27 ویں آئینی ترمیم کے بعد 3 اہم آئینی اور عدالتی اداروں کی تشکیل نو کردی گئی

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد اہم آئینی اور عدالتی اداروں کی تشکیلِ نو کر دی گئی ہے۔

ان تبدیلیوں کے تحت سپریم کورٹ کے جج جسٹس جمال خان مندوخیل کو سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) اور پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا رکن بنایا گیا ہے، جبکہ وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) کے جج جسٹس عامر فاروق کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) میں شامل کر لیا گیا ہے۔

تین اہم قانونی اداروں میں سپریم جوڈیشل کونسل ججوں کے احتساب کا سب سے بڑا فورم ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی بینچز بنانے اور مقدمات مقرر کرنے کی ذمہ دار ہے، جبکہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی کرتی ہے۔

ان اداروں کی تشکیل نو 27ویں ترمیم کے مطابق ضروری تھی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ آئینی ڈھانچے میں تبدیلی کے بعد ان اداروں کو نئے قواعد کے مطابق دوبارہ تشکیل دیا گیا ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق سپریم کورٹ کے دوسرے سینئر ترین جج جسٹس جمال مندوخیل کو چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے مشترکہ طور پر سپریم جوڈیشل کونسل کا رکن نامزد کیا ہے۔

اب سپریم جوڈیشل کونسل کے اراکین میں چیف جسٹس آف پاکستان، وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان، جسٹس منیب اختر، جسٹس حسن اظہر رضوی، لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس جمال مندوخیل شامل ہوں گے۔

ترمیم کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کی سربراہی چیف جسٹس آف پاکستان یا وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس میں سے سینئر ترین جج کرے گا، اور اس صورت میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی ہی اس کے سربراہ رہیں گے۔

مزید یہ کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں بھی جسٹس جمال مندوخیل کو شامل کر لیا گیا ہے، اب یہ کمیٹی چیف جسٹس، جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال مندوخیل پر مشتمل ہو گی۔

اسی طرح وفاقی آئینی عدالت کے دوسرے سینئر جج جسٹس عامر فاروق کو چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت نے مشترکہ طور پر جوڈیشل کمیشن کا رکن نامزد کیا ہے۔

اب جوڈیشل کمیشن آف پاکستان میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی، وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان، جسٹس منیب اختر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عامر فاروق، اٹارنی جنرل، وفاقی وزیر قانون، پاکستان بار کونسل کے نمائندے احسن بھون، قومی اسمبلی کے 2 ارکان، سینیٹ کے 2 ارکان اور ایک خاتون یا غیر مسلم رکن (جسے اسپیکر نامزد کریں گے) شامل ہوں گے۔

پریس ریلیز کے مطابق یہ ادارے اب نئے آئینی ڈھانچے کے تحت احتساب، عدالتی تعیناتیوں اور عدالتی انتظامی امور میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

یہ تبدیلیاں اس پس منظر میں سامنے آئی ہیں کہ 27ویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کا بڑا ڈھانچہ تبدیل کر دیا گیا ہے، اس ترمیم کے نتیجے میں وفاقی آئینی عدالت کا قیام عمل میں آیا ہے، جس پر اپوزیشن اور کئی قانونی ماہرین نے تنقید کی ہے۔

ترمیم کے نافذ ہوتے ہی سپریم کورٹ کے دو ججز جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

آئی سی جے کا تحفظات کا اظہار

بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس (آئی سی جے) نے بھی ترمیم، خصوصاً وفاقی آئینی عدالت کی تشکیل، ججوں کی تقرری، جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی نئی ترتیب، ہائی کورٹ کے ججوں کے تبادلے اور صدر اور عسکری قیادت کو دیے گئے استثنیٰ پر اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔

آئی سی جے کے مطابق اس ترمیم کے بعد سپریم کورٹ بنیادی طور پر اپیل کا فورم رہ جائے گی اور آئینی تشریح کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہو جائے گا۔

آئی سی جے نے مزید کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کے پہلے جج کو وزیر اعظم کی ایڈوائس پر صدر مقرر کریں گے جبکہ مستقبل کی تعیناتیاں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی سفارش پر ہوں گی، لیکن ترمیم میں تعیناتی کے معیار یا اصول واضح نہیں کیے گئے۔

مشہور خبریں۔

لمبے عرصے بعد پاکستان کیلئے امریکی سفیر معین

?️ 20 اکتوبر 2021سچ خبریں:وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکا نے ڈونلڈ ارمن بلوم کو پاکستان

غزہ جنگ سے اسرائیل میں کاروں کی درآمد مفلوج

?️ 30 اپریل 2024سچ خبریں: اقتصادی اخبار گلوبز کے مطابق اسرائیل کی موجودہ صورتحال نے 2024

صیہونی حکومت کی سویدا میں جولانی کے ٹھکانوں پر بمباری 

?️ 17 جولائی 2025 سچ خبریں: صیہونی حکومت کے آرمی ریڈیو نے اس حکومت کے

وزیراعظم اور بلاول بھٹو کی ملاقات، ایران جنگ میں پاکستان کے کردار پر اعتماد میں لیا

?️ 25 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) خطے کی کشیدہ صورتحال اور قومی سلامتی کے

فرانس نے روس سے منسلک تیل بردار بحری جہاز کو کیا رہا 

?️ 18 فروری 2026 سچ خبریں:فرانسیسی حکام نے روس سے منسلک تیل بردار بحری جہاز

ہمارا ملک صیہونیوں کے تمام منصوبوں کی براہ راست مخالفت کرتا ہے: الجزائر کی حکمران پارٹی

?️ 26 اگست 2021سچ خبریں:الجزائر نیشنل لبریشن فرنٹ کے سیکرٹری جنرل نے صہیونی حکومت کے

غزہ پر بین الاقوامی قبضے اور ٹونی بلیئر کی صدارت کا کیا منصوبہ ہے؟

?️ 28 ستمبر 2025سچ خبریں: جیسے جیسے صہیونی ریاست غزہ میں اپنا نسل کشی مہم

اسرائیل نے کچھ وجوہات کی بنا پر اپنے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر کیے دستخط

?️ 2 نومبر 2021سچ خبریں: صہیونی تجزیہ کار روجیل الور نے عبرانی زبان کے اخبار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے