?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے انصاف کی فراہمی کو موثر بنانا ہے، مقدمات کو جلد نمٹانا ترجیحات میں شامل ہے، ’ڈیجیٹل اسکین پروجیکٹ‘ کامیاب ہونے پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کا استعمال شروع ہوگا، سپریم کورٹ سب کی ہے، ہمیشہ قانون کی بالادستی کے لیے کام کیا ہے، عدالتی نظام میں شفافیت انصاف مہیا کرے گی۔
سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ نئے عدالتی سال کی اس تقریب کا آغاز 1970 کی دہائی میں ہوا، 2004 سے اس تقریب کو باقاعدگی سے منانا شروع کیا، یہ ہمارے لیے اپنی کارکردگی پر نگاہ ڈالنے کا موقع ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیشہ قانون کی بالادستی کے لیے کام کیا، عدالتی نظام میں شفافیت اورآسانیوں سے سائلین کو فوری انصاف ملے گا، ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے عدالتی نظام کو مؤثر بنایا جارہا ہے، مقدمات کو جلد نمٹانا ترجیح ہونی چاہیے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد اصلاحات کی ضرورت محسوس کی، ہم نے 5 بنیادوں پر اصلاحات شروع کیں، بطور چیف جسٹس ریفارمز کرنے کی اہمیت کا سوچا، ٹیکنالوجی کے ذریعے سروس ڈیلیوری کو اہمیت دی، کیسز میں شفافیت کو اہمیت دی، قانونی فریم ورک کو اہمیت دی۔
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں 8 سیکشنز ہیں، ہر سیکشن نے انصاف کی جلد فراہمی کو ترجیح دی، 6 اجلاس کیے گئے جس میں ریفارمز پر بحث ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ڈیجیٹل کیس فائلنگ، کیس ٹریکنک جیسے اقدامات کیے، جس کے تحت 61 ہزار فائلیں ڈجیٹلی اسکین ہوں گی اور منصوبہ 6 ماہ میں مکمل ہوجائے گا، ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی ہر کوئی بات کرتا ہے، کیسز کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے مقرر کیا جائےگا، ڈیجیٹل اسکین پروجیکٹ کامیاب ہونے پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا استعمال شروع ہوگا۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ سپریم کورٹ سب کا ہے، فیسیلیٹیشن سینٹر یکم اکتوبر سے مکمل طور پر کام شروع کردے گا، فیسیلیٹیشن سینٹر میں تمام انفارمیشن دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ رولز کو ایک دن میں نہیں بنایا جاسکتا، پروپوزلز کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں گے، کمیٹی جو تجویز کرےگی اس کے مطابق آگے چلیں گے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ میرے اور ججز کے ساتھ سیکیورٹی میں کمی کی گئی ہے، ریڈ زون میں پروٹوکول میں کمی کی گئی ہے، اسلام آباد سے باہر جانے پر ججز کو سیکیورٹی کی ضرورت پڑ سکتی ہے لیکن ریڈ زون میں اتنی نہیں، میرے ساتھ سیکیورٹی کی 9 گاڑیاں ہوتی تھیں، میں نے کہا ریڈ زون میں عدالت اور رہائش ہے اتنی سیکیورٹی کی ضرورت نہیں، اپنی سیکیورٹی کی گاڑیاں کم کر کے صرف 2 رکھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ رولز میں ججز کی چھٹیوں کا معاملہ واضح کیا ہے، عدالتی تعطیلات کے دوران کسی جج کو اجازت کی ضرورت نہیں، لیکن عام تعطیلات کے علاوہ چھٹی کے لیے بتانا لازمی ہوگا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف 64 شکایات کا فیصلہ ہو چکا، 72 شکایات رائے کے لیے ممبرز کو دی گئی ہیں، باقی 65 کیسز رہ گئے ہیں، اس ماہ کے آخر تک سپریم جوڈیشل کونسل کی میٹنگ ہو گی، باقی 65 کیسز بھی ججز کو دے دیے جائیں گے، پہلے آئے کیسز کو پہلے دیکھ رہے ہیں، ہم یہ نہیں کریں گے سب سے نیچے سے کوئی کیس اٹھا کر اوپر لے آئیں۔


مشہور خبریں۔
یمن جنگ میں ریاض کی غلط فہمیاں اور علاقائی حیثیت کے لیے سعودی عرب کا ناقابل واپسی راستہ
?️ 17 نومبر 2021سچ خبریں:یمن جنگ میں شکست کی تلافی کے لیے سعودی عرب کے
نومبر
گرفتاری کے خوف سے نتین یاہو کا دورہ واٹیکن منسوخ
?️ 17 مئی 2025 سچ خبریں:صیہونی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر اعظم
مئی
گوگل فوٹوز میں مصنوعی ذہانت سے آراستہ جدید فیچرز کا اضافہ ہوگیا
?️ 31 مئی 2025سچ خبریں: گوگل فوٹوز نے اپنی 10ویں سالگرہ کے موقع پر فوٹو
مئی
عمران خان کو اڈیالہ جیل میں حاصل سہولیات کے بارے میں رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع
?️ 17 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل راولپنڈی
فروری
ہر فرد کی عزت، مساوات اور انصاف کا تحفظ ریاست کی بنیادی ترجیح ہے: صدر مملکت
?️ 10 دسمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے
دسمبر
بھارت کا معاشرہ تیزی سے زوال کی طرف جا رہا ہے: فواد چوہدری
?️ 9 فروری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے باحجاب
فروری
یو اے ای اور قطر کے سفارتی تعلقات پر سعودی عرب کا ردعمل
?️ 21 جون 2023سچ خبریں:سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس
جون
فلسطین؛ یوم نکبہ سے یوم مزاحمت تک
?️ 15 مئی 2024سچ خبریں: اگرچہ غزہ کی پٹی میں حالیہ جنگ کی وجہ سے ہونے
مئی