پی ٹی آئی کا پاور شیئرنگ سے انکار، مکمل مینڈیٹ ملنے تک مضبوط اپوزیشن کرنے کا اعلان

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ہم پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ن) یا ایم کیو ایم کے ساتھ کسی قسم کی پاور شیئرنگ نہیں کریں گے، پاکستان تحریک انصاف کی سیاست پاور شیئرنگ کے لیے نہیں ہے، اور اس وقت تک مضبوط اپوزیشن کریں گے جب تک ہمارا مکمل مینڈیٹ ہمارے پاس نہیں آتا۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج تفصیل سے خیبر پختونخوا میں حکومت سازی کے حوالے سے گفتگو ہوئی اور ساتھ ساتھ اس بات پر بھی تفصیل سے بات ہوئی کہ وفاق اور پنجاب میں حکومت سازی کیسے کرنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان سے الیکشن کے حوالے سے بات ہوئی اور انہیں بریفنگ دی گئی ہے، پہلی بات یہ ہے کہ ریکارڈ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف 180 نشستیں جیت چکی ہے، اس کے علاوہ تحریک انصاف کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے جس کا ہر فورم پر دفاع کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن اور عدلیہ سے درخواست ہے کہ یہ مختصر حلقوں اور مقدموں کا معاملہ ہے، ایک حلقہ بڑے مینڈیٹ پر اثر انداز ہے لہذا ہم التماس کرتے ہیں کہ 70 حلقوں کا جلد از جلد فیصلہ کریں کیونکہ کسی کو بھی جعلی مینڈیٹ کے ساتھ حکومت میں آنے کا حق نہیں ہے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ بات بھی چلی کہ ہمیں پیشکش کی گئی ہے کہ ہم پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ن) یا ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر کوئی حکومت بنائیں، ہم نے خان صاحب کی ہدایت کے مطابق یہ اعلان کیا ہوا ہے کہ ان کے ساتھ کسی قسم کی پاور شیئرنگ نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ خان صاحب کا پیغام یہی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی سیاست پاور شیئرنگ کے لیے نہیں ہے، یہ عوامی سیاست ہے، باقی لوگ عوام کے نام پر سیاست کر کے اپنے مفادات کا خیال رکھتے ہیں لیکن پی ٹی آئی عوام کے لیے سیاست کر کے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کررہی ہے اور مینڈیٹ، جمہوریت اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے، اس لیے ہم ان کے ساتھ کوئی پاور شیئرنگ پر یقین بھی نہیں رکھتے اور اس وقت تک مضبوط اپوزیشن کریں گے جب تک ہمارا مکمل مینڈیٹ ہمارے پاس نہیں آتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس پوزیشن میں ہیں وفاق، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں جلد حکومت بنائیں گے اور عدلیہ سے اسی لیے درخواست کی ہے کہ 70 حلقوں پر جلد سے جلد فیصلہ ہو۔

وزرائے اعلیٰ کے لیے عمران خان کی جانب سے فائنل کے لیے گئے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پنجاب میں ہمارے وزیراعلیٰ کے امیدوار میاں اسلم اور بلوچستان میں وزیر اعلیٰ کے امیدوار سالار صاحب ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ابھی صرف اسپیکر کا فیصلہ ہوا ہے جہاں خان صاحب نے اسپیکر کے امیدوار کے لیے عاقب اللہ کو نامزد کیا ہے، ڈپٹی اسپیکر اور سینٹرل میں اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کا نام پرسوں تک آپ کے سامنے رکھیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے وزیراعظم کے امیدوار عمر ایوب ہوں گے لیکن ہماری کوشش ہو گی کہ عمر ایوب ہی وزیراعظم بنیں تاوقتیکہ خان صاحب باہر نہیں آتے۔

انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی جماعت جو تمام صوبوں میں ہے، جس نے خیبر پختونخوا اور پنجاب میں دو تہائی اکثریت لی ہے اس کو محدود کیا جا رہا ہے اور وہ سیاسی جماعت جس کی صفر ساکھ ہے، جس کی مشکل سے 20 نشستیں ہیں اس کو حخومت دی جا رہی ہے، عوام ایسے مینڈیٹ کو قبول نہیں کریں گے۔

پی ٹی آئی رہنما نے ہفتے کے روز مبینہ دھاندلی کے خلاف پرامن احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے اس احتجاج میں جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی اور جی ڈی اے سمیت تمام جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سے ہمارے مذاکرات ہوئے ہیں نہ ہوں گے، ہمارا ایک پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ ہم پاور شیئرنگ کے بجائے عوامی سیاست کرتے ہیں۔

اس موقع پر تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت نے کہا کہ ہم نے عمران خان کے سامنے تمام صورتحال رکھی ہے اور خان صاحب کا دوٹوک موقف ہے کہ ہم مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے ساتھ کسی بھی صورت مین پاور شیئرنگ نہیں کر سکتے۔

مشہور خبریں۔

بالی وڈ کے معروف اداکار کروڑوں کا دھوکہ کیسے کھا گئے

?️ 22 جولائی 2023سچ خبریں: بھارتی میڈیا کے مطابق اداکار وویک اوبرائے اور ان کی

قطر ورلڈ کپ نے ثابت کردیا کہ عربوں کے ساتھ سمجھوتوں کی بنیاد متزلزل ہے:صہیونی جنرل

?️ 8 دسمبر 2022سچ خبریں:ایک صیہونی جنرل نے عرب اور مسلم ممالک کی اسرائیلیوں سے

ترکی میں قلیچدار اوغلو کے ووٹ 50 فیصد سے زیادہ:تازہ ترین سروے کی رپورٹ

?️ 13 مئی 2023سچ خبریں:ترک صدارتی انتخابات سے محرم اینچہ کی دستبرداری کے بعد ایک

الیکشن کمیشن نے ووٹرز سے متعلق تازہ اعداد و شمار جاری کردئیے

?️ 10 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) الیکشن کمیشن نے ووٹرز سے متعلق تازہ اعداد

ٹرمپ انتظامیہ میں ہوم لینڈ سیکورٹی کے سیکرٹری اور زراعت کے سیکرٹری کون ہیں؟

?️ 20 اپریل 20252016 کے امریکی انتخابات میں ٹرمپ کی جیت نے امریکہ کو سیاسی

تین مہینوں میں بغداد میں ہونے والے تین بم دھماکوں کے پس پردہ حقائق

?️ 23 جولائی 2021سچ خبریں:پیر کے روز صدر شہر میں ہونے والا دھماکا پچھلے تین

مقبوضہ جموں وکشمیر میں حالات معمول پرآنے کے بی جے پی حکومت کے جھوٹے دعوے کی مذمت

?️ 12 نومبر 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں

مغربی میڈیا غزہ میں اسرائیل کے جرائم میں شریک

?️ 1 نومبر 2023سچ خبریں:انگریزی ویب سائٹ ماڈل ایسٹ آئی کے مطابق موجودہ جنگ میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے