?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی انتہا پسندی اور تشدد کو فروغ دینے کے لیے پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کے کسی اقدام کی مزاحمت نہیں کرے گی۔
اس سے قبل پیپلز پارٹی کے رہنما نے اس وقت اپنے اختلاف کا اظہار کیا تھا جب مسلم لیگ (ن) کے کچھ رہنماؤں نے پی ٹی آئی پر بطور سیاسی جماعت پابندی کی تجویز پیش کی تھی۔
بلاول بھٹو زرداری نے یہ ریمارکس اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دیے، جس میں ان جذبات کی بازگشت سنائی دی جس کا اظہار انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے وفاقی کابینہ میں پی ٹی آئی پر پابندی کے اقدام کی مخالفت کی تھی لیکن اب ہم کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ وہ (پی ٹی آئی) سرخ لکیر عبور کر چکے ہیں۔
انہوں نے پوچھا کہ ’اگر کوئی سیاسی جماعت عسکریت پسند تنظیم میں تبدیل ہونا چاہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں‘۔
9 مئی کو فسادات اور تشدد میں ملوث پی ٹی آئی کے حامیوں کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کے بارے میں چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی پارٹی قانون اور آئین کے تحت کسی بھی چیز کی حمایت کرے گی۔
اگرچہ بلاول نے آرمی ایکٹ 1952 کے تحت مقدمے کی توثیق کی تاہم انہوں نے نئی فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے آئینی ترمیم کے امکان کو مسترد کر دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عدالتیں آرمی ایکٹ کے تحت بن سکتی ہیں اور اس کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں ہے۔
اگرچہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے مؤقف کو واضح کر دیا ہے، پیپلز پارٹی کے اندر فوجی عدالتوں کے قیام اور پی ٹی آئی پر پابندی دونوں معاملات پر رائے منقسم ہے۔
ڈان سے بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے کہا کہ 19 مئی کو پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کے اجلاس کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے پہلی بار وزیراعظم سے ملاقات کی۔
فرحت اللہ بابر کے مطابق، سی ای سی کے اجلاس میں پی پی پی کے کچھ رہنماؤں کا خیال تھا کہ پی ٹی آئی پر مکمل پابندی عائد کر دی جانی چاہیے جبکہ کچھ نے کہا کہ اس سے تمام سیاسی قوتوں کو برابری کا میدان نہیں ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کچھ رہنما بھی اس بات پر بھی فکر مند ہیں کہ پی ٹی آئی کے رہنما کیسے اپنی پارٹی چھوڑ رہے ہیں اور کہا کہ ماضی میں دوسری جماعتیں بھی ایسی صورتحال کا شکار رہی ہیں۔


مشہور خبریں۔
وزیراعظم رمضان پیکیج ،40لاکھ گھرانوں کو 5 ہزار روپے فی خاندان فراہم کرنے کا اعلان
?️ 1 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے رمضان پیکیج 2025کا اعلان
مارچ
غزہ اور مغربی کنارے کی تازہ ترین صورت حال
?️ 14 نومبر 2023سچ خبریں:غزہ کی پٹی کے مختلف محوروں میں جارحین کے ساتھ فلسطینی
نومبر
وزیراعظم آزادکشمیر کا ضلع سدھنوتی اور پلندری کی عوام کیلئے اہم ترقیاتی منصوبوں کا اعلان
?️ 27 ستمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں)وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس نے ضلع بلوچ سدھنوتی
ستمبر
شیخ زکزاکی پر ظلم انسانیت پر ظلم ہے:عیسائی پادری
?️ 14 فروری 2021سچ خبریں:نائیجیریا کے ایک اہم پادری جان جوزف نے نائجیریا کے تمام
فروری
افغانستان کا استحکام خطے کی سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے ناگزیر ہے، بلاول بھٹو زرداری
?️ 6 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے خطے کی سماجی و
مئی
ریاض نیتن یاہو کی علاقائی عدم مستحکم پالیسیوں پر خشمگین
?️ 21 نومبر 2025سچ خبریں: سعودی عرب نے اسرائیلی ریاست کی خطے میں عدم استحکام پیدا
نومبر
چین کے پاس اگلے 12 سال میں 1500 ایٹمی وار ہیڈز ہوں گے:نیٹو
?️ 20 اپریل 2023سچ خبریں:نیٹو کے سکریٹری جنرل نے دعویٰ کیا ہے کہ چین کے
اپریل
الیکشن کمیشن نے انتخابی نتائج کی تیزی سے ترسیل کیلئے جدید ٹیکنالوجی سے مزین ’الیکشن سٹی‘ قائم کردیا
?️ 8 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں)الیکشن کمیشن نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 855
فروری