آئندہ تاریخوں پر عمران خان کو عدالتوں میں پیش ہونا پڑے گا ورنہ پیش کردیا جائے گا، وزیر داخلہ

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ آنے والی تاریخوں پر انہیں عدالتوں میں پیش ہونا پڑے گا ورنہ انہیں عدالتوں میں پیش کردیا جائے گا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ  نے کہا کہ الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے سربراہ پی ڈی ایم  مولانا فضل الرحمٰن  نے جو بیان دیا ہے وہ ان کی ذاتی رائے ہے، اس حوالے سے پی ڈی ایم کا اجلاس ہونے جا رہا ہے تو اگر فورم اس رائے کی تائید کرتی ہے، وفاقی کابینہ بھی اس حوالے سے اپنا مؤقف دے سکتی ہے۔

 رانا ثنا اللہ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے موجودہ حالات کے تناظر میں مولانا فضل الرحمٰن کی یہ رائے بے محل نہیں ہے، اس میں وزن ہے، آج جس طرح سے بلوچستان میں یہ دھماکا ہوا تو ان حالات میں انتخابی مہم چلانا تو ممکن نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کروانے کا حتمی فیصلہ حکومت نے نہیں بلکہ الیکشن کمیشن نے کرنا ہے، الیکشن کمیشن پابندی لگادے کہ کوئی جلسہ جلوس، کوئی ریلی نہیں ہوگی، نہ کسی بند کمرے میں بے لگام بکواس ہوگی، نہ گالی گلوچ، دشنام طرازی اور اداروں پر الزام تراشی ہوگی اور جو ان پابندیوں کی خلاف ورزی کرے گا، اس کو نا اہل قرار دیا جاے گا تو پھر الیکشن کرانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ کل پولیس ٹیم عمران خان کے وارنٹ گرفتاری لے کر لاہور گئی تو پی ٹی آئی نے بڑا ڈراما کیا، پہلے وہ دیوار پھلانگ کر ہمسائے کے گھر چلے گئے اور کہا گیا کہ وہ گھر پر نہیں ہیں، تلاشی لے لی جائے، اس کے کچھ دیر بعد انہوں نے وہاں آکر لمبی چوڑی تقریر بھی جھاڑ دی۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ اگر پولیس نے انہیں گرفتار کرنا تھا تو پھر اس طرح سے جانا کوئی مناسب حکمت عملی نہیں تھی، پولیس اس مقصد سے گئی تھی کہ انہیں عدالتی حکم سے آگاہ کیا جائے، اگر وہ خود چاہتے تو عدالتی حکم کے مطابق گرفتاری دے سکتے تھے یا یہ کہہ سکتے تھے کہ میں مقرہ تاریخ پر عدالت میں پیش ہوجاؤں گا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کے جانے کا مقصد عدالتی حکم کی موثر تعمیل تھا، انہوں نے آگے سے اپنی روایت کے مطابق نئے نئے ڈرامے شروع کردیے جو رات تک جاری رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جس دن عمران خان کو گرفتار کرنا اور عدالت میں پیش کرنا ہوا، اور یہ چیز اب زیادہ دور نہیں ہے، اس دن انہیں پیش کردیا جائے گا تاکہ وہ اپنے کے کا سامنا کریں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ عمران خان کے خلاف کچھ چیزیں بہت واضح ہیں جیسا کہ انہوں نے ایک پراپرٹی ٹائیکون کے ضبط پیسے واپس کرکے 50 ارب روپے کا قومی خزانے کو ٹیکا لگایا اور اس کے بدلے میں 5 ارب روپے کی زمین لے لی۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ جب یہ دوسروں کے خلاف کرپشن کا جعلی ماتم کر رہا تھا اس وقت کی فرنٹ پرسن فرح گوگی اربوں روپے باہر منتقل کر رہی تھی، اتنا دو نمبر آدمی جھوٹی تقریر کرتا ہے، آج انہوں نے ان الزامات کا جواب نہیں دیا، انہیں جھٹلایا نہیں ہے، توشہ کی جعلی رسیدیں بنائیں اور کہتا ہے کہ میرے خلاف ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں ہوسکی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ان تمام باتوں کا عمران خان کو عدالتوں میں جواب دینا پڑے گا، ہمیں انہیں گرفتار کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے لیکن انہیں عدالت میں پیش ہونا پڑے گا، عدالت میں آئے اور الزامات کا جواب دے، عدالت اسے بری کردے، ہم تسلیم کریں گے اور اگر عدالت سزا دیتی ہے تو پھر یہ سزا بھگتے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو دوسروں کو سزائیں دلانے کا تو بڑا شوق تھا، اب اپنی باری آئی ہے تو عدالتوں کا سامنا کرے، عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کرے، یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ وہ کہے کہ میں عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گا، آئندہ آنے والے تاریخوں میں انہیں عدالتوں میں پیش ہونا پڑے گا ورنہ انہیں عدالتوں میں پیش کردیا جائے گا۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ کل پولیس کا زمان پارک جانا عدالتی حکم کی تعمیل تھا، وہ مقصد پورا ہوگیا، اب اگر عدالت میں پیش نہیں ہوئے تو طریقہ کار مختلف بھی ہوسکتا ہے۔

اس سوال پر کے جمعے کے روز اسحٰق ڈار نے کہا کہ انہیں طارق باجوہ نے بتایا کہ انہیں ایک سیکیورٹی ایجنسی نے بتایا کہ ایک سیکیورٹی وین میں 2 ارب ڈالر یہاں سے پشاور گئے، وزیر داخلہ نے کہا کہ اس معاملے کی جتنی تفصیل وزیر خزانہ نے بیان کی ہے، میرے خیال میں اس سے زیادہ بیان کرنا میری پوزیشن کے لیے مناسب نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں ڈالر کی کمی بد بخت عمرانی ٹولے کے ملک پر مسلط رہنے کی وجہ سے ہے، اس کے علاوہ ہر شخص نے کاروبار چھوڑ کر ڈالر لے کر رکھ لیے ہیں اور ہم پوری کوشش کے باوجود افغان بارڈر پر ڈالر کی اسمگلنگ روک نہیں سکے، ڈالر بوریوں میں بھر کر جا رہے ہیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ اس کی وجہ ملک میں اور افغانستان میں ڈالر کا بڑا واضح فرق تھا، ملک کو اس طرح کے مسائل کا سامنا ہے ، اس میں حکومت یا وزیر خزانہ کا قصور نہیں ہے، ملوث لوگوں کے نام سامنے آنے کے ساتھ انہیں قانون کے کٹہرے میں پیش کیا جائے گا۔

رانا ثنااللہ نے بلوچستان کے ضلع بولان میں کنبڑی پُل کے قریب بلوچستان کانسٹیبلری کے ٹرک کے نزدیک خودکش دھماکے میں 9 پولیس اہلکاروں کی شہادت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا قلعہ قمع کرنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی گئی ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا مشکل معاشی صورتحال اور حکومت کے کفایت شعاری کے حوالے سے اقدامات کے باجود دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کو مطلوبہ وسائل فراہم کیے جائیں گے۔

مشہور خبریں۔

بائیڈن کو ابھی تک یقین نہیں آیا کہ آیا غزہ میں کوئی جنگی جرم ہوا ہے!

?️ 5 جون 2024سچ خبریں: امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکی ٹائم میگزین سے گفتگو میں

سام سنگ کا گلیکسی ڈیوائسز میں اے آئی ٹولز دینے کا اعلان

?️ 17 اپریل 2024سچ خبریں: اسمارٹ فونز اور ڈیوائسز تیار کرنے والی جنوبی کورین کمپنی

بین الاقوامی سطح پر مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے

?️ 7 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ

برطانوی وزیر اعظم کا سال میں اپنے ملک کے مسائل کے جاری رہنے کا انتباہ

?️ 31 دسمبر 2022سچ خبریں:    ایک ویڈیو تقریر میں جس میں وہ اکثر متعصبانہ

نیٹ میٹرنگ ختم ، نئی سولر پالیسی میں بجلی واپس خریدنے کی شرح طے کرلی گئی

?️ 14 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) نیٹ میٹرنگ ختم،نئی سولر پالیسی میں بجلی واپس

الیکشن کمیشن کا چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو ایک بار پھر مراسلہ ارسال

?️ 28 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) لیول پلیئنگ فیلڈ کی عدم دستیابی کا معاملہ

یورپیوں کی روس مخالف پابندیاں انہیں کے گلے پڑ گئیں:ہنگری

?️ 10 ستمبر 2022سچ خبریں:ہنگری کی صدر نے اعلان کیا کہ یورپی ممالک کی طرف

وزیر اعظم کی 20 پولینگ اسٹشینوں پر پھر سے انتخابات کی مانگ

?️ 23 فروری 2021ڈسکہ(سچ خبریں) سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے