کشمیر میں انسانی حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا

کشمیر میں انسانی حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا

?️

اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مطابق انہوں نے برطانیہ کی وزیر خارجہ ایلزبیتھ ٹروس کو بتایا ہے کہ دنیا کے ایک حصے میں انسانی حقوق کا احترام ہو جبکہ دوسرے حصے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے، جس میں مقبوضہ کشمیر شامل ہے۔

لندن میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے برطانوی وزیر خارجہ ایلزبیتھ ٹروس سے ہونے والی ملاقات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ کشمیر پر ایک کل جماعتی پارلیمانی گروپ ہے جس میں تمام جماعتوں کے اراکین شامل ہیں اور وہ گاہے بگاہے برطانوی حکومت کو توجہ دلاتے ہیں کہ وہاں انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے مناسب سمجھا کہ اس مذاکرے کے حوالے کو سامنے رکھتے ہوئے اور 12 ستمبر کو پاکستان نے ایک تحقیق پر مبنی مقبوضہ جموں و کشمیر پر ایک ڈوزیئر مرتب کیا تھا، اس پر بھی میں آگاہ کروں تو پھر میں نے اس کی کاپی برطانوی وزیر خارجہ کو دی اور کہا کہ آپ خود اس کا جائزہ لیں، اس میں ہمارے پاس 3 ہزار ایسے کیسز ہیں جو رپورٹ ہوئے ہیں اور ہماری نظر میں یہ کیسز جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ میں نے انہیں کہا کہ ان کے اقدامات ایسے ہیں جو فورتھ جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت وہاں جغرافیائی تبدیلی کی جارہی ہے۔

بھارت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک واحد ریاست ہندوستان، جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہاں مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کیا جائے تو اس کے دور رس عزائم بھی ہیں اور نتائج بھی ہوسکتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کا تقاضہ کرتا ہے اور کرنا بھی چاہیے، افغانستان پر بھی وہ کہتے ہیں کہ انسانی حقوق کا احترام کرنا چاہیے لیکن اس کا نفاذ خاص ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر دنیا کے کسی ایک حصے میں انسانی حقوق کا احترام کیا جارہا ہے تو دنیا کے دوسرے حصے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر ان میں سے ایک ایسا علاقہ جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے اور اس کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔

برطانیہ میں حکام سے ملاقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان معاملات پر بات کرنے کا اچھا موقع ملا، پھر اگلے سال ہمارے سفارتی اور دو طرفہ تعلقات کے 75 سال مکمل ہوجائیں گے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں نے انہیں بتایا کہ ہمارے سامنے دو چیزیں آئی ہیں، ایک ہمارے تعلقات کے 75 سال پورے ہو رہے ہیں اور ہمارے اسٹریٹجک تعلقات بھی ہیں، اس کی بھی کئی نشستیں ہوئی ہیں اور ان کو مزید فعال کرنے کے لیے مزید تجاویز پیش کیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے جوائنٹ ورکنگ گروپس تشکیل دینے کی تجویز دی جس کو انہوں نے قبول کیا، ہم نے مختلف شعبوں کی نشان دہی کی ہے کہ کن امور پر ہمیں مشترکہ کام بڑھانا چاہیے تاکہ ہم بیٹھ کر تبادلہ خیال سے حکمت عملی مرتب کریں کہ ان امور پر باہمی طور پر ایک دوسرے کی مدد اور تعاون کیسے کرسکتے ہیں اور اس سے دوطرفہ تعلقات کو مزید کیسے بہتر کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے ان کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور اس کے جائزے میں شرکت کریں اور انہوں نے دعوت قبول کی اور مناسب وقت پر وہ پاکستان کا دورہ کریں گی۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ دو طرفہ تعلقات، افغانستان اور کشمیر پر بات ہوئی پھر معاشی تعلقات زیر بحث آئے اور میرے خیال میں معاشی تعلقات میں امکانات موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا کہ برطانیہ نے یورپی یونین سے نکلنے کے بعد ہمیں جی ایس پی پپلس کا درجہ دیا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوا پچھلے سال کووڈ کے باوجود ہماری دو طرفہ تجارت میں 32 فیصد اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری میں بہتری آئی ہے لیکن اتنی نہیں آئی جتنی آسکتی ہے، جس کے لیے تجویز دی کہ ہماری ایک اعشاریہ 6 ملین کی گنجائش ہے تو کیوں نہ ہم اس طاقت کو تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے استعمال کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں ہماری جو برادری رہتی ہے وہ دونوں ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرسکتی ہے اور فارن سیکریٹری نے بتایا کہ وہ اس ذمہ داری سے پہلے تجارت کی سیکریٹری تھیں اور پاکستان کے لیے ایک خصوصی نمائندہ مقرر کیا تھا اور عنقریب وہ پاکستان آرہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں نے ان کو تجویز پیش کی کہ وقت آگیا ہے کہ ہم ایک ایف ٹی اے کے لیے اپنی گفتگو کا آغاز کریں تو انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ایک جوائنٹ کمیشن بھی مرتب کیا جاسکتا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ میں نے ان سے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ برطانیہ سے دیرینہ تعلقات بڑھیں اور ترسیلات زر کے حوالے سے بھی برطانیہ ہمارے لیے اہم ملک ہے اور قونصل خدمات کو بھی بہتر کرنا چاہتے ہیں تاکہ لوگوں کے لیے سہولت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ یہ ساری باتیں خارجہ سیکریٹری سے ملاقات پر ہوئی اور کل کنزرویٹو پارٹی کے چند اراکین سے ملاقات کا موقع ملا اور ان تک پاکستان کا نکتہ نظر پہنچانے کا موقع ملا۔

مشہور خبریں۔

چیف جسٹس قاضی فائز نے عدلیہ میں مداخلت روکنے کے بجائے مزید دروازے کھولے، جسٹس منصور علی شاہ

?️ 25 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) جسٹس منصور علی شاہ نے رجسٹرار سپریم کورٹ

صیہونیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کی کتنی نسلیں ختم ہو گئیں؟ امریکی نیوز ایجنسی کی رپورٹ

?️ 19 جون 2024سچ خبریں: امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ

خاموشی کافی ہے، امریکی سفیر کو باہر نکالا جائے: مقتدیٰ صدر

?️ 29 مئی 2024سچ خبریں: عراق کی صدر تحریک کے سربراہ مقتدی صدر نے امریکی سفارت

شام کے صوبہ حلب میں دھماکہ؛6افراد ہلاک،30زخمی

?️ 31 جنوری 2021سچ خبریں:شامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اس ملک کے صوبہ

تحریک انصاف  کی شکست کی وجوہات سامنے آ گئیں

?️ 22 دسمبر 2021پشاور (سچ خبریں)خیبر پختون خوا کے بلدیاتی انتخابات میں حکمراں جماعت پاکستان

امریکی مشیر اس کی فوج سے زیادہ خطرناک

?️ 26 جنوری 2022سچ خبریں:  الانبار صوبے میں الحشد الشعبی کی کارروائیوں کے کمانڈر قاسم

شیریں مزاری نے ایک بار پھر عمران خان کی حکومت کو گرانے میں بیرونی سازش کا دعویٰ کیا ہے۔

?️ 23 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر

پاکستان نے اسرائیلی پارلیمنٹ کے کرانہ باختری پر قبضے کے منصوبے کی شدید مذمت کی

?️ 25 جولائی 2025پاکستان نے اسرائیلی پارلیمنٹ کے کرانہ باختری پر قبضے کے منصوبے کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے