں چاہتا کیونکہ یہ انتہائی مہنگا ہے اور سیاسی طور پر انہیں مکمل طور پر الگ تھلگ کر دے گا، لہٰذا یہ حکمت عملی کے لحاظ سے قابل عمل نہیں۔
اسرائیل اور یورپ کا غیر معقول موقف
انہوں نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیل اور یورپی ممالک "کوئی افزودگی نہیں، صفر سینٹری فیوجز” کے موقف پر اصرار کر رہے ہیں۔ لیکن ایران میں یورینیم کی افزودگی کا خاتمہ ان کا ایک خواب ہی رہے گا۔ لہٰذا، فرانس، جرمنی اور برطانیہ کی جانب سے اس موقف کو دہرانا درحقیقت اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ کوئی حل تلاش کرنے کے بجائے فوجی اقدامات کو ترجیح دے رہے ہیں، جو صرف افراتفری کو جنم دے گا۔ اسرائیل ایران میں افراتفری پھیلانا چاہتا ہے۔
مغرب کی ناکام مذاکاتی کوششیں
انہوں نے نشاندہی کی کہ مغرب کی جانب سے مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوششیں درحقیقت ایران کو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) سے دستبردار ہونے اور ایٹم بم بنانے پر مجبور کرنے کی کوشش ہے۔ تاہم، ایسا ہونے والا نہیں کیونکہ ایران کے عوام اسرائیل کے اس جال میں گرنے سے یکسر انکار کرتے ہیں۔ لہٰذا، ایرانی عوام سائنسی اور تکنیکی ترقی کے لیے اپنی جوہری قومی یکجہتی کو برقرار رکھیں گے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
مریم نواز کی اسلام آباد میں میڈیا ٹاک
?️ 15 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)نائب صدر مسلم لیگ (ن) مریم نواز نے کہا
ستمبر
ریاض اور صیہونی حکومت کے تعلقات کا فلسطینی ریاست کی تشکیل پر کوئی اثر نہیں
?️ 2 اکتوبر 2023سچ خبریں:عبدالرحمن الراشد نے بتایا کہ سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ
اکتوبر
لاس اینجلس میں لگی آگ
?️ 11 جنوری 2025سچ خبریں: منگل کو لاس اینجلس کے مختلف علاقوں میں آگ لگنا
جنوری
کیا ٹیکس اہداف کے حصول میں ناکامی پر منی بجٹ آئے گا؟
?️ 3 نومبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) عالمی مالیاتی فنڈ پاکستان کی معاشی پیش رفت
نومبر
اعلیٰ اسرائیلی جنرل: غزہ پر قبضہ حماس کو ہتھیار ڈالنے کا سبب نہیں بنے گا
?️ 7 ستمبر 2025سچ خبریں: اسرائیلی فوج کے آپریشنز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ نے کہا کہ
ستمبر
زیلنسکی اور کیر اسٹارمر کے درمیان لندن میں ملاقات
?️ 25 اکتوبر 2025سچ خبریں: یوکرین کے صدر وولوڈیمیر زیلنسکی نے لندن میں یوکرین کے
اکتوبر
صیہونیوں کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کی عدم تعمیل
?️ 27 فروری 2025سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے
فروری
ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر علی محمد خان کا رد عمل سامنے آگیا
?️ 30 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر مملکت علی محمد
جنوری