?️
لاہور: (سچ خبریں) اپوزیشن اور صحافتی تنظیموں کے تحفظات اور احتجاج کے باوجود 2 روز قبل پنجاب اسمبلی میں صوبائی حکومت کا پیش کردہ ہتک عزت بل 2024 منظور کرنے پر پاکستان پیپلز پارٹی نے حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) سے راہیں جدا کر لیں۔
میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بل کی منظور کے موقع پر پارٹی قیادت کی واضح ہدایات پر پیپلز پارٹی کے تمام اراکین صوبائی اسمبلی ایوان سے غیر حاضر رہے۔
پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر علی حیدر گیلانی نے کہا کہ ہتک عزت بل کے حوالے سے نہ پوچھا گیا نہ بتایا گیا، پیپلز پارٹی کبھی بھی اس بل کا حصہ نہیں بننا چاہتی تھی، ہتک بل کی منظوری کے روز تمام ارکان کو ایوان سے غیر حاضر رہنے کا کہا تھا۔
علی حیدر گیلانی نے کہا کہ بل کی منظوری کے روز پیپلز پارٹی کا کوئی رکن صوبائی اسمبلی ایوان میں موجود نہیں تھا، پیپلز پارٹی ہمیشہ میڈیا کی آزادی کے ساتھ کھڑی ہے، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ میڈیا کی آزادی کی جدوجہد میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔
پیپلز پارٹی پنجاب کے سینئر رہنما حسن مرتضی نے کہا کہ ہتک عزت بل پر پیپلز پارٹی میڈیا کے ساتھ کھڑی ہے اور رہے گی، صدرزرداری اور محترمہ شہید کےخلاف میڈیا ٹرائل کے باوجود کبھی آزادی رائے پرقدغن نہیں لگائی۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ہتک عزت بل پیش کرنےمیں پیپلزپارٹی حصہ نہیں بنی، میڈیا میں کردارکشی پگڑیاں اچھالنے کے خلاف ہیں، اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لئے بغیربل پیش کرنا غلط ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کو ہتک عزت بل پروقت ضائع کیے بغیر صحافی تنظیموں سے مزاکرات کرنا چاہیے۔
یاد رہے کہ 2 روز قبل روز پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن اور صحافتی تنظیموں کے تحفظات اور احتجاج کے باوجود صوبائی حکومت کا پیش کردہ ہتک عزت بل 2024 منظور کرلیا گیا تھا۔
اجلاس میں لوکل گورنمنٹ کے سوالات اور توجہ دلاؤ نوٹس کے بعد وزیر پارلیمانی امور مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے ہتک عزت بل 2024 پیش کیا تھا۔
اس پر اپوزیشن کی جانب سے شدید نعرے لگائے گئے اور احتجاج کیا گیا جبکہ صحافیوں نے بھی پریس گیلری کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اسمبلی احاطے میں احتجاج کیا جبکہ ملک گیر احتجاج کی کال بھی دے دی۔
ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر نے کہا تھا کہ ایسے قانون سے آزادی اظہار رائے پر قدغن لگے گی۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خالد اسحٰق نے بل کے اہم نکات اور اپوزیشن کے اعتراضات کا جواب دیا۔
بل پر بحث کے دوران اپوزیشن کی تجویز کردہ تمام ترامیم مسترد کردی گئیں بل اکثریت رائے سے منظور کرلیا گیا۔
بل کا اطلاق الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر ہوگا۔


مشہور خبریں۔
دفعہ 144 کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواستوں پر الیکشن کمیشن کا اجلاس طلب
?️ 12 مارچ 2023لاہور:(سچ خبریں) لاہور میں دفعہ 144 کے نفاذ کے خلاف پاکستان تحریک
مارچ
مجرموں کی حکومت میں دہشت گردی بڑھ رہی ہے، عمران خان
?️ 13 اکتوبر 2022چار سدہ: (سچ خبریں) سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف
اکتوبر
ملکی انتخابات کی نگرانی کے لیے روسی مبصرین کو لبنان روانہ
?️ 13 مئی 2022سچ خبریں: بیروت میں روسی سفارت خانے نے انکشاف کیا ہے کہ
مئی
پاکستان کو ماحولیاتی آلودگی کے ذمہ دار ممالک سے بھیک مانگنے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے
?️ 6 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان
اکتوبر
وینزویلا پر امریکی حملہ،یورپ میں مخالفین نے کیا کہا؟
?️ 7 جنوری 2026 وینزویلا پر امریکی حملہ،یورپ میں مخالفین نے کیا کہا؟ امریکہ کی
جنوری
پاکستان کی اومان کو وسطی ایشیا تک رسائی کیلئے گوادر، کراچی پورٹس کے استعمال کی پیشکش
?️ 13 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے اومان کو وسطی ایشیا میں ابھرتی
مارچ
امریکہ میںAPEC سربراہی اجلاس کے سامنے مظاہرین کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ
?️ 13 نومبر 2023سچ خبریں: امریکہ میں ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن فورم کے ارکان کے
نومبر
ہانگ کانگ ایئر کارگو نے ویوو پر پابندی لگادی
?️ 13 اپریل 2021ہانگ کانگ (سچ خبریں)ٹیک جائنٹ ویوو کے موبائل فونز کارگو میں آتشزدگی
اپریل