?️
سچ خبریں: پاکستان تحریک انصاف کے صدر چوہدری پرویز الٰہی کو رہا ہوئے ڈیڑھ ماہ ہو چکا ہے لیکن وہ اب تک پی ٹی آئی کے کسی اجلاس یا سرگرمی میں نظر نہیں آئے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت نے ان کی رہائی کے بعد کسی سرگرمی کا انعقاد نہیں کیا اور نہ ہی کسی رہنما نے ان سے ملاقات کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چوہدری پرویز الٰہی، مونس الٰہی اور عمران خان کےدرمیان ویڈیو لنک پر بات چیت
پی ٹی آئی کے رہنما اس تاثر کو برقرار رکھے ہوئے ہیں کہ چوہدری پرویز الٰہی بیمار ہیں جس کی وجہ سے وہ سیاسی سرگرمیوں سے دور ہیں، تاہم سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اتنے بیمار نہیں ہیں کہ لاتعلق ہو جائیں، بلکہ وہ شادی بیاہ کی تقریبات میں بھی شریک ہو رہے ہیں۔
چند روز قبل گجرات میں ایک شادی کی تقریب میں ان کی شرکت کی تصاویر منظر عام پر آئیں تھیں، جہاں انہوں نے مقامی میڈیا سے مختصر گفتگو بھی کی، اس گفتگو میں انہوں نے کہا کہ جن افراد نے ان کا مینڈیٹ چوری کیا، انہیں معافی مانگنی پڑے گی۔
اس سے قبل چوہدری پرویز الٰہی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے، تاہم، 21 مئی کو رہائی کے بعد سے انہوں نے سیاست یا پی ٹی آئی کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔
سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی خاموشی نے ان تبصروں کو تقویت دی ہے کہ وہ کسی ڈیل کے نتیجے میں باہر آئے ہیں اور اسی وجہ سے خاموش ہیں، پی ٹی آئی کے ایک اور سابق سینئر رہنما فواد چوہدری، جو پرویز الٰہی کے ساتھ اڈیالہ جیل میں قید رہ چکے ہیں، بھی ان کی حالیہ صورتحال کے بارے میں لاعلم ہیں۔
فواد چوہدری نے کہا کہ ان کا چوہدری پرویز الٰہی سے کوئی رابطہ نہیں ہوا اور انہیں معلوم نہیں کہ وہ کیوں خاموش ہیں، ان کا خیال ہے کہ شاید وہ بیماری کی وجہ سے خاموش ہیں۔
چوہدری پرویز الٰہی کے کزن اور موجودہ حکومت کے اتحادی چوہدری شجاعت حسین کے قریبی حلقے دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کی رہائی میں چوہدری شجاعت حسین نے کردار ادا کیا ہے، اسی لیے فی الحال وہ خاموش ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ ق کے پنجاب سے ایک رہنما نے بتایا کہ چوہدری پرویز الٰہی کی صحت اچھی ہے اور وہ اپنے قریبی ساتھیوں سے مل جل رہے ہیں اور تقریبات میں شریک ہو رہے ہیں۔
تاہم، وہ سیاسی طور پر اس لیے خاموش ہیں کیونکہ وہ باقاعدہ بات چیت کے ذریعے جیل سے باہر آئے ہیں اور اس میں چوہدری شجاعت حسین نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔
اردو نیوز نے چوہدری پرویز الٰہی سے بات کرنے کے لیے ان کی لاہور میں رہائش گاہ پر ٹیلی فون کیا تو وہاں سے آپریٹر نے بتایا کہ چوہدری صاحب ان دنوں فون پر کسی سے بات نہیں کرتے۔
ان کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی کی سرگرمیاں محدود ہیں اور وہ نہ تو زیادہ لوگوں سے ملتے ہیں اور نہ ہی فون پر بات کرتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان رؤف حسن نے بھی واضح طور پر نہیں بتایا کہ چوہدری پرویز الٰہی کب پارٹی کی سطح پر سیاسی سرگرمیاں شروع کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت اس موضوع سے زیادہ اہم باتیں زیر بحث لائی جا سکتی ہیں۔
رؤف حسن نے کہا کہ پرویز الٰہی بدستور پارٹی کے صدر ہیں اور ان کی غیر حاضری کے بارے میں بعد میں بات کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پرویز الٰہی کے بیٹے چوہدری مونس الٰہی پارٹی میں ان کے خاندان کی نمائندگی کر رہے ہیں اور کور کمیٹی کے رکن ہیں۔
مزید پڑھیں: مسلم لیگ ق کی پارلیمانی پارٹی کا چوہدری پرویز الٰہی کی قیادت پر اعتماد کا اظہار
تاہم، پی ٹی آئی کے ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ کیا پارٹی کی موجودہ قیادت میں سے کوئی رہنما چوہدری پرویز الٰہی کی رہائی کے بعد ان سے ملنے گیا۔


مشہور خبریں۔
افغان میڈیا کے لیے طالبان کی نئی ہدایات
?️ 22 نومبر 2021سچ خبریں:طالبان کی اچھائیوں کوفروغ دینے اور برائیوں سے روکنے والی وزارت
نومبر
جنگ کا مستقل خاتمہ صرف ایک شرط پر
?️ 12 مئی 2025سچ خبریں: محمد الہندی، فلسطینی جہاد اسلامی تحریک کے نائب سیکرٹری جنرل،
مئی
اپوزیشن کیجانب سے تنقید کی پرواہ نہیں، میرا مقصد کام کرنا ہے:عثمان بزدار
?️ 16 مارچ 2021لاہور(سچ خبریں) سنٹر ہسپتال لاہور میں صحافیوں میں جواب میں وزیر اعلی
مارچ
صیہونی حکومت کے ہاتھوں بچوں کے قتل کے اعدادوشمار کا انکشاف
?️ 9 جون 2024سچ خبریں: غزہ حکومت کے انفارمیشن آفس نے ایک بیان جاری کرتے
جون
ہیٹی کو دی گئی امداد کی لوٹ مار
?️ 27 ستمبر 2022سچ خبریں:ورلڈ فوڈ پروگرام کا کہنا ہے کہ 30 دنوں سے بھی
ستمبر
ہماری حکومت بھارت سے دوستانہ تعلقات کی خواہشمند ہے: وزیر خارجہ
?️ 4 اپریل 2021ملتان(سچ خبریں)وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہماری حکومت
اپریل
سعودی عرب میں درجنوں قیدیوں کا نامعلوم انجام
?️ 9 جنوری 2022سچ خبریں: انسانی حقوق کی تنظیم سندھ نے سعودی حکام کی جیلوں
جنوری
یمن کے نہتے عوام کے خلاف سعودی اتحاد کی نئی بربریت
?️ 23 نومبر 2021سچ خبریں: سعودی حکومت کے ٹیلی ویژن نے یمنی دارالحکومت صنعا کے علاقوں
نومبر