وزارت خارجہ نے شمع جونیجو کی یو این ایس سی اجلاس میں شمولیت سے خود کو الگ کر لیا

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) وزارتِ خارجہ نے کالم نگار شمع جونیجو کی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کے اجلاس میں پاکستان کے وفد میں مبینہ شمولیت کے تنازع سے خود کو الگ کر لیا ہے۔

25 ستمبر کو وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے مصنوعی ذہانت کے موضوع پر سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کیا تھا، تاہم ان کی تقریر کی تصاویر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر تیزی سے پھیل گئی تھیں، کیوں کہ صارفین نے پس منظر میں شمع جونیجو کو بیٹھے ہوئے دیکھا اور ان کے پرانے ٹوئٹس کے اسکرین شاٹس شیئر کیے، جن میں انہوں نے اسرائیل کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔

سوشل میڈیا پر ہنگامہ آرائی کے بعد آصف نے وضاحت کی کہ انہوں نے یہ خطاب وزیراعظم شہباز شریف کی مصروفیات کی وجہ سے ان کی جگہ کیا تھا، وزیراعظم اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) کے 80ویں اجلاس میں شریک تھے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ یہ خاتون یا جو بھی میرے پیچھے بیٹھی تھیں، یہ سب وزارتِ خارجہ کے اختیار میں ہے۔

وزیرِ دفاع نے کہا کہ گزشتہ 60 برسوں سے ان کی فلسطین کے مسئلے سے جذباتی وابستگی اور ذاتی کمٹمنٹ ہے, انہوں نے بتایا کہ وہ ابو ظہبی میں کام کے دوران فلسطینی دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ رہے ہیں اور آج بھی ان سے رابطے میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ غزہ پر میرا مؤقف بالکل واضح ہے اور میں اسے کھل کر بیان کرتا ہوں، اسرائیل اور صیہونیت سے صرف نفرت ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ یہ خاتون کون ہیں، وہ وفد کے ساتھ کیوں ہیں اور میرے پیچھے کیوں بیٹھی تھیں؟ ان سوالات کا جواب صرف وزارتِ خارجہ دے سکتی ہے، میرے لیے ان کی جگہ جواب دینا مناسب نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ’ایکس‘ اکاؤنٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ فلسطین کے ساتھ ان کا تعلق ان کے ایمان کا حصہ ہے۔

بعدازاں جمعہ کی رات دیر گئے ’ایکس‘ پر جاری بیان میں وزارتِ خارجہ نے شمع جونیجو کا نام لیے بغیر کہا کہ اس نے حال ہی میں یو این ایس سی اجلاس میں وزیرِ دفاع کے پیچھے ایک مخصوص فرد کے بیٹھنے کے حوالے سے سوالات نوٹ کیے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ فرد ڈپٹی وزیراعظم و وزیرِ خارجہ کے دستخط شدہ سرکاری لیٹر آف کریڈنس میں شامل نہیں تھا، جو پاکستان کے 80ویں یو این جی اے اجلاس کے وفد کے لیے جاری کیا گیا تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ وزیرِ دفاع کے پیچھے ان کی نشست ڈپٹی وزیراعظم/وزیرِ خارجہ کی منظوری سے نہیں تھی۔

ادھر، شمع جونیجو نے بھی ایکس پر اپنے پرانے ٹوئٹس کے اسکرین شاٹس شیئر کیے، جن میں انہوں نے غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کی مذمت کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ یوتھیے مجھے صیہونی کہہ رہے ہیں جبکہ گزشتہ 2 سال سے میں تقریباً روزانہ غزہ کے بارے میں ٹوئٹ کر رہی ہوں، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو جنگی مجرم کہہ رہی ہوں اور اسرائیلی مظالم دکھا رہی ہوں۔

یوتھیا ایک تحقیر آمیز اصطلاح ہے، جو عموماً پی ٹی آئی کے حامیوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر یہ پوری مہم میرے خلاف اس لیے چلائی گئی ہے، کیوں کہ وہ صرف مجھ سے ڈرتے ہیں۔

ہنگامہ

سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ کوئی بھی سلامتی کونسل یا جنرل اسمبلی کے اجلاس میں وزیر کے پیچھے نہیں بیٹھ سکتا جب تک کہ اسے حکومت کے سرکاری نمائندے کے طور پر تسلیم نہ کیا گیا ہو۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ تو یہ کس نے ہونے دیا اور کیوں؟ کیا کوئی خفیہ پالیسی ایجنڈا اسرائیل، بگرام بیس یا ابراہام معاہدوں کے حوالے سے چل رہا ہے؟ حکومتِ پاکستان کو وضاحت دینی چاہیے — اس کی ذمہ داری کس پر ہے؟

کمیونٹی الائنس فار پیس اینڈ جسٹس کی ڈائریکٹر مِلحَقہ صمدانی نے کہا کہ شمع جونیجو اسرائیل اور تعلقات کی بحالی کے ایجنڈے کی حامی ہیں، انہیں پاکستان کے یو این جی اے وفد میں شامل کرنا ملک کے لیے اچھا تاثر نہیں ہے۔

دوسری جانب، صحافی احمد نورانی نے کہا کہ جونیجو کی حب الوطنی پر سوال اٹھانا یا ان کے سفارت کاری سے متعلق خیالات کی بنیاد پر انہیں ‘اسرائیل نواز’ قرار دینا شرمناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ گھٹیا کردار کشی کی مہم گندے ذہنوں والے ٹرولز چلا رہے ہیں۔

مشہور خبریں۔

لبنانی وزیر اطلاعات کا استعفیٰ؛ سعودی عرب کی ایک اور شکست

?️ 4 دسمبر 2021سچ خبریں:سعودی حکومت نے39 دنوں تک اپنی تمام سیاسی، سفارتی، میڈیا اور

امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن کا الارم بج گیا

?️ 30 ستمبر 2023سچ خبریں:امریکی ایوان نمائندگان میں ریپبلکنز نے کانگریس کے اسپیکر کیون میکارتھی

امریکہ کا پولرائزیشن ہمارے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے: رابرٹ گیٹس

?️ 18 اکتوبر 2021سچ خبریں: ریپبلکن جس نے آٹھ امریکی صدر کی انتظامیہ میں خدمات

سری لنکا میں جنگی جرائم کا معاملہ، اقوام متحدہ نے بڑا قدم اٹھالیا

?️ 24 مارچ 2021جنیوا (سچ خبریں) اقوام متحدہ نے سری لنکا میں جنگی جرائم کے

یوکرین کے لیے مگرمچھ کے آنسو بہانے والے فلسطینیوں کے قتل پر خاموش

?️ 17 اپریل 2022سچ خبریں:  سیاسی امور کے ماہر اور جمہوریہ آذربائیجان کی وائٹ پارٹی

صیہونی حکومت اور شام کے درمیان نیا فوجی سیکورٹی معاہدہ

?️ 9 جون 2025سچ خبریں: حیفا یونیورسٹی کے پروفیسر اماتزیہ برعم نے آج معاریو کے

بعلبک کے تاریخی ورثے کو صیہونی حکومت سے شدید خطرہ

?️ 9 نومبر 2024سچ خبریں:بعلبک کے گورنر نے صیہونی حکومت کے وسیع حملوں پر شدید

سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کےخلاف فوری کارروائی سے متعلق درخواست خارج

?️ 27 جون 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے