ڈیجیٹل کرنسیاں اب بھی حوالہ کے متبادل کے طور پر استعمال ہو سکتی ہیں، شبر زیدی

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) ایف بی آر کے سابق چیئرمین اور ماہرِ معاشیات شبّر زیدی نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے موجودہ مالیاتی نظام کے تحت کرپٹو کرنسی کو ریگولیٹ نہیں کر سکتا، کیوں کہ اسٹیٹ بینک زرِمبادلہ پر سخت کنٹرول رکھتا ہے، ورچوئل اثاثے اب بھی حوالہ کے متبادل کے طور پر استعمال ہو سکتے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز (پی آئی آئی اے) کے زیر اہتمام ہفتے کے روز منعقدہ ایک سیشن بعنوان ’پاکستان میں ڈیجیٹل کرنسی اور کرپٹو کرنسی کا اپنانا: امکانات اور خدشات‘ سے خطاب کرتے ہوئے شبّر زیدی نے ڈیجیٹل کرنسیوں سے جڑے خطرات اور مواقع پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ کرپٹو کرنسی کی ریگولیشن کے لیے ایک قانون پاس ہو چکا ہے اور یہ پارلیمان میں زیرِ بحث ہے، تاہم ڈیجیٹل یا ورچوئل کرنسیاں اپنی ساخت کے اعتبار سے ریگولیٹ کرنا مشکل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کرپٹو کرنسیاں اس لیے پروان چڑھتی ہیں، کیوں کہ ان کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا، ایک غیر ریگولیٹڈ کرنسی کو ریگولیٹ نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اگرچہ امریکا میں کرپٹو مارکیٹ وسیع پیمانے پر اپنائی گئی ہے، لیکن فرق یہ ہے کہ وہاں زرِمبادلہ کا نظام زیادہ آزاد ہے، پاکستان میں کمرشل بینک اسٹیٹ بینک کی اجازت کے بغیر ڈالر خرید اور فروخت نہیں کر سکتے۔

پاکستان موجودہ نظام کے تحت ورچوئل کرنسی کو ریگولیٹ نہیں کر سکتا، تقریباً 90 لاکھ پاکستانی ڈیجیٹل اثاثے رکھتے ہیں۔

اعتماد اور قبولیت

شبّر زیدی نے اندازہ ظاہر کیا کہ تقریباً 90 لاکھ پاکستانی ورچوئل کرنسیوں کے مالک ہیں یا ان میں لین دین کرتے ہیں، جن میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی بٹ کوائن ہے، جو ایک غیر مرکزیت یافتہ ڈیجیٹل اثاثہ ہے, جس کے لین دین بلاک چین پر ریکارڈ ہوتے ہیں اور جس کا اجرا کسی مرکزی بینک کے تابع نہیں ہوتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل کرنسیاں پہلے ہی لین دین کے لیے استعمال ہو رہی ہیں، خصوصاً چین کے ساتھ تجارتی انڈر انوائسنگ میں، جو حوالہ نظام سے مشابہ ہے، یہ بات تیزی سے یا سست روی سے اپنانے کی نہیں ہے، حقیقت یہ ہے کہ ہمارا نظام اسے ریگولیٹ نہیں کر سکتا۔

انہوں نے زور دیا کہ تمام کرنسیاں اعتماد پر مبنی ہوتی ہیں، جیسا کہ آج امریکی ڈالر یا ماضی میں برطانوی پاؤنڈ، اسی طرح، مستقبل میں کوئی قابلِ اعتماد ڈیجیٹل کرنسی دنیا بھر میں ادائیگی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ اثاثوں پر مبنی کرپٹو کرنسیاں جاری کی جا سکتی ہیں، لیکن اس کی طلب کمزور رہے گی، کیوں کہ غیر ریگولیٹڈ ڈیجیٹل اثاثے رکھنے والوں کو کالا دھن سفید کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے غیر ملکی مثالیں دیتے ہوئے بتایا کہ بھارت نے باضابطہ طور پر کرپٹو کرنسیوں کو مسترد کیا ہے، جب کہ امریکا میں ان کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔

مزید برآں، انہوں نے کرپٹو کرنسیوں کو امریکی سیاسی مباحثوں سے بھی جوڑا اور دعویٰ کیا کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے فیڈرل ریزرو کی مزاحمت کے بعد انہیں سپورٹ کیا۔

شبّر زیدی کے مطابق ایک بینکر نے کہا کہ ٹرمپ فیملی نے اپنے دورِ حکومت میں ورچوئل کرنسیوں سے 2 ارب 40 کروڑ ڈالر کمائے۔

ڈیجیٹلائزیشن بمقابلہ کرپٹو

شبّر زیدی نے پاکستان کے مالیاتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن میں پیش رفت کو تسلیم کیا، لیکن اس بات پر زور دیا کہ کرپٹو ایک الگ دائرہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹلائزیشن کا مطلب ہے ڈاکیومنٹیشن اور ٹریس ایبلٹی، کرپٹو اس کے برعکس گمنامی اور عدم کنٹرول پر پروان چڑھتی ہے۔

سیشن میں موجود ماہرین نے نوٹ کیا کہ پاکستان میں ورچوئل کرنسیوں کا استعمال ممکنہ طور پر بڑھتا رہے گا، خاص طور پر اس وقت جب زرِمبادلہ پر سخت کنٹرول بین الاقوامی ادائیگیوں کے دوسرے ذرائع محدود کر دیتا ہے۔

مشہور خبریں۔

مغرب نے کبھی بھی داعش کے خلاف آپریشن نہیں کیا: اردوغان

?️ 9 ستمبر 2022سچ خبریں:      ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے جمعہ

افغانستان کا مسئلہ حل کرنا چاہیے:پیوٹن

?️ 18 ستمبر 2022سچ خبریں:روس کے صدر نے پاکستانی وزیراعظم سے ملاقات میں کہا کہ

مزید تحقیقات کے لیے فرانسیسی وزیر خارجہ کا ترکی کا دورہ

?️ 6 ستمبر 2022سچ خبریں:      فرانسیسی وزیر خارجہ کیتھرین کولونا نے کہا کہ

ڈائریکٹر جنرل انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کا زیر تعمیر چشمہ پاور پلانٹ یونٹ 5 کا دورہ

?️ 14 فروری 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) ڈائریکٹر جنرل انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی رافیل

سکیورٹی فورسز کے خیبرپختونخوا میں 2 کامیاب آپریشنز، 13 دہشت گرد ہلاک

?️ 1 اپریل 2026راولپنڈی (سچ خبریں) سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا میں دو کارروائیوں کے

وزیراعظم کو کیا پڑی ہے کہ وہ ججز کی سلیکشن خود کریں گے

?️ 22 ستمبر 2024لاہور: (سچ خبریں) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو کیا پڑی

لاہور کی شوبز انڈسٹری میں پروفیشنل ازم کی کمی ہے، بشریٰ انصاری

?️ 10 دسمبر 2024 کراچی: (سچ خبریں) سینیئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے کہا ہے کہ

اس گروپ کے اعلیٰ عہدیداروں کی کارکردگی پر طالبان کے وزیر دفاع کی تنقید

?️ 12 جولائی 2022سچ خبریں:    طالبان کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب مجاہد نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے