پیپلز پارٹی کی سینیٹ اجلاس بلانے کی ایک اور کوشش ناکام

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی جانب سے ملک کے ایوان بالا کا اجلاس بلانے کی ایک اور کوشش ناکام ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق اس پیش رفت سے متعلق باخبر ذرائع کی جانب سے مطلع کیا گیا ہے۔

سینیٹ سیکریٹریٹ کے ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے علاوہ دیگر جماعتوں کے 6 میں سے پانچ سینیٹرز نے 18 ستمبر کی ریکوزیشن سے اپنے دستخط واپس لے لیے ہیں، اس مجوزہ اجلاس کا مقصد ملک میں آسمان کو چھوتی مہنگائی اور بجلی کے بھاری بلوں پر بحث و مباحثہ کرنا تھا جب کہ اس حوالے سے عوام میں شدید تشویش اور بے چینی پائی جاتی ہے۔

پی پی پی کے ذرائع نے پس منظر میں جاری مشکوک سرگرمیوں پر سوالات اٹھائے ہیں اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے ان کے رابطوں سے متعلق سرکاری جواب طلب کیا ہے اور ان لوگوں کے نام ظاہر کرنے کا کہا ہے جنہوں نے ریکوزیشن سے اپنے دستخط واپس لیے ہیں۔

جن پانچ ارکان نے مبینہ طور پر اپنی قیادتوں کی جانب سے باز پرس کے بعد اپنے دستخط واپس لیے ان میں مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والی سعدیہ عباسی، بی این پی-ایم سے تعلق رکھنے والے محمد قاسم، پی کے ایم اے پی سے تعلق رکھنے والی عابدہ عظیم اور اے این پی سے تعلق رکھنے والے حاجی ہدایت اللہ اور عمر فاروق شامل ہیں۔

ریکوزیشن پر پی پی پی کے تمام 21 سینیٹرز اور سینیٹر شمیم آفریدی نے دستخط کیے تھے جو 2021 میں پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔

مجموعی طور پر 28 سینیٹرز نے ریکوزیشن پر دستخط کیے تھے اور پانچ اراکین کی جانب سے دستخط واپس لینے کے بعد یہ تعداد کم ہو کر 23 ہو جائے گی جو کہ سیشن طلب کرنے سے متعلق ریکوزیشن کے لیے مطلوبہ تعداد یعنی ایک چوتھائی اراکین سے کم ہے۔

نیشنل پارٹی کے سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ انہوں نے اپنے دستخط واپس نہیں لیے، انہوں نے دستخط واپس لیے جانے کے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے پیپلز پارٹی کے سینیٹر تاج حیدر سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور بتایا کہ پانچ سینیٹرز نے اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر اپنے دستخط واپس لے لیے ہیں۔

اس کے ایک روز بعد سینیٹر تاج حیدر نے سیکریٹری سینیٹ کو خط لکھا جس میں انہوں نے صادق سنجرانی کی کال کا حوالہ دیتے ہوئے دستخط واپس لینے کے بارے میں آگاہ کیا۔

اپنے خط میں انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی طرف سے تمام دستخط کنندگان سے ان کے دستخط حاصل کرنے اور سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کرانے سے قبل تصدیق کی تھی کہ وہ بعد کے مرحلے میں اپنے دستخط واپس نہیں لیں گے۔

ڈان کو موصول خط کے مطابق سینیٹر تاج حیدر نے لکھا کہ مجھے معزز چیئرمین سینیٹ کی جانب سے دی گئی معلومات کہ دستخط کنندگان میں سے پانچ نے اپنے دستخط واپس لے لیے ہیں، میرے اور میری پارٹی کے لیے بہت حیران کن ہے، برائے کرم مجھے ان اراکین کے نام بتائے جائیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی تاحال سرکاری جواب کی منتظر ہے، پی پی پی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت سے تعلق رکھنے والے تمام سینیٹرز کے علاوہ دیگر جماعتوں کے تین سینیٹرز نے بھی کہا کہ انہوں نے اپنے دستخط واپس نہیں لیے ہیں۔

رابطہ کرنے پر مسلم لیگ (ن) کے ایک قانون ساز نے اعتراف کیا کہ اس مرحلے پر سینیٹ اجلاس پارٹی کے لیے شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ وہ اپنے وعدے کے مطابق ریلیف نہیں دے سکی۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں آئی ایم ایف معاہدے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے قیمتوں میں اضافے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مشہور خبریں۔

مصری وزیر خارجہ بھی دورہ پاکستان کیلئے تیار، رواں ہفتے اسلام آباد پہنچیں گے

?️ 28 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) ایران، آذربائیجان اور روس کے اعلیٰ سطح وفود

رمضان المبارک میں امام بارگاہوں اور مساجد کے ہدایات جاری

?️ 4 اپریل 2021اسلام آباد (سچ خبریں) نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او

اسد قیصر نے وفاقی وزراء کی پریس کانفرنس گمراہ کن پروپیگنڈہ قرار دیدی

?️ 17 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پی ٹی آئی کے رہنماء اسد قیصر نے

صیہونی جیلوں میں قید فلسطینوں کی عید

?️ 12 جولائی 2022سچ خبریں:قابض اسرائیلی جیلوں کی انتظامیہ کی جانب سے عید کے دنوں

شام پر قابضین اپنے فضول حملے کیوں جاری رکھے ہوئے ہیں؟

?️ 23 دسمبر 2021سچ خبریں:شام پر حالیہ حملوں کے دوران اس ملک کے جنوبی علاقوں

امریکہ کے ساتھ رابطے کے بارے میں روسی صدر کا اظہار خیال

?️ 28 فروری 2025 سچ خبریں:روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ ان کا

اسرائیل کے خلاف یمن کی بحری ناکہ بندی کے چوتھے مرحلے کی تفصیلات؛ قبضہ کرنے والوں کے لیے ایک پرخطر مرحلہ

?️ 30 جولائی 2025سچ خبریں : صیہونی حکومت کے خلاف بحری ناکہ بندی کا چوتھا

سیلابی صورتحال: حکومت سندھ نے وزرا کو فوکل پرسن مقرر کردیا

?️ 27 اگست 2025کراچی (سچ خبریں) سیلاب کے خدشات کے پیش نظر حکومت سندھ نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے