پاکستان کی برآمدات میں مسلسل دسویں مہینے تنزلی، جون میں 19 فیصد گھٹ گئیں

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان کی اشیا کی برآمدات مالی سال 23-2022 کے دوران سالانہ بنیادوں پر 12.71 فیصد کمی کے بعد 27 ارب 54 کروڑ ڈالر رہ گئیں جو گزشتہ مالی سال کے دوران 31 ارب 78 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں۔

میڈیا رپورٹس میں پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق برآمدات میں مسلسل دسویں مہینے کمی ہوئی، جون میں سالانہ بنیادوں پر یہ 18.72 فیصد گر کر 2 ارب 36 کروڑ ڈالر رہیں۔

برآمدات میں کمی کی بنیادی وجوہات میں اندرونی و بیرونی عوامل ہیں، جن کے سبب خاص طور پر ٹیکسٹائل یونٹس کی بندش کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

حکومت نے مالی سال 2023 میں برآمدات کا ہدف 32 ارب ڈالر مقرر کیا تھا جو 4 ارب 46 کروڑ کے بڑے فرق سے پورا نہ ہوسکا۔

پورے مالی سال کے دوران وزارت تجارت کے اندر برآمدات میں کمی کے اسباب کو حل کرنے اور برآمد کنندگان کی مدد کے لیے حل تجویز کرنے کے لیے کسی بھی بیان یا اجلاس کی واضح غیر موجودگی رہی۔

وزیر تجارت کی بنیادی مصروفیات بیرون ملک دورے کرنے پر رہی جبکہ وہ گرتی ہوئی برآمدات کے حوالے سے عوامی سطح پر بیان دینے میں ناکام رہے۔

جون میں درآمدات بھی 46.80 فیصد گر کر 4 اب 18 کروڑ ڈالر رہ گئیں جو گزشتہ برس کے اسی مہینے میں 7 ارب 85 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں، مالی سال 2022 کے دوران 80.13 ارب ڈالر کے مقابلے میں 2023 میں درآمدات 31 فیصد تنزلی کے بعد 55 ارب 29 کروڑ ڈالر رہیں۔

حکومت نے پُرتعیش اور غیر ضروری اشیا کی درآمدات کو دسمبر 2022 سے روک دیا تھا اور صرف خام مالی، نیم فرنشڈ اشیا، ادویات، فوڈ اور توانائی کی مصنوعات کی درآمدات کی حوصلہ افزائی کی گئی، جس کے نتیجے میں درآمدی بل کم ہوا۔

حکومت نے اب درآمدات پر پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) کھولنے یا اسے سست کرنے جیسے اقدامات نہیں کرے گا، آئی ایم ایف کے ساتھ 9 مہینے کے لیے 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے معاہدے سے قبل یہ پیشگی شرط تھی۔

مالی سال 2023 کے دوران تجارتی خسارہ 43.03 فیصد گھٹ کر 27 ارب 54 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ مالی سال کے دوران 48 ارب 35 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا تھا، سالانہ بنیادوں پر جون میں تجارتی خسارہ 63.32 فیصد تنزلی کے بعد ایک ارب 81 کروڑ ڈالر رہا۔

برآمدات میں منفی نمو مالی سال 2022 کے پہلے مہینے جولائی میں شروع ہوئی جبکہ اگست میں معمولی اضافہ دیکھا گیا تھا، برآمدات میں کمی ایک تشویشناک عنصر ہے، جو ملک کے بیرونی کھاتے میں توازن پیدا کرنے میں مسائل پیدا کرے گا۔

ٹیکسٹائل اور کپڑے کا ملکی برآمدات میں 60 فیصد سے زائد حصہ ہے، اس میں کمی سے کی وجہ سے مجموعی برآمدات میں کمی ہوئی۔

برآمد کنندگان نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی حکمت عملی کے فقدان اور مؤثر طریقے سے ترجیح دینے میں ناکامی کے باعث ٹیکسٹائل کی برآمدات میں کمی آرہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ برآمدات میں تنزلی کی بنیادی وجہ میں سرمائے کی قلت، ریفنڈز کا پھنسنا جیسا کے سیلز ٹیکس، مؤخر سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، مقامی ٹیکسز اور لیویز پر ڈیوٹی ڈرا بیک، ٹیکنالوجی کو اَپ گریڈ کرنے کا فنڈ اور ڈیوٹی ڈرا بیک شامل ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بدقسمتی سے ریفنڈ کا تیز تر نظام ارادے کے مطابق کام نہیں کر رہا ہے، اب ریفنڈز میں 72 گھنٹے کے بجائے 3 سے 5 مہینے لگتے ہیں۔

مالی سال 2023 کے دوران برآمد کنندگان کو خام مال درآمد کرنے اور اسے دیگر مقامی ذرائع سے حاصل کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔

مشہور خبریں۔

پاکستان میں CPEC کے لیے سخت حفاظتی اقدامات

?️ 8 نومبر 2022چین اور پاکستان نے اتفاق کیا ہے کہ سی پیک منصوبے کی

روسی نائب وزیر خارجہ کا امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت کا اعتراف، یوکرین جنگ پر ممکنہ حل کی تلاش جاری

?️ 22 نومبر 2025 روسی نائب وزیر خارجہ کا امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت

یوکرین کی جنگ میں ریاض کی پوزیشن

?️ 20 مئی 2023سچ خبریں:سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے جمعہ کو جدہ میں

نبی کریمﷺ کی سیرت اخلاقی معیار کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے: وزیراعظم

?️ 8 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارے

ہم سعودی عرب کے بغیر بھی آگے بڑھیں گے:صیہونی وزیر

?️ 28 اکتوبر 2025سچ خبریں:صیہونی وزیر خزانہ بتسلئیل اسموتریچ نے سعودی عرب کے خلاف ایک

صیہونی قبرستان سے فلسطینی خواتین قیدیوں کی کہانی

?️ 3 فروری 2025سچ خبریں: عبلہ سعدات اور خالدہ جرار دو فلسطینی خواتین قیدی ہیں

اگلے سال صرف وزارت سائنس کی طرف منظورہ شدہ پنکھے ہی استعمال ہوں گے

?️ 14 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں)تفصیلات کے مطابق حکومت نے عوام کے بجلی کے

حزب اللہ حیفا کو خاک میں ملا سکتی ہے: صہیونی جنرل

?️ 15 ستمبر 2024سچ خبریں: حزب اللہ کے ساتھ جنگ میں توسیع کے نتائج کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے