ہائیکورٹ ججز کے الزامات: جسٹس (ر) تصدق جیلانی کی انکوائری کمیشن کی سربراہی سے معذرت

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے الزامات پر جسٹس (ریٹائرڈ) تصدق جیلانی نے انکوائری کمیشن کی سربراہی سے معذرت کر لی۔

میڈیا  کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے 6 ججز کے خط کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے 7 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیے جانے کے کچھ دیر بعد یہ پیش رفت سامنے آئی۔

واضح رہے کہ 30 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے الزامات پر ایک رکنی انکوائری کمیشن بنانے کی منظوری دے دی گئی تھی، اور جسٹس (ر) تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ اجلاس نے 25 مارچ 2024 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 معزز جج صاحبان کی جانب سے لکھے گئے خط کے مندرجات پر تفصیلی غور کیا۔

اجلاس کو بتایاگیا تھا کہ سپریم کورٹ کے فل کورٹ اعلامیے کے مطابق عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی وزیر اعظم سے ملاقات میں انکوائری کمیشن کی تشکیل تجویز ہوئی تھی۔

بعد ازاں کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ تصدق حسین جیلانی نے ’ڈان نیوز‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے کمیشن کی سربراہی کا کہا گیا تھا، حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے ٹی او آرز کا بغور جائزہ لیا ہے اور میں نے کمیشن کی سربراہی کے لیے رضامندی ظاہر کردی ہے۔

قبل ازیں، وزیراعظم نے چیف جسٹس کو کابینہ کی منظوری سےجوڈیشل کمیشن قائم کرنےکی یقین دہانی کرائی تھی۔

یاد رہے کہ 26 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز نے ججز کے کام میں خفیہ ایجنسیوں کی مبینہ مداخلت اور دباؤ میں لانے سے متعلق سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس سمن رفت امتیاز کی جانب سے لکھا گیا۔

خط میں کہا گیا تھا کہ ہم بطور اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز سپریم جوڈیشل کونسل سے ایگزیکٹیو ممبران بشمول خفیہ ایجنسیوں کے ججز کے کام میں مداخلت اور ججز کو دباؤ میں لانے سے متعلق رہنمائی چاہتے ہیں۔

مزید کہا گیا تھا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے نتیجے میں سامنے آیا جس میں سپریم کورٹ کی جانب سے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی سال 2018 میں برطرفی کو غلط اور غیر قانونی قرار دیا گیا اور کہا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو ریٹائرڈ تصور کیا جائے گا۔

27 مارچ کو انٹیلی جنس ایجنسیز کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی جانب سے لکھے گئے خط میں لگائے گئے الزامات کا جائزہ لینے کے لیے گزشتہ روز چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 2 گھنٹے طویل فل کورٹ اجلاس کسی حتمی فیصلے کے بغیر اختتام پذیر ہوا تھا۔

اگلے روز 28 مارچ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز کے خط کے معاملے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات ہوئی تھی۔

اسی روز وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے خط کے معاملے پر انکوائری کرانے کا اعلان کردیا تھا۔

اسلام آباد میں اٹارنی جنرل انور منصور کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا تھا کہ وزیراعظم کی چیف جسٹس اور سینئر ججز سے ملاقات ہوئی جو ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی اور ملاقات بڑے خوشگوار ماحول میں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے خط کے معاملے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے جبکہ چیف جسٹس نے بھی تحقیقاتی کمیشن بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ وفاقی کابینہ کا اجلاس کل ہوگا، وزیراعظم کل خط کا معاملہ کابینہ کے سامنے رکھیں گے، کابینہ اجلاس میں کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت کمیشن تشکیل دیا جائے گا، جبکہ غیر جانبدار شخصیت انکوائری کمیشن کی سربراہی کرے گی۔

مشہور خبریں۔

کورونا:ملک بھر میں  مسلسل دوسرے روز 100 سے زائد اموات

?️ 7 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) کورونا کے اعداد و شمار کے لیے بنائی گئی

ملک میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں اضافہ برقرار

?️ 11 فروری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) ملک میں ہوش رہا مہنگائی برقرار ہے جہاں

آرمی چیف نے جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارتوں کی تعریف کی

?️ 12 جون 2021راولپنڈی (سچ خبریں) آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے سیالکوٹ اورکوٹلی  کا دورہ

امریکہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے بند کرے: روس

?️ 20 جولائی 2026سچ خبریں: روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے امریکی

نیویارک کے میئر: میں نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کروں گا

?️ 17 نومبر 2025سچ خبریں: نیویارک کے منتخب میئر نے اس بات پر زور دیا

Jack Ma confirmed as Chinese communist party member

?️ 8 جولائی 2021 When we get out of the glass bottle of our ego

مغربی کنارے میں آتش فشاں فعال

?️ 13 ستمبر 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت نے مغربی کنارے میں سمر ٹینٹ کے نام سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے