ہم افغانستان کی حکومت کیساتھ تعاون کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں: بابر افتخار

بھارتی آرمی چیف کے بیان پر میجر جنرل بابر افتخار کا ردعمل

?️

 

راولپنڈی (سچ خبریں) ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل بابرافتخار کا کہنا ہے کہ ہم افغانستان کی حکومت کیساتھ تعاون کرنے کاارادہ رکھتے ہیں، انتظار کرنا ہوگا کہ افغانستان میں کیسی حکومت بنتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں افغانستان سے 113فلائٹس پاکستان آچکی ہیں، تاہم پاک افغان بارڈر پر صورتحال معمول کے مطابق ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل بابرافتخار نے افغانستان کی صورتحال پر میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں افغان امن عمل پر کیا ہوا اس کے بجائے موجودہ صورتحال سمیت فوجی پہلو پر بات کروں گا، شہدائے پاکستان ہمارا فخر ہیں، افغان صورتحال کے تناظر میں سکیورٹی اقدامات کئےہیں، پاکستان کی طرف سےبارڈرسیف اینڈ سیکیور ہیں۔

موجودہ صورتحال کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال غیرمتوقع تھی ، طالبان کے خوف میں افغان فوجیوں نےبھی ہم سےمحفوظ راستہ مانگا ، صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام چیک پوائنٹس پر دستے تعینات کئے،پاکستان میں امن کےلئے مناسب اقدامات کئے گئے ہیں۔

پاک افغان بارڈر پر صورتحال سے متعلق میجرجنرل بابرافتخار نے بتایا کہ 15اگست کی صورتحال کے بعد بارڈر کھولے گئے ، بارڈر اس لئے کھولے کہ افغانستان ایک لینڈ لاکڈ ملک ہے ، موجودہ صورتحال میں افغانستان سے 113فلائٹس پاکستان آچکی ہیں، تاہم پاک افغان بارڈر پر صورتحال معمول کے مطابق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سرحد پرنقل وحرکت کوپہلےہی کنٹرول کرلیاتھا لیکن موجودہ صورتحال افغانستان کے بعد سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوا، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نے 86 ہزار جانوں کا نذرانہ دیا اور دہشتگردی کے باعث مشرقی سرحد پر 3بار کشیدگی کا سامنا رہا ، مشرقی سرحد پر 12312 سیزفائرکی خلاف ورزیاں ہوئیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بارڈر پر کئے گئے اقدامات کے حوالے سے کہا کہ ہم نےپاک افغان بارڈرکیلئےبہترین اقدامات کیے، پاک افغان بارڈر پر 78کراسنگ پوائنٹس ہیں، ماضی میں افغان حکومت کیساتھ بارڈرمینجمنٹ پر بات کرتے رہےہیں، لیکن غیر مؤثر بارڈر مینجمنٹ کے باعث دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہے۔

میجرجنرل بابرافتخار کا کہنا تھا کہ ملٹری قیادت کی جانب سے افغانستان کے 7اعلیٰ سطح دورے کئے گئے ، آرمی چیف نے 4بار دورہ کیا ، ہم نے انٹیلی جنس شیئرنگ کی پیشکش کی، افغانستان سیکیورٹی فورسز کو ٹریننگ سہولت کی پیشکش بھی کی گئی لیکن افغانستان نے اپنے ہزاروں فوجیوں کو بھارت سےٹریننگ دلانے پرترجیح دی،بھارتی فوج کے افسران بھی تربیت کیلئے افغانستان آتے رہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ افغانستان کی مدداس لئے کرنا چاہتے تھے کیونکہ پاکستان کاامن براہ راست وابستہ ہے، ہم نے افغان ملٹری چیف کوپاکستان کی ملٹری پریڈمیں بھی مدعو کیا، سرحد پر قانونی کاغذات کےساتھ نقل وحرکت کی اجازت ہے۔

بارڈر پر باڑ لگانے سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاک افغان بارڈر پر 90فیصد باڑ لگائی جاچکی ہے، افغان بارڈر پر پاکستانی حدود میں 1238پوسٹیں قائم ہیں جبکہ ایران کیساتھ بارڈر پر باڑ لگانے کاکام بھی 50فیصد مکمل ہوچکاہے ، ہم نے افغانستان میں بعض عناصرکےمنفی کردارپردنیاکوآگاہ کیا ہے۔

مشہور خبریں۔

کابینہ نے وزیر خزانہ کے فیصلے پر لگائی روک

?️ 1 اپریل 2021اسلام آباد (سچ خبریں)وزیرِاعظم عمران خان کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا

امریکی سینیٹرز کا ٹرمپ سعودی جوہری معاہدے سے متعلق معلومات جاری کرنے کا مطالبہ 

?️ 17 ستمبر 2026سچ خبریں: امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک اور ریپبلکن پارٹی کے ارکان نے

پوری دنیا کو توانائی کے غیر معمولی بحران کا سامنا:امیر قطر

?️ 21 ستمبر 2022سچ خبریں:قطر کے امیر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی77ویں اجلاس سے

امریکہ نے "فردو” پر حملہ کیوں کیا؟

?️ 24 جون 2025سچ خبریں: ڈونلڈ ٹرمپ، صدر امریکہ، نے چند گھنٹے پہلے سوشل میڈیا

یمن سعودی سرحدوں پر حالیہ کشیدگی کی کہانی / صنعا کو ریاض عناصر کی جارحانہ حرکتوں کا سامنا

?️ 20 نومبر 2025سچ خبریں: یمن کے سرحدی علاقوں اور اس پر قابو پانے کے

پاکستانی ذرائع کا ایران اور امریکہ کے ممکنہ معاہدے کے حوالے سے دعویٰ

?️ 29 مئی 2026 سچ خبریں:جہاں اب تک ایران اور امریکہ کے حکام نے ممکنہ

بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی ایران اور اسرائیل کے ساتھ دوہری پالیسی

?️ 24 فروری 2021سچ خبریں:صہیونی حکومت کے جوہری اقدامات کو نظرانداز کرتے ہوئے ایران کے

یمن میں سعودی عرب اور امریکہ کی حالت

?️ 17 مارچ 2021سچ خبریں:امریکہ کا خیال تھا کہ حملہ آور سعودی اتحاد مأرب میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے