گودار بندرگاہ کو شمسی توانائی سے چلایا جائے گا، وزیر بحری امور

?️

گوادر: (سچ خبریں) وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کہا ہے کہ گوادر بندرگاہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اسے شمسی توانائی سے چلانے کے منصوبے زیر غور ہیں۔

گوادر بندرگاہ، جو ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل تعمیر کی گئی تھی، اب تک غیر فعال ہی رہی ہے، جس کے باعث وفاقی حکومت نے اس کے زیادہ سے زیادہ استعمال کے لیے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔

رواں ماہ کے اوائل میں گوادر پورٹ اتھارٹی (جی پی اے) اور ایک چینی کمپنی نے بندرگاہ پر سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق کیا تاکہ اسے ایک ’ علاقائی ٹرانس شپمنٹ مرکز’ کے طور پر ترقی دی جا سکے۔

وزارت بحری امور کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق بندرگاہ کی کارروائیوں کو بہتر بنانے کے مقصد سے منعقدہ ایک اجلاس میں محمد جنید انور چوہدری نے اعلان کیا کہ ’ شمسی توانائی پر مبنی حل نافذ کرنے کی کوششیں جاری ہیں’ تاکہ گوادر بندرگاہ کی عملی صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکے۔

پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ اس حوالے سے ایک ذیلی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو ’ شمسی پینلز کے مؤثر استعمال کے منصوبے کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد، شمسی فوٹو وولٹائک سسٹمز کی تنصیب کی سفارشات، گوادر کی آبی سہولتوں کے لیے بیٹری اسٹوریج کے حل، اور خطے میں بجلی کی فراہمی کو بہتر بنانے کے اقدامات تجویز کرنے کی ذمہ دار ہو گی۔

ذیلی کمیٹی کی مزید ذمہ داریوں کو بیان کرتے ہوئے کہا گیا کہ’ کمیٹی ایسے شمسی توانائی کے تقسیم کار نظام تیار کرے گی جو اسٹوریج آپشنز کے ساتھ منسلک ہوں تاکہ اہم بنیادی ڈھانچے، بشمول گوادر پورٹ اتھارٹی، کے لیے قابل اعتماد بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔’

ذیلی کمیٹی میں وزارت توانائی، وزارت بحری امور، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، گوادر پورٹ اتھارٹی، گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی، کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی، اور وزیرِاعظم کے دفتر کے نمائندے شامل ہوں گے۔

محمد جنید انور چوہدری کے مطابق، اس منصوبے کے تحت بندرگاہ بھر میں مائیکرو سولر گرڈز قائم کیے جائیں گے جو سال بھر میں بندرگاہ کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے قابل ہوں گے۔

پریس ریلیز کے مطابق انہوں نے کہا کہ’ یہ اقدام گوادر کی بیرونی توانائی پر انحصار کو نمایاں حد تک کم کرنے اور مقامی ذرائع سے خود کفیل بنانے کی کوشش ہے۔’

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ گرڈز ’ اہم مقامات پر قائم کیے جائیں گے تاکہ واٹر پمپس اور یومیہ 12 لاکھ گیلن (ایم جی ڈی) کے ڈی سیلینیشن پلانٹ کو بجلی فراہم کی جا سکے۔’

محمد جنید انور چوہدری نے کہا کہ یہ منصوبہ جلد مکمل طور پر فعال ہو جائے گا، جس کے نتیجے میں ’ گوادر فری زون میں نئی فیکٹریوں کے قیام میں سہولت ہو گی اور گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بجلی فراہم کی جا سکے گی۔’

وفاقی وزیر نے یہ بھی بتایا کہ بحری امور کی وزارت منصوبہ بندی کی وزارت اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر گوادر کے ’ بجلی اور پانی کی کمی’ کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شمسی توانائی کی طرف منتقلی گوادر کی ماہی گیری کی صنعت کو بھی ایک ملین ڈالر سے زائد کی بچت فراہم کر سکتی ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق انہوں نے کہا کہ’ شمسی توانائی صرف اخراجات کم کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ شہر کی اہم صنعت کے تحفظ کے لیے بھی ضروری ہے، جو مقامی روزگار کو سہارا دیتی ہے اور برآمدی منڈیوں میں اس کی پوزیشن کو مستحکم کرتی ہے۔’

اجلاس میں شریک افراد میں چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نورالحق بلوچ، چیئرمین COPHCL مائی یو بو، ایڈیشنل سیکرٹری بحری امور عمر ظفر شیخ اور ٹیکنیکل ایڈوائزر جواد اختر شامل تھے۔

یکم جولائی کو وزارت بحری امور نے گوادر بندرگاہ کی عملی صلاحیت میں توسیع کے منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس میں اضافی شپنگ لائنز کے تعارف اور پاکستان کو خلیج تعاون کونسل کے ممالک سے جوڑنے والی فیری سروس کا آغاز شامل ہے۔

جنوری میں حکومت نے گوادر بندرگاہ کے ذریعے اپنا کارگو بھیجنے کے لیے نجی شعبے کی معاونت طلب کی تھی۔

مشہور خبریں۔

گردے کی غیر قانونی پیوندکاری میں ملوث ڈاکٹر قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے ’ٹیسٹ کیس‘ بن گیا

?️ 3 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری میں ملوث

ٹرمپ اور جولانی کی ملاقات کے اسرار 

?️ 12 نومبر 2025سچ خبریں: امریکہ میں ٹرمپ کے ہاں جولانی کا استقبال عام سیاسی پروٹوکول

طالبان کی 150000 افراد پر مشتمل فوج قائم کرنے کی کوشش

?️ 13 جنوری 2022سچ خبریں:طالبان کے چیف آف آرمی اسٹاف نے یہ اعلان کرتے ہوئے

کشمیری آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے تنازعہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں

?️ 8 جنوری 2024سرینگر: (سچ خبریں) جموں و کشمیر کے عوام اقوام متحدہ کی نگرانی

واٹس ایپ پر اب تک کی بڑی تبدیلی، ایک ساتھ دو اکاؤنٹ چلانا ممکن

?️ 20 اکتوبر 2023سچ خبریں: دنیا کی سب سے بڑی انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس

کیا اسرائیل لبنان پر صرف حزب اللہ کی وجہ سے بمباری کر رہا ہے؟

?️ 2 جون 2026سچ خبریں:صہیونی تحریک کی لبنان اور دریائے لیتانی پر تاریخی خواہشات، اسرائیلی

کیا جاپان وسط ایشیا میں ایک نئے بڑے کھیل میں شامل ہو رہا ہے؟

?️ 3 مئی 2025سچ خبریں: وسط ایشیا میں گزشتہ دو ماہ کے دوران سرحدی تنازعات کے

۱۰۰ بین الاقوامی ماہرین قانون کی ایران کے خلاف امریکی جنگی جرائم کی مذمت

?️ 3 اپریل 2026سچ خبریں:100 بین الاقوامی ماہرین قانون نے کھلے خط میں امریکہ کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے