’پاکستان کو رواں مالی سال بیرونی قرضوں کی مد میں 25 ارب 90 کروڑ ڈالر ادا کرنے ہیں‘

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان کو مالی سال 26-2025 میں بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی مد میں مجموعی طور پر 25 ارب 90 کروڑ ڈالر کی ادائیگیاں کرنی ہیں، جن میں 22 ارب ڈالر اصل رقم اور تقریباً 4 ارب ڈالر سود کی مد میں ہیں۔

ڈان اخبار میں شائع خبر کے مطابق ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کو 10 ارب ڈالر کی خالص فنانسنگ کا بندوبست کرنا ہوگا، جس میں 6 ارب ڈالر اصل قرض اور 4 ارب ڈالر سود کی ادائیگی شامل ہے، یہ حساب متوقع ری فنانسنگ اور رول اوورز کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

بدھ کے روز مالیاتی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کے اعلان کے بعد ماہرین اور محققین کو بریفنگ دیتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے کہا کہ دسمبر 2025 تک زرمبادلہ کے ذخائر 15 ارب 50 کروڑ ڈالر اور جون 2026 تک 17 ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، اگر کوئی بین الاقوامی بانڈ جیسے یوروبانڈ یا سکوک جاری کیے جاتے ہیں تو ان کی آمدن ان اہداف سے زائد ہوگی۔

گورنر نے مزید بتایا کہ پاکستان کو مالی سال 26-2025 میں دو یوروبانڈز کی مد میں ایک ارب 80 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کرنی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مجموعی ادائیگیاں 26 ارب ڈالر ہوں گی، حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ ملک کے بیرونی قرضوں کی ساخت میں بہتری آئی ہے، اور اب کثیرالطرفہ قرض دہندگان عوامی بیرونی قرضوں (یعنی اسٹیٹ بینک اور حکومت دونوں کے قرضوں) کا 50 فیصد فراہم کر رہے ہیں، جو جون 2022 میں 43 فیصد تھے، قرضوں کی میچورٹی پروفائلز میں بھی بہتری دیکھی گئی ہے۔

ادائیگیوں کو مؤثر طریقے سے انجام دینے کے لیے، پاکستان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ گزشتہ مالی سال کی طرح ایک بار پھر چین، سعودی عرب، اور متحدہ عرب امارات جیسے اہم شراکت داروں سے رول اوورز حاصل کرے گا۔

ماہرین حکومت کی ان رول اوورز کو حاصل کرنے کی صلاحیت کے بارے میں پُرامید ہیں، کیوں کہ جاری کھاتوں میں فاضل توازن اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے۔

ہاؤسنگ اسکیم

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے یہ بھی اعلان کیا کہ ایک نئی ہاؤسنگ اسکیم کو اسٹیٹ بینک کے ساتھ مشاورت کے بعد حتمی شکل دی گئی ہے، اس اسکیم کو اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے منظور کر لیا ہے، اور اب کابینہ کی منظوری کے بعد بینکوں کو جاری کیا جائے گا تاکہ ہاؤسنگ سیکٹر میں قرضے اور سرگرمی کو فروغ دیا جا سکے۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک نے گزشتہ 3 برسوں میں انٹربینک مارکیٹ سے 20 ارب ڈالر کی خریداری کی ہے، اگرچہ مالی سال 25 کے لیے کوئی باضابطہ اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے، مگر بینکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے مالی سال میں اسٹیٹ بینک نے تقریباً 9 ارب ڈالر کی خریداری کی، تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کیا جا سکے۔

گورنر نے اس بات کی تصدیق کی کہ مالیاتی اداروں کے لیے ترسیلاتِ زر سے منسلک مراعات کا سلسلہ جاری رہے گا، جو وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق ہے، تاہم حکومت نے ان مراعات کو مستقبل میں مناسب حد تک لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

صنعت کے لیے کوئی مراعات نہیں

مرکزی بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ کو بلند سطح پر برقرار رکھنے کے فیصلے پر کاروباری برادری نے تنقید کی ہے, پالیسی ریسرچ اینڈ ایڈوائزری کونسل (پی آر اے سی) کے چیئرمین یونس ڈھاگہ کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ معیشت کی بحالی کے لیے درکار مراعات فراہم نہیں کرتا۔

اگرچہ افراطِ زر کی شرح میں کمی دیکھی گئی ہے، مگر حقیقی شرحِ سود 7.8 فیصد پر موجود ہے (جو خطے میں سب سے بلند شرحوں میں سے ایک ہے)۔

یہ شرح نجی شعبے کی سرمایہ کاری، صنعتی ترقی، اور مجموعی مسابقت کے لیے ایک بڑی رکاوٹ سمجھی جا رہی ہے، اس کے برعکس، خطے کے دیگر ممالک میں حقیقی شرحِ سود نسبتاً کم ہے، جیسے بھارت میں 3.4 فیصد، چین میں 2.9 فیصد، بنگلہ دیش میں 1.5 فیصد، ویت نام میں 0.9 فیصد، اور انڈونیشیا میں یہ 3.4 فیصد ہے۔

مشہور خبریں۔

بائیڈن نے صیہونیوں سے حزب اللہ کے بارے میں کیا کہا؟

?️ 21 اکتوبر 2023سچ خبریں: باخبر ذرائع نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ امریکی صدر

غزہ پر صہیونیوں کا بزدلانہ شبخون

?️ 9 مئی 2023سچ خبریں:غزہ کی پٹی پر صیہونی حکومت کے بزدلانہ حملے میں 13

امریکہ نے غزہ بحران کے بارے میں ایران سے کیا کہا ہے؟

?️ 31 اکتوبر 2023سچ خبریں: وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے ایک

عبرانی میڈیا نے اسرائیلی جیلوں میں قرون وسطیٰ کے حالات کو بے نقاب کیا

?️ 16 دسمبر 2025سچ خبریں: عبرانی زبان کے ایک میڈیا آؤٹ لیٹ نے آج صبح،

یوکرین کا خاتمہ ہو سکتا ہے: دی اکانومسٹ 

?️ 8 جولائی 2025سچ خبریں: معتبر جریدے "اکانومسٹ” نے رپورٹ کیا ہے کہ یوکرین کی

کیا عراق اور شام کو ورلڈ کپ کوالیفائر کی میزبانی کا حق نہیں ہے؟

?️ 2 جولائی 2021سچ خبریں:فٹ بال ورلڈ فیڈریشن نے عراق اور شام کو ورلڈ کپ

وزیراعظم آزادکشمیر چودھری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع نہ ہوسکی

?️ 3 نومبر 2025مظفرآباد (سچ خبریں) وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر چودھری انوارالحق کے خلاف

سیلابی صورتحال: حکومت سندھ نے وزرا کو فوکل پرسن مقرر کردیا

?️ 27 اگست 2025کراچی (سچ خبریں) سیلاب کے خدشات کے پیش نظر حکومت سندھ نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے