پاکستان نے بھارتی دعویٰ مسترد کر دیا

?️

اسلام آباد(سچ خبریں) دفتر خارجہ نے کراچی سے آنے والے ایک بحری جہاز سے قبضے میں لیے گئے ممکنہ تابکارمواد کی ضبطگی کے بارے میں بھارتی دعویٰ مسترد کردیا ساتھ ہی وضاحت دی کہ جہاز میں وہ خالی کنٹینرز تھے جنہیں پہلے کے-2 اور کے-3 نیوکلئیر پاور پلانٹس کو ایندھن کی فراہمی کے لیے استعمال میں لایا گیا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے کہا کہ بھارتی میڈیا کی ’ممکنہ تابکارمواد کی ضبطگی‘ بارے رپورٹس خلاف حقیقت، بے بنیاد، مضحکہ خیز اور بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کوبدنام اوربین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے کی روایتی چال بازی ہے۔

خیال رہے کہ مندر پورٹ پر بھارتی حکام نے چین کے شہر شنگھائی جانے والے متعدد کنٹینرز جہاز سے اتار لیے تھے۔اس کے بارے میں پورٹ کا انتظام سنبھالنے والی بھارتی کمپنی ادامی پورٹس نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ کسٹمز اور ڈی آر آئی کی ایک مشترکہ ٹیم نے مندرا پورٹ ایک غیر ملکی بحری جہاز سے غیر اعلانیہ خطرناک کارگو کے شبے پر متعدد کنٹینرز ضبط کر لیے۔

بھارتی کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ کارگو کو دستاویزات میں بے ضرر کے طور پر درج کیا گیا تھا حالانکہ ضبط کیے گئے کنٹینرز پر خطرے کے ساتویں درجے کے نشانات تھے جو تابکار مواد کو ظاہر کرتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس لیے حکام نے کارگو کو مزید معائنے کے لیے جہاز سے اتار لیا۔اپنے وضاحتی بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کراچی نیوکلئیرپاورپلانٹ کے حکام نے مطلع کیا ہے کہ یہ چین کو واپس کیے جانے والے وہ خالی کنٹینرز تھے جسے پہلے کے-2اور کے-3 نیوکلئیر پاورپلانٹس کے لیے ایندھن کی فراہمی کے لیے استعمال میں لایا گیا تھا۔

بیان میں کہا کہ کے-2 اور کے-3 نیوکلئیر پاور پلانٹس میں بین الاقوامی ایجنسی آئی اے ای اے کے حفاظتی معیارات کے تحت جوہری توانائی کی ایندھن کا استعمال کیاجاتا ہے جو مارچ 2017 سے آئی اے ای اے کے حفاظتی اقدامات کے تحت ہیں۔

حفاظتی اقدامات وہ اقدامات ہیں جن کے ذریعے آئی اے ای اے اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ جوہری سہولیات کا غلط استعمال نہیں کیا جارہا اور جوہری مواد کو پُر امن مقاصد کے علاوہ کسی اور سلسلے میں استعمال نہیں کیا جارہا۔

پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ آئی اے ای اے کے حفاظتی اقدامات سے متعلق پاکستانی حکام عزم اس بات سے ظاہر ہے کہ اس کے تمام جوہری پاور پلانٹس اور ریسرچ ری ایکٹر بغیر کسی استثنیٰ کے آئی اے ای اے کے حفاظتی اقدامات کے تحت ہیں اور کووڈ-19 کی وبا کے دوران بھی ان حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا گیا۔

دستاویزات میں کارگو کے غلط ڈیکلریشین کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کنٹینرز خالی ہونے کی وجہ سے کارگو کو درست طور پر بے ضرر قرار دیا گیا تھا۔

تررجمان نے کہا کہ بھارتی میڈیا کی فیک رپورٹس کسٹم سے متعلق ضابطہ جاتی امور کو آئی اے ای اے کے حفاظتی معیارات کی جانب موڑنے کی بدنیتی پرمبنی کوشش ہے تاکہ جوہری پروگرام کے حوالے سے پاکستان کوبدنام کیا جاسکے۔

مشہور خبریں۔

پاکستان کا بھارت میں جوہری مواد کی چوری کی تحقیقات اور ایٹمی تنصیبات کی سیکیورٹی کا جائزہ لینے کا مطالبہ

?️ 15 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی

بن سلمان ایک بے رحم لیکن کمزور مجرم

?️ 8 دسمبر 2021سچ خبریں:  60 منٹس کے آسٹریلوی ورژن نے سعودی ولی عہد محمد

امریکی سینٹکام کا آبنائے ہرمز میں ایرانی ڈرون کے بارے میں دعویٰ 

?️ 13 جون 2026سچ خبریں: امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر

شمالی وزیرستان: خودکش حملے میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 4 افراد شہید

?️ 25 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) شمالی وزیرستان کے ضلع دتہ خیل میں سیکیورٹی فورسز

افغانستان دہشت گردوں کا اڈہ بن چکا ہے؛پاکستانی فوج کا الزام

?️ 8 جنوری 2026سچ خبریں:پاکستان آرمی کے ترجمان میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا

مقبوضہ فلسطین میں موبائل فون متاثر

?️ 2 نومبر 2024سچ خبریں:خبری ذرائع کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ہزاروں موبائل فون

مغربی کنارے میں صیہونی بستیوں کی توسیع اور انتہا پسند آبادکاروں کے حملے فلسطینیوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ

?️ 17 جون 2026سچ خبریں:فلسطینی اراضی میں صہیونی بستیوں کی نگرانی کرنے والے ادارے کے

خلیج فارس کے عرب ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے خواہاں:سی این این

?️ 24 اگست 2022سچ خبریں:امریکی نیوز چینل نے خلیج فارس کی جنوبی سرحد کے عربوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے