1993 سے 1996 کے دوران جب یہ پراپرٹیز خریدی جارہی تھیں اس میں مریم نواز کا کوئی کردار نہیں

?️

 اسلام آباد:(سچ خبریں )اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور محسن اختر کیانی نے مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی.

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ مریم نواز کی اپیل میرٹ پر سنیں گے ،انہوں نے اپنا کیس بنایا ہے کہ عدالتی فیصلے میں کیا قانونی سقم ہے ، اب آپ نے اس کا دفاع کرنا ہے ،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ عدالت نے لکھا کہ فیئر ٹرائل کا موقع ملنے کے بعد نوازشریف کو سز ا سنائی گئی ، مرکزی ملزم اب نہ عدالت کے سامنے ہے اور نہ ان کی اپیل موجود ہے ، نوازشریف کی اپیل ہمارے سامنے نہیں تو یہ مطلب نہیں کہ ان پر فرد جرم ٹھک ثابت ہوئی ہو گئی،نوازشریف کی اپیل میرٹ پر نہیں عدم حاضری پر خارج کی گئی تھی 

جسٹس عامر فاروق نے نیب پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ خود کو بند گلی میں لے کر جارہے ہیں ،آپ کہتے ہیں 2006 میں ٹرسٹ ڈیڈ سے مریم نواز کا کردار شروع ہوتا ہے ،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اثاثے بنانے میں معاونت کی تو پھر ٹرسٹ ڈیڈ کیلبری فونٹ کو چھوڑ کر 1993 سے چلیں ،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم اس معاملے کو 2006 میں ٹرسٹ ڈیڈ کے ساتھ لے کر چلیں گے ،جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ پھر تو 1993 میں مریم نواز کا کوئی کردار نہیں ہوا۔

نیب نے کہا کہ 1993 سے 1996 کے دوران جب یہ پراپرٹیز خریدی جارہی تھیں اس میں مریم نواز کا کوئی کردار نہیں ،جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ تو نیب کا موقف ہے کہ مریم نواز کا 1993 میں پراپرٹیز خریدنے ،چھپانے میں کوئی کردار نہیں ؟نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ جی بالکل اسی طرح ہی ہے ،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ ہم اپنی سمجھ کیلئے پوچھ رہے ہیں ٹریک کلیئر کر رہے ہیں جس پر آپ نے جانا ہے ، نیب نے کہا کہ مریم نواز نے 2006 میں مدد اور معاونت کی ،جسٹس عامر نے کہا کہآپ کہتے ہیں نوازشریف نے 1993 میں اثاثے خریدے ، چھپائے ،آپ نے پھر شواہد سے ثابت کرنا ہے انہوں نے اپنے والد کی مدد اور معاونت کیسے کی ؟

مریم نواز کے وکیل نے کہا کہ نیلسن اور نیسکول برٹش ورجن آئی لینڈ کے پاس رجسٹرڈ ہیں، امجد پرویز ایڈوکیٹ کا کہناتھا کہ نیلسن اور نیسکول نے 1993 ،1995اور 1996 میں اپارٹمنٹس خریدے، جسٹس عامر فاروق نے استفسارکیا کہ کیا ابھی ان اپیلوں سے یہ سوال متعلقہ ہے کہ یہ پراپرٹیز کیسے خریدی گئیں،اگر وہ پراپرٹیز خریدی گئیں تو پھر اس میں معاونت کا الزام آئے گا،ہم مفروضے پر نہیں جا سکتے، ہم نے حقائق کو دیکھنا ہے ،آپ نے ٹرائل کورٹ میں یہ ثابت کیا ہے تو وہ بتائیں ، جسٹس عامر کا نیب پراسیکیوٹر سے مکالمہ ، نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے کیسسز موجود ہیں کہ مرکزی ملزم بری ہو گیا مگر معاونت والوں کو سزا ہوئی، آپ ڈاکیو منٹ سے نوازشریف کا پراپرٹیز سے تعلق ثابت کریں ،جسٹس عامر فارق نے کہا کہ ہر کیس کے الگ حقائق ہو تے ہیں، ہم جو کیس سن ررہے اس کے حقائق دیکھیں گے ، ہم نے اس کیس میں مریٹ پر فیصلہ نہیں دیا ، پہلے نیب نے یہ ثابت کرناہے کہ یہ پراپرٹیز نوازشریف نے خریدیں ۔

مشہور خبریں۔

میانمار میں انسانی حقوق کی تباہی، اقوام متحدہ حیران

?️ 11 دسمبر 2021سچ خبریں:   اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور او

جو بائیڈن کے خلاف ڈاکٹر جِل پر بڑھاپے کے استحصال کا مقدمہ دائر

?️ 22 مئی 2025سچ خبریں: ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکی محکمہ انصاف کے معروف

توشہ خانہ انکشافات: عمران خان کا برطانیہ اور امارات میں بھی قانونی کارروائی کرنے کا اعلان

?️ 16 نومبر 2022لاہور: (سچ خبریں) سابق وزیراعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان

دیکھا آپ نے امریکہ میں احتجاج کرنے والے طلباء کے ساتھ کیا ہوا؟: میکسیکو

?️ 28 اپریل 2024سچ خبریں: میکسیکو کے صدر نے غزہ کی حمایت میں مظاہرے کرنے

گرین لینڈ اور ڈنمارک کے درمیان تنازعہ تلاش کرنے کی کوشش؛ امریکی ناظم الامور کو طلب کر لیا گیا

?️ 27 اگست 2025سچ خبریں: ڈنمارک میں واقع "گرین لینڈ” کے خود مختار علاقے میں

سعودی آرامکو پر حملے کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

?️ 26 مارچ 2022سچ خبریں:  یمنی مسلح افواج کے سعودی ٹھکانوں اور جدہ میں آرامکو

اسلام آباد: بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے پر الیکشن کمیشن کو عدالت کو مطمئن کرنے کی ہدایت

?️ 29 دسمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو اسلام

ہمارا مقصد فلسطینی ریاست کا قیام ہے: جرمنی

?️ 22 ستمبر 2025سچ خبریں: جرمنی کے وزیر خارجہ نے پیر کے روز اپنے ایک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے