ٹی ایل پی کارکنان کا اسلام آباد کی جانب مارچ جاری، انٹرنیٹ سروس معطل، اہم سڑکیں بند

?️

لاہور: (سچ خبریں) لاہور میں اسرائیل مخالف مظاہروں کے دوران پولیس کے ساتھ پرتشدد جھڑپوں کے بعد ہزاروں کی تعداد میں ٹی ایل پی کے کارکنان ہفتے کے روز دارالحکومت کی جانب مارچ کرتے ہوئے روانہ ہوئے۔

ٹی ایل پی نے اپنے مظاہروں کا آغاز جمعرات کو لاہور سے کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے تک مارچ کرے گی، تاکہ غزہ میں 2 سالہ جنگ کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا جا سکے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے صحافیوں نے رپورٹ کیاکہ یہ مظاہرے جمعے کو اس وقت پرتشدد ہوگئے تھے، جب پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس فائر کیے، جب کہ مظاہرین نے اہلکاروں پر پتھراؤ کیا تھا۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں سیکیورٹی اقدامات اور ٹریفک پابندیوں کے باعث سرگرمیاں مسلسل دوسرے روز بھی متاثر رہیں، حکام نے موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کر دی اور اہم سڑکیں بند کر دیں، دارالحکومت کی اہم شاہراہوں پر مظاہرین کی آمد کے پیشِ نظر شپنگ کنٹینرز بطور رکاوٹ رکھے جا رہے تھے۔

اسلام آباد ٹریفک پولیس کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ’دارالحکومت میں ہر قسم کی بھاری گاڑیوں کا داخلہ اگلے احکامات تک معطل رہے گا۔

نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ فیض آباد کے علاقے میں امن و امان کی صورتحال کے باعث ٹریفک میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، اور شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ متبادل راستے اختیار کریں تاکہ مشکلات سے بچ سکیں۔

کمیٹی چوک، لیاقت باغ موڑ، ڈی اے وی کالج چوک، ایم ایچ چوک، اور ناز سنیما سمیت اہم چوراہے بند کر دیے گئے ہیں، صدر کے علاقے میں حیدر روڈ، سوزوکی اسٹینڈ اور مری چوک بھی بند رہے، جب کہ کچہری چوک جانے والے راستے ناقابلِ رسائی رہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ سوان پل اور نیو گلزار قائد پر جزوی ٹریفک بحال ہو گئی ہے، مگر چکری، تھالیاں، برہما، اور مندرہ جیسے بڑے انٹرچینجز بدستور بند ہیں، جس سے راولپنڈی کی اہم شاہراہوں پر رسائی منقطع ہو گئی ہے، یہی صورتحال دیہی داخلی راستوں پر بھی رہی، جہاں ڈھوک تلا موڑ، میسہ کسوال، بائی خان پل، اور جی ٹی روڈ نزد گوجر خان بند رہے۔

ادھر موٹروے حکام کے مطابق ایم-1 صرف پشاور کی سمت میں کھلی ہے، جب کہ ایم-2 راولپنڈی اور لاہور دونوں سمتوں میں بند ہے۔

ایک سینئر پولیس اہلکار نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ جمعے کی جھڑپوں میں 50 پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے، جب کہ ٹی ایل پی کے بعض کارکنوں کی ہلاکت کے دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

ٹی ایل پی کا کہنا تھا کہ مظاہرے دراصل اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والے غزہ جنگ بندی معاہدے کی مخالفت کے لیے منظم کیے گئے تھے، جس کی پاکستان نے حمایت کی، تاہم اب یہ فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

ٹی ایل پی کے سینئر رہنما علامہ محمد عرفان نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ ہمارے کوئی اور مطالبات نہیں ہیں، سوائے اس کے کہ ہم غزہ کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں معلوم نہیں کہ ہم کب اسلام آباد پہنچیں گے، مگر حکومت ہمارے ساتھ ظلم کر رہی ہے۔ ہم حکومت سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں کر رہے۔

وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے جمعرات کو عہد کیا تھا کہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ اسلام آباد میں کسی بھی انتہا پسند سرگرمی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، جو معاہدہ حماس اور فلسطین کے لیے قابلِ قبول ہے، وہ آپ کے لیے کیوں قابلِ قبول نہیں؟

اسرائیل نے جمعے کے روز دوپہر کے قریب جنگ بندی کا اعلان کیا اور اپنی فوجوں کو واپس بلانا شروع کر دیا تھا۔

مشہور خبریں۔

فیض آباد دھرنا کیس: فیصلے پر عمل درآمد کیلئے کمیٹی بنادی، حکومت کا سپریم کورٹ میں جواب

?️ 27 اکتوبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا ہے

شیرین ابو عاقلہ کی شہادت کے بارے میں صیہونی حکومت کا نیا دعویٰ

?️ 5 ستمبر 2022سچ خبریں:       صیہونی حکومت کی فوج نے دعویٰ کیا ہے

عراقی تجزیہ کار کے نقطہ نظر سے خطے میں امریکی فوجی نقل و حرکت کا راز

?️ 7 اکتوبر 2025سچ خبریں: عراقی سیاسی تجزیہ کار مؤید الجحیشی نے زور دے کر

تل ابیب کے خلاف لندن کے فوجی فیصلے پر اسرائیلی وزارت جنگ سخت رد عمل

?️ 29 اگست 2025تل ابیب کے خلاف لندن کے فوجی فیصلے پر اسرائیلی وزارت جنگ

جنوب مشرقی ایشیا میں چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ

?️ 22 جولائی 2025سچ خبریں: جنوب مشرقی ایشیا میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے امریکہ اور

عبرانی میڈیا دماغی صحت کے مسائل کی وبا کے بارے میں رپورٹ کرتا ہے جس نے اسرائیل کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے

?️ 12 اگست 2025سچ خبریں: عبرانی زبان کے ایک میڈیا آؤٹ لیٹ کے مطابق اسرائیل

2022 میں اسرائیل کے خطرناک چیلنج

?️ 31 دسمبر 2021سچ خبریں:  صیہونی فوجی ماہر نے 2022 کے موقع پر صیہونی حکومت کو

ڈھائی سال کی شہیدہ، صہیونی بربریت کا ایک اور ثبوت

?️ 26 جنوری 2025سچ خبریں: لیلیٰ محمد الخطیب، جن کی عمر صرف ڈھائی سال تھی،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے