?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے رواں مالی سال کے لیے پاکستان کی اقتصادی شرح نمو سے متعلق اپنی پیش گوئی کو کم کر کے صرف 0.5 فیصد کر دیا۔
ساتھ ہی مالیاتی ادارے نے افراط زر کی شرح 27 فیصد سے تجاوز کرنے اور بے روزگاری کی شرح 7 فیصد تک بڑھنے کا اشارہ بھی دیا۔ یہ اعداد و شمار اکتوبر کے بعد سے گزشتہ 6 ماہ کے دوران معاشی بنیادیات کی غیر مبہم خرابی کو ظاہر کیا۔
اکتوبر میں فنڈ نے عالمی معیشت میں سست روی اور سیلاب کے تباہ کن اثرات کے درمیان ملک کی مجموعی ملکی پیداوار 2022 کے 6 فیصد کے مقابلے میں 3.5 فیصد بڑھنے اور افراط زر کی شرح گزشتہ سال 12.1 فیصد کے مقابلے میں 20 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی تھی۔
آئی ایم ایف نے کہا کہ اسی دوران اشیا کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے عالمی افراط زر 2022 کے 8.7 فیصد سے 2023 میں 7 فیصد تک گرنے کے لیے تیار ہے لیکن غیر مستحکم توانائی اور خوراک کے اجزا کو چھوڑ کر بنیادی افراط زر آہستہ آہستہ کم ہونے کا امکان ہے۔
پاکستان کی ترقی کے امکانات پر نظرثانی عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سےگزشتہ ہفتے پیش کیے گئے 0.4 فیصد اور 0.6 فیصد اسی طرح اندازوں کی طرح ہے، انہوں نے رواں سال کے لیے مہنگائی بالترتیب 29.5 فیصد اور 27.5 فیصد رہنے کا بھی تخمینہ لگایا تھا۔
اپنے اہم عالمی معاشی منظر نامے (ڈبلیو ای او) میں آئی ایم ایف نے پاکستان میں بے روزگاری کی شرح گزشتہ سال 6.2 فیصد کے مقابلے میں 7 فیصد تک بڑھنے کا تخمینہ بھی لگایا ہے۔
تاہم مالی سال 2024 کے لیے آئی ایم ایف نے اقتصادی ترقی کے 3.5 فیصد تک بہتر ہونے، افراط زر کی شرح 22 فیصد تک بلند رہنے اور بے روزگاری کی شرح قدرے کم ہو کر 6.8 فیصد تک رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔
ڈبلیو ای او کے مطابق ترقی کے نقصان، بلند مہنگائی اور اعلیٰ بیروزگاری کی قیمت پر، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اس مالی سال کے دوران جی ڈی پی کے 2.3 فیصد تک گر جائے گا جو ایک سال پہلے 4.6 فیصد تھا اور آئندہ سال تھوڑا سا بڑھ کر 2.4 فیصد ہو جائے گا۔
آئی ایم ایف کی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی پیش گوئی اس کے پہلے کے 2.5 فیصد کے تخمینہ سے 20 بیسس پوائنٹس کم ہے، جو کہ عملے کی سطح کے معاہدے تک پہنچنے میں پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان تنازع کی کلیدی رکاوٹوں میں سے ایک تھا۔
تازہ ترین آؤٹ لک میں آئی ایم ایف نے عالمی اقتصادی پیداوار کے لیے اپنی بنیادی پیش گوئی کو بھی 2022 میں 3.4 فیصد سے کم کر کے اس سال 2.8 فیصد کر دیا ہے۔
اگرچہ افراط زر میں کمی آئی ہے کیونکہ مرکزی بینکوں نے شرح سود میں اضافہ کیا ہے اور خوراک اور توانائی کی قیمتیں نیچے آگئی ہیں لیکن قیمتوں کا بنیادی دباؤ مسلسل ثابت ہو رہا ہے جبکہ کئی معیشتوں میں لیبر مارکیٹ سخت ہے۔


مشہور خبریں۔
خطے کی تازہ صورتحال پر امریکی ذرائع ابلاغ کا ردعمل
?️ 8 جون 2026سچ خبریں:امریکی ذرائع ابلاغ نے خطے میں گزشتہ گھنٹوں کے دوران پیش
جون
اسرائیلی خبرنگار کا نتانیاہو کی ایران سے متعلق سانسور اور جھوٹ پر اعتراض
?️ 21 اپریل 2026سچ خبریں: ایک سینئر اسرائیلی صحافی کے بنیامین نتانیاہو کی ایران کے
اپریل
ایران کے ممکنہ ردعمل کے بارے میں اسرائیل کی تشویش
?️ 5 نومبر 2024سچ خبریں:سیاسی اور میڈیا حلقوں میں ایران کے ممکنہ ردعمل پر جاری
نومبر
بلوچستان: اپوزیشن ارکان کا حکومتی وفد کے ساتھ مزید بات چیت سے انکار
?️ 27 جون 2021کوئٹہ(سچ خبریں) اپوزیشن ارکان نے حکومتی وفد کے ساتھ مزید بات چیت
جون
چین، ٹرمپ کے 245 فیصدی ٹیرف کے نشانے پر!
?️ 16 اپریل 2025 سچ خبریں:امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں چین کے
اپریل
اسرائیل کے دفاعی ادارے کے اربوں ڈالر کیسے ضائع ہوئے؟
?️ 22 دسمبر 2024سچ خبریں: مزاحمتی محاذوں کی طرف سے داغے جانے والے میزائلوں اور
دسمبر
بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے پر دنیا پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی سراہنے لگی
?️ 11 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر
سابق اسرائیلی وزیر اعظم: اسرائیل کا انتظام غنڈوں کے ایک گروہ کے ذریعے کیا جا رہا ہے
?️ 2 جون 2025سچ خبریں: اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے ایک بیان
جون