?️
سچ خبریں:امریکی حکومت بڑھتے ہوئے قرضوں، بلند شرح سود اور جنگ کے اخراجات کے باعث شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔ امریکی وزارت خزانہ نے بانڈز کی دوبارہ خریداری کو دوگنا کرکے 4 ارب ڈالر فی کارروائی کر دیا ہے۔
امریکی حکومت اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے ہر سال بڑی مقدار میں قرض لیتی ہے، لیکن اب بانڈز پر بڑھتی ہوئی شرح منافع کے باعث ان قرضوں کی لاگت میں اضافہ ہو گیا ہے اور یہ صورتحال ٹرمپ حکومت کے لیے ایک بڑے چیلنج میں تبدیل ہو گئی ہے۔
امریکی وزارت خزانہ نے بانڈز کی منڈی کو سہارا دینے کے لیے بانڈز کی دوبارہ خریداری کی مقدار دوگنا کرکے ہر کارروائی میں 4 ارب ڈالر کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ حکومت منڈی سے بانڈز خرید کر نقدی کی دستیابی میں اضافہ کرے اور بانڈز پر شرح منافع میں مزید اضافے کے دباؤ کو کم کرے۔
اس اقدام کی اہمیت سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ بانڈز پر منافع دراصل وہ شرح سود ہے جو سرمایہ کار کو بانڈ خریدنے کے بدلے حاصل ہوتی ہے اور حکومت کے لیے یہی شرح قرض حاصل کرنے کی لاگت بھی شمار ہوتی ہے۔ جتنا زیادہ بانڈز پر منافع بڑھے گا، حکومت کو اپنے قرضوں کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے اتنی ہی زیادہ رقم ادا کرنا پڑے گی۔
مثال کے طور پر اگر حکومت 4 فیصد شرح منافع کے ساتھ بانڈ جاری کرے، لیکن چند ماہ بعد خریداروں کو راغب کرنے کے لیے اسے نئے بانڈ 5 فیصد شرح منافع پر جاری کرنا پڑیں تو اس کا مطلب ہے کہ حکومت کے لیے قرض لینے کی لاگت بڑھ گئی ہے۔ 31 جولائی کو امریکہ کے 30 سالہ بانڈز پر منافع 5.27 فیصد تک پہنچ گیا، جو 2007 کے بعد بلند ترین سطح تھی اور 2020 میں کورونا وبا کے دوران ریکارڈ کی گئی کم ترین سطح کے مقابلے میں تقریباً 4.5 فیصد پوائنٹ زیادہ تھی۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکی مرکزی بینک نے جولائی کے اجلاس میں شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ سال کے آغاز میں منڈی کو توقع تھی کہ 2026 میں شرح سود میں 3 مرتبہ کمی کی جائے گی، لیکن بعد میں یہ توقع تبدیل ہو گئی اور یہاں تک کہ شرح سود میں 2 مرتبہ اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا جانے لگا۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور افراط زر کے خدشات نے بھی بانڈز کی منڈی پر دباؤ بڑھا دیا۔
امریکی حکومت کو ان عوامل کے علاوہ بڑے بجٹ خسارے کا بھی سامنا ہے اور اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے وہ مسلسل نئے بانڈز جاری کر رہی ہے۔ جب قرضوں کی فراہمی زیادہ ہو اور سرمایہ کار بھی بلند شرح سود کی توقع کر رہے ہوں تو حکومت کو خریداروں کو راغب کرنے کے لیے زیادہ منافع کی پیشکش کرنا پڑتی ہے۔
ایسی صورتحال میں امریکی وزارت خزانہ پرانے اور کم نقدی والے بانڈز خرید کر منڈی میں ایک بڑے اور مستحکم خریدار کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس اقدام سے سرمایہ کاروں کے لیے بانڈز فروخت کرنا آسان ہو سکتا ہے اور بانڈز پر منافع میں اضافے کے دباؤ کو کم کیا جا سکتا ہے۔ 4 ارب ڈالر کی دوبارہ خریداری 9 ستمبر سے 4 نومبر تک جاری رہے گی اور وزارت خزانہ مستقبل میں ہونے والی دوبارہ خریداریوں کے بارے میں مزید معلومات بھی جاری کرے گی۔
امریکی حکومت کے لیے اس معاملے کی حساسیت کی وجہ قرضوں کی بھاری لاگت ہے۔ حکومت نے گزشتہ 12 ماہ کے دوران صرف اپنے قرضوں کے سود کی مد میں تقریباً 1.4 ٹریلین ڈالر ادا کیے ہیں اور توقع ہے کہ نومبر 2028 تک یہ رقم بڑھ کر سالانہ 1.7 ٹریلین ڈالر ہو جائے گی۔ لہٰذا شرح سود اور بانڈز پر منافع جتنا زیادہ برقرار رہے گا، حکومت کے قرضوں کی لاگت بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی جائے گی۔
امریکی قرضوں کے سود کی ادائیگی کی لاگت میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے 5 سالہ بانڈز پر منافع کو 3.25 فیصد تک کم ہونا ضروری ہے۔ یعنی ان بانڈز پر منافع میں 1.1 فیصد کمی آنا ضروری ہے تاکہ امریکی حکومت کے قرضوں پر سالانہ سود کی لاگت 1.4 ٹریلین ڈالر کی موجودہ سطح پر برقرار رہ سکے۔
بانڈز پر منافع میں اضافہ صرف حکومت کے لیے مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کے اثرات عوام اور کمپنیوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ امریکی خزانے کے بانڈز کی شرح منافع قرضوں کی شرح طے کرنے کے بنیادی پیمانوں میں سے ایک ہے اور جب یہ شرح بڑھتی ہے تو رہن اور دیگر قرضوں کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔ اسی وجہ سے اگر یہ رجحان جاری رہا تو امریکہ میں رہن کے قرضوں کی شرح 7 فیصد سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔
مجموعی طور پر امریکی بانڈز کی منڈی ملکی معیشت کے لیے دباؤ کے اہم ترین مراکز میں سے ایک بن گئی ہے اور وزارت خزانہ کی جانب سے بانڈز کی دوبارہ خریداری کو دوگنا کرنے کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی حکومت کو اپنی بڑھتی ہوئی مالیاتی لاگت پر قابو پانے کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔


مشہور خبریں۔
افغانستان میں مسلسل دو دھماکے، متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے
?️ 15 مارچ 2021کابل (سچ خبریں) ایک طرف جہاں امریکہ اور طالبان کے مابین امن
مارچ
کیا حزب اللہ کے میزائل ذخائر اور مزاحمتی قوت ختم ہو چکی ہے؟
?️ 31 دسمبر 2024سچ خبریں:حزب اللہ کی سیاسی کونسل کے نائب صدر محمود قماطی نے
دسمبر
وینزویلا کے نکولس مادورو تیسری بار منتخب
?️ 29 جولائی 2024سچ خبریں: وینزویلا کی نیشنل الیکٹورل کونسل نے اعلان کیا کہ 80% ووٹوں
جولائی
جوہر ٹاؤن دھماکے کی تحقیقات میں اہم کامیابی ملی ہے: شیخ رشید
?️ 24 جون 2021لاہور (سچ خبریں) وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے
جون
امریکا کا وینزویلا کے خلاف فوجی کارروائی کے بجائے معاشی دباؤ میں اضافہ
?️ 26 دسمبر 2025امریکا کا وینزویلا کے خلاف فوجی کارروائی کے بجائے معاشی دباؤ میں
دسمبر
اسلامی جہاد: مزاحمت کا ہتھیار فلسطینی عوام کا ہے اور رہے گا
?️ 11 نومبر 2025سچ خبریں: اسلامی جہاد کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے فتح اور آزادی
نومبر
خطہ کے عدم استحکام کی جڑ صیہونی ہیں:ایران
?️ 10 اپریل 2022سچ خبریں:ایران کے وزیر خارجہ نے متحدہ عرب امارات کے اپنے ہم
اپریل
’انڈیا اور بنگلہ دیش میں کوئی فرق نہیں‘، محبوبہ مفتی کے بیان پر تنازع
?️ 21 دسمبر 2024سرینگر: (سچ خبریں) جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کے
دسمبر