کوئی بھی قانون سازی اور ترمیم آئینی ڈھانچے سے متصادم نہیں ہو سکتی، وکلا برادری

?️

لاہور: (سچ خبریں) پاکستان کی وکلا برادری نے کہا ہے کہ پارلیمان کے پاس آئینی ترامیم کا اختیار ہے لیکن کوئی بھی قانون سازی اور ترمیم آئینی ڈھانچے سے متصادم نہیں ہو سکتی جب کہ وکلا کی مشاورت کے بغیر آئینی ترمیم کا پیکیج بے سود ہوگا ۔

آل پاکستان وکلا نمائندہ اجلاس کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیہ میں وکلا برادری نے حکومت سے کسی بھی آئینی ترمیم پر قانون دانوں سے مشاورت کا مطالبہ کیا ہے۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ قانون سازی اور آئینی ترمیم پارلیمنٹ کا اختیار ہے تاہم آئین کے بنیادی خدوخال سے متصادم ترمیم نہیں ہونی چاہئے۔

اعلامیہ میں حکومت کوباور کرایا گیا ہے کہ وکلا کی نمائندہ تنظیموں کی مشاورت کے بغیر اور ان کواعتماد میں لیے بغیر کسی بھی قسم کا آئینی ترامیم کاپیکج بے سود ہوگا۔

اجلاس نے وفاقی حکومت سے حتمی آئینی پیکیج کے مسودے میں وکلا کمیٹی کی آراکو شامل کرنے اور مجوزہ آئینی ترامیم کے مسودے کو مشتہر کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

وکلا کے نمائندہ اجلاس نے حکومت اور آئین ساز کمیٹی کو تجاوزات پیش کرنے کیلئے 7 رکنی آئینی ترامیم کمیٹی بھی تشکیل دی، کمیٹی کو 7 دنوں میں تحریری تجاویز پیش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

اجلاس نے سپریم کورٹ سے آئین کے آرٹیکل 63 اے میں عدالتی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کرنے کی اپیل بھی کی گئی۔

اجلاس نے قرار دیا کہ وکلا کی نمائندہ تنظیموں کے علاوہ کسی کو ہڑتالوں کی کال دینے کی اجازت نہیں ہے، وکلا کے نمائندہ اجلاس نے تمام شرپسند عناصر کو خبردارکیا کہ وہ اپنے مذموم افعال سے جمہوریت اور آئین کی بقا کو خطرے میں ڈالنے سے باز رہیں ۔

مشہور خبریں۔

شام کے فضائی دفاع نے 7 صیہونی میزائلوں کو ناکارہ بنایا

?️ 17 دسمبر 2021سچ خبریں: شام میں روسی وزارت دفاع کے حمیمیم مصالحتی مرکز کے

لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے انتخاب میں امریکہ اور سعودی عرب کی شرمناک شکست

?️ 1 جون 2022سچ خبریں:    لبنان کی نئی پارلیمنٹ کے ارکان نے آج منگل

حماس: ہمیں غزہ چھوڑنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ حماس کو ختم نہیں کیا جا سکتا

?️ 27 ستمبر 2025سچ خبریں: حماس اسلامی مزاحمتی تحریک کے سینئر رکن "غازی حماد” نے

امریکہ میں خانہ جنگی کے خدشے کے پیش نظر نئی پارٹی کا قیام

?️ 29 جولائی 2022سچ خبریں:   ڈیموکریٹک اور ریپبلکن پارٹیوں کے درجنوں سابق عہدیداروں نے امریکہ

’پی ڈی ایم کے مقابلے میں نگران حکومت نے کم قرضے لیے‘

?️ 23 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) تقریباً 6 ماہ مکمل ہونے پر عہدے سے

فرانس میں طویل المدت سیاسی بحران

?️ 12 اکتوبر 2025سچ خبریں:فرانسیسی صدر امانوئل ماکرون کی صدارت میں فرانس کے طویل المدت

مشکل فیصلوں میں سب کو اپنا حصہ ڈالنا پڑے گا:شاہد خاقان عباسی

?️ 16 مئی 2022(سچ خبریں) سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے سینئر ترین رہنما

نیٹو کو روس کی دھمکی پر امریکی ردعمل

?️ 14 ستمبر 2024سچ خبریں: وائٹ ہاؤس نے روسی صدر کی جانب سے نیٹو کو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے