واپڈا میں مستقل افسران کی غیر موجودگی، ادارہ انتظامی بحران اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کا شکار

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) ملک کا سب سے بڑا سرکاری ادارہ واپڈا اس وقت مستقل افسران کی غیر موجودگی کے باعث شدید انتظامی بحران کا شکار ہے، اہم عہدے 9 ماہ سے خالی ہیں جب کہ بڑے ترقیاتی منصوبے سست روی کا شکار ہو چکے ہیں اور ادارہ صرف ’نگرانی‘ کی بنیاد پر چلایا جا رہا ہے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا)، جو کہ ملک کے سب سے بڑے سرکاری اداروں میں سے ایک ہے اور جس کا مالیاتی حجم تقریباً 70 ارب ڈالر ہے، اس وقت اہم فیصلہ ساز افسران کی غیر موجودگی کے باعث سنگین بیوروکریٹک رکاوٹوں کا شکار ہے۔

واپڈا کی گورننگ باڈی کے دو اہم عہدے گزشتہ نو ماہ سے خالی ہیں، جس کے باعث ادارے کی کارکردگی شدید متاثر ہوئی ہے۔

یہ انتظامی مفلوجی اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ واپڈا اس وقت ملک کی تاریخ کے تین بڑے بجلی منصوبوں دیامر بھاشا، داسو اور مہمند ڈیم پر کام کر رہا ہے۔

اس کے علاوہ واپڈا عملی طور پر انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے آپریشنل نظام کو بھی سنبھالتا ہے، جو وفاقی اکائیوں کے درمیان پانی کی تقسیم اور زرعی نظام کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔

تاہم ستم ظریفی یہ ہے کہ خود ارسا بھی اس وقت بورڈ کی تشکیل کے حوالے سے قانونی تنازعات کا شکار ہے، جہاں سندھ سے مستقل رکن کی تقرری تنازع کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

واپڈا ایکٹ کے تحت گورننگ باڈی میں تین مستقل ارکان پانی، بجلی اور مالیات اور ایک مستقل چیئرمین شامل ہوتا ہے، جو ہر سال سیکڑوں ارب روپے کے فنڈز کی نگرانی کرتا ہے۔

فی الحال، یہ باڈی پانی اور بجلی کے مستقل ارکان کے بغیر کام کر رہی ہے اور ان عہدوں کی ذمہ داریاں دو سینئر افسران سید علی اختر شاہ (پانی) اور محمد عرفان (بجلی) کو ’نگرانی‘ کے طور پر سونپی گئی ہیں۔

سید علی اختر شاہ اس سے قبل جنرل منیجر واٹر (جنوب) رہ چکے ہیں، جب کہ محمد عرفان نیلم-جہلم ہائیڈرو پاور کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر بھی ہیں۔

نگرانی کا مطلب

’نگرانی‘ کے عہدے کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ افسر، بالکل عبوری حکومت کی طرز پر کسی قسم کے مالی یا انتظامی فیصلے نہیں کر سکتا۔

جون میں جب سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) سجاد غنی نے استعفیٰ دیا تو واحد مستقل رکن نوید اصغر چوہدری کو اضافی طور پر چیئرمین کی ذمہ داری بھی دے دی گئی۔

نوید اصغر چوہدری بنیادی طور پر مالیات کے رکن ہیں اور اس عہدے پر مستقل تقرری رکھتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ چار رکنی بورڈ اس وقت ایک مستقل رکن اور دو ’اضافی چارج‘ رکھنے والے افسران کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

نوید چوہدری اس سے قبل 2022 میں بھی عارضی چیئرمین رہ چکے ہیں، جب لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے ’ذاتی وجوہات‘ کی بنا پر استعفیٰ دیا تھا اور تین ماہ بعد یہ عہدہ لیفٹیننٹ جنرل سجاد غنی کو سونپ دیا گیا تھا۔

واپڈا کے سابق ڈائریکٹر جنرل برائے انسانی وسائل کے مطابق یہ ایک انتظامی بدنظمی ہے، جس کی قومی سطح پر بھاری قیمت ادا کی جا رہی ہے۔

مثال کے طور پر اس وقت واپڈا اپنی کورم کی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہے، جو کسی بھی فیصلے کے لیے قانونی طور پر ضروری ہے۔

قانون کے مطابق کورم مکمل ہونے کے لیے چیئرمین اور کم از کم ایک مستقل رکن کی موجودگی لازمی ہے، لیکن ان دونوں عہدوں پر اس وقت ایک ہی شخص فائز ہے۔

ایسے حالات میں بورڈ کا کوئی بھی فیصلہ آڈٹ اعتراضات یا قانونی چیلنجز کا سامنا کر سکتا ہے۔

الزام تراشی کا سلسلہ

ڈان نے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل محمد معین وٹو سے اس حوالے سے دو ہفتوں کے دوران متعدد بار رابطے کی کوشش کی، لیکن وزیر اور ان کے ترجمان نے واپڈا کی گورننگ باڈی کی تشکیل سے متعلق کوئی جواب نہیں دیا۔

اندرونی ذرائع کے مطابق واپڈا کے پانی اور بجلی کے دونوں ارکان کی مدتِ ملازمت نومبر 2023 میں ختم ہو گئی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت کو اس کی پیشگی اطلاع دے دی گئی تھی اور دونوں اسامیوں کو پر کرنے کے لیے ایک اشتہار کی منظوری کے لیے اکتوبر 2024 میں بھیجا گیا، لیکن وزارت نے نہ خود اشتہار جاری کیا اور نہ ہی واپڈا کو اس کی اجازت دی۔

ادھر، سابقہ ارکان کو زبانی ہدایت پر اپنے عہدوں پر کام جاری رکھنے کو کہا گیا، جو 13 مارچ 2025 تک جاری رہا۔

بعد ازاں، وزارت کی جانب سے مدتِ ملازمت کی بابت استفسار کے بعد وہ مستعفی ہو گئے، اس کے بعد واپڈا نے دونوں خالی عہدوں کا ’نگرانی‘ چارج سینئر افسران کو دے دیا۔

واپڈا ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ وزارت کو بار بار تقرریوں کے لیے یاد دہانی کرواتے رہے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی، اسی انتشار کے دوران سابق چیئرمین نے 20 جون کو اچانک استعفیٰ دے دیا۔

ان کے بعد وزارت نے واحد مستقل رکن (مالیات) کو چیئرمین کی ذمہ داریاں بھی دے دیں۔

وزارتِ آبی وسائل نے تاخیر کا الزام وزیراعظم آفس پر ڈال دیا، ایک وزارت کے اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ افسران کی بھرتی کے لیے سلیکشن بورڈز تشکیل دے کر وزیراعظم آفس کو بھیجے گئے، لیکن وہاں سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

بعد ازاں بتایا گیا کہ سلیکشن بورڈ کے ارکان کے نام ’ویٹنگ‘ کے عمل سے گزر رہے ہیں اور یہ عمل تاحال جاری ہے۔

مشہور خبریں۔

انسان ہوں یا فرشتے، مذاکرات کریں گے اور مطالبات نہ مانے تو سول نافرمانی کی تحریک شروع ہوگی، عمر ایوب

?️ 9 دسمبر 2024 پشاور: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف رہنما اور قومی اسمبلی میں

خیبرپختونخواہ حکومت نے محسن نقوی کو وزیراعلیٰ کی جبری گمشدگی کا ذمہ دار قرار دے دیا

?️ 6 اکتوبر 2024پشاور: (سچ خبریں) خیبرپختونخواہ حکومت نے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کو وزیراعلیٰ

نابلس میں صیہونیوں کے ساتھ جھڑپوں میں 67 فلسطینی زخمی

?️ 20 دسمبر 2021سچ خبریں:  نابلس کے شمال مغرب میں برقہ گاؤں میں ہونے والی

اسحاق ڈار اقوام متحدہ کی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ دفترِ خارجہ

?️ 11 جون 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر خارجہ اسحاق ڈار 17 سے 19 جون

بائیڈن کے بڑھاپے سے یورپی رہنما حیران

?️ 7 جولائی 2024سچ خبریں: واشنگٹن پوسٹ اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے

بائیڈن کا ریاض کا دورہ

?️ 11 جولائی 2022سچ خبریں:    چار باخبر ذرائع کے مطابق بائیڈن انتظامیہ سعودی عرب

امریکی عہدیدار نے طالبان کے ساتھ بائیڈن انتظامیہ کے معاملات کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا

?️ 4 مارچ 2023سچ خبریں:امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ نے طالبان

امریکی میگزین: اسرائیل ایک خطرناک صورتحال میں ہے۔

?️ 20 ستمبر 2021 (سچ خبریں) امریکی میگزین نیشنل انٹرسٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے