پاکستان کی سلامتی کو سب سے بڑا خطرہ کیا ہے؟

پاکستان کی سلامتی کو سب سے بڑا خطرہ کیا ہے؟

?️

سچ خبریں: فاروق ستار نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران کہا کہ روایتی بجٹ ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہے

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی سلامتی اور بقا کے لیے سب سے بڑا خطرہ روایتی بجٹ کا تسلسل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بحران سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور استحکام آ گیا ہے، اسحٰق ڈار

انہوں نے کہا کہ بجٹ 2024-2025 حال ہی میں پیش کیا گیا ہے، اور وہ ایک ایسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں جو حکومت کی حلیف ہے، لیکن ان کے درمیان جو سمجھوتا ہے، وہ یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کو سچ بولنے سے نہیں روکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بجٹ روایتی بجٹ ہے اور 77 سالوں سے پاکستان میں جو اسٹیٹس کو قائم ہے، یہ اسی کا تسلسل ہے۔

بجٹ پر تنقید

فاروق ستار نے کہا کہ حکومت مالیاتی مسائل اور قرضوں کا بہانہ بناتی ہے، لیکن اگر چاہیں تو راستہ نکالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے دور کے چار بجٹوں کو بھی اسی اسٹیٹس کو کا حصہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو ایک ہی طرح کے بجٹ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اگر عوام دوست بجٹ نہ بنایا گیا تو ملکی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہی روایتی بجٹ ہوگا۔

معاشی مسائل پر روشنی

فاروق ستار نے کہا کہ جاگیرداروں کو رعایت دی جاتی رہی ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی بھرمار کی جاتی ہے۔ پوری دنیا میں غریب آدمی پر ٹیکس کم کیا جا رہا ہے، مگر یہاں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔ بجلی اور گیس نہیں آتی مگر ان کے بل آتے ہیں۔ پانی کا بحران بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے مہنگائی اور بے روزگاری کی شرح پر بھی تنقید کی اور کہا کہ معیشت جمود کا شکار ہے، قیمتیں بڑھ رہی ہیں مگر ترقی نہیں ہو رہی۔

کراچی کے مسائل

فاروق ستار نے بحریہ ٹاؤن کی زمین اور اس پر لگائی گئی پینلٹی کی رقم کے حوالے سے کہا کہ یہ پیسے کراچی کے انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کے لیے مخصوص ہونے چاہیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 15 سالوں سے کراچی کو پانی نہیں دیا گیا اور کے 4 منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔

مزید پڑھیں: بجٹ 2025-2024: حکومت کا امیروں کے لیے ٹیکس استثنٰی واپس لینے کی تجویز پر غور

قبل ازیں قائد حزب اختلاف کا خطاب

قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے بھی ایوان سے خطاب کیا اور پنجاب میں دفعہ 144 کے نفاذ پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کے ’فری عمران خان‘ احتجاج کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے حقوق کی خلاف ورزی ہے اور ہمیں فاشسٹ ریاست کی طرح محسوس ہو رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

کیا پاکستان صیہونی حکومت کو تسلیم کرنے والا ہے؟

?️ 30 ستمبر 2023سچ خبریں: پاکستان کے عبوری وزیر خارجہ نے یہ کہتے ہوئے کہ

عراقی صدر کی ثالثی میں ترکی اور شام کے انٹیلی جنس عہدیداروں کی ملاقات متوقع

?️ 26 ستمبر 2021سچ خبریں:عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کی ثالثی میں بغداد میں ترکی

9 سال کے بعد پاکستان اور ترکی کے درمیان پھر چلے گی ٹرین

?️ 1 مارچ 2021لاہور(سچ خبریں)9 سال کے طویل وقفے کے بعد 4 مارچ سے پاکستان

امریکا کو افغانستان سے فوجی اںخلا معاہدے پر عمل کرنا چاہیے

?️ 29 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں)دفترخارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے افغانستان میں پائیدار

پولینڈ نے صہیونی حکومت کے کاردار کو طلب کر لیا

?️ 21 مئی 2026سچ خبریں: پولینڈ کے وزیر خارجہ نے صمود قافلے کے کارکنوں کی

امریکہ کی یوکرین کو قرضے کی فراہمی

?️ 10 مئی 2022سچ خبریں:امریکی صدر نے یوکرین کو فوجی امداد میں تیزی لانے کے

افغانستان کو انسانی امداد میں کمی کی وجہ سے مشکل کا سامنا

?️ 7 اپریل 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امداد OCHA نے

صیہونیوں کا امریکہ پر شام کو کمزور رکھنے کے لیے دباؤ

?️ 1 مارچ 2025 سچ خبریں:باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ صیہونی حکومت امریکی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے