?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) نیب کی نا انصافیوں کا شکار ہونے والے سابق قیدیوں پر مشتمل ایک گروپ ’’نا انصافی الرٹ‘‘ نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم کو ایک کھلا خط تحریر کیا ہے جس میں انہوں نے نیب کیسز سے جڑے عدالتی عمل میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ معصوم لوگوں کو نیب کی زیادتیوں اور ظلم سے بچایا جا سکے۔
گروپ نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ نیب کارپوریٹ اور تجارتی نوعیت کے تنازعات کو فوجداری مقدمات میں تبدیل کر کے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کر رہا ہے جس سے اکثر اوقات بے گناہ لوگوں کو غیر منصفانہ انداز سے حراست میں لیا جاتا ہے۔
خط میں نیب سے جڑے معاملات سے نمٹنے میں ناکامیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ان معاملات میں مبینہ طور پر نیب والوں کا احتساب کم سے کم سطح پر ہوتا ہے۔
خط میں اس بات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے کہ وائٹ کالر جرائم کے مقدمات کی نگرانی کیلئے کارپوریٹ اور فوجداری قانون کی گہری سمجھ کے ساتھ نڈر ججوں کا تقرر ضروری ہے۔ خط میں کہا گیا ہے، ’’ہم آج بڑی امید کے ساتھ لکھ رہے ہیں کیونکہ یہ آپ کا اعزاز ہے کہ آپ کو عدالتی اصلاحات کے حوالے سے راست باز اور پرجوش سمجھا جاتا ہے۔‘‘
گروپ نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ اعلیٰ عدالت کے فیصلوں میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ نیب اختیارات کا غلط استعمال کرتا ہے۔ ان مثالوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ دیوانی تنازعات کو غلط طریقے سے فوجداری مقدمات بنایا جاتا ہے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ طاقت کا اس قدر زیادہ استعمال کیا گیا کہ پارلیمنٹ کو جون 2022ء میں قانون میں ترمیم کرنا اور یہ واضح کرنا پڑا کہ نیب کو تجارتی تنازعات کا نوٹس لینے سے روک دیا گیا ہے تاوقت یہ کہ ٹرانزیکشن کے آغاز میں مجرمانہ ارادہ ظاہر نہ ہو۔ گروپ نے ہائی کورٹ کیلئے اہم اصلاحات کی تجویز پیش کی جو یہ ہیں:
۱) نیب کے معاملات کیلئے خصوصی بنچز یعنی نیب سے متعلق مقدمات کو کارپوریٹ قانون میں مہارت رکھنے والے ایک جج کے سپرد کرنا چاہئے،
۲) کسی ایک مخصوص بینچ کی بجائے نیب کیسز کی سماعت متعدد ہائی کورٹ بنچز سے کرانا چاہئے تاکہ عدالتی نگرانی کو وسیع کیا جا سکے، بالکل ویسے ہی جیسا سپریم کورٹ میں ہوتا ہے۔ اس کا مقصد کسی بھی متعصبانہ رویے بچنا ہے
۳) گروپ نے نشاندہی کی ہے کہ نیب قانون کے تحت صرف حتمی فیصلے ڈویژن بنچ کے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے جبکہ اس وقت نیب کے تمام معاملات ایک ڈویژن بینچ کے زیر سماعت ہیں، اس سے عدالتی نظام پر غیر ضروری طور پر بوجھ پڑتا ہے۔
اسی طرح، گروپ نے درخواست پیش کی ہے کہ احتساب ٹرائل کورٹس میں ایسے لوگوں کو بھرتی کیا جائے جو کارپوریٹ قانون میں مہارت رکھتے ہوں۔ گروپ کی رائے ہے کہ ان اصلاحات کے نتیجے میں نہ صرف غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکے گا بلکہ کارپوریٹ معاملات کو فوجداری معاملات سے علیحدہ رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔
گروپ کا خط ان لوگوں کی اجتماعی آواز کی عکاسی کرتا ہے جو نیب کے بے ضابطہ اثر و رسوخ سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں اور عدلیہ سے غیر جانبداری کے ساتھ انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ کھلا خط نیب کے کام میں شفافیت اور اصلاحات کیلئے بڑھتے عوامی دباؤ میں اضافہ کرے گا اور خصوصاً ادارے کیلئے حالات ویسے ہی ہوں گے جیسے گزشتہ برسوں کے ہائی پروفائل کیسز میں نیب کی سنگین بدانتظامیاں سامنے آتے وقت تھے۔


مشہور خبریں۔
کورونا سے 66 افراد کا انتقال، 3974 نئے کیسز رپورٹ
?️ 18 اگست 2021اسلام آباد(سچ خبریں) عالمی وبا کورونا وائرس کا قہر جاری ہے ،نیشنل
اگست
صیہونیوں کے ہاتھوں مسجد الاقصی کی یہودی سازی کا منصوبہ اور عرب رہنماؤں کی خاموشی
?️ 5 ستمبر 2024سچ خبریں: اسرائیل نے پہلے فلسطینیوں کے مکانات کو مسمار کرنے، انہیں
ستمبر
بھاری ڈیوٹی کی وجہ سے بھارت کے ساتھ تجارت معطل ہے، اسحٰق ڈار
?️ 19 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے قومی اسمبلی کو
مئی
حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے خواہاں صیہونیوں کے نوکر ہیں:حزب اللہ
?️ 14 مارچ 2022سچ خبریں:حزب اللہ کی سیاسی کونسل کے سربراہ نے اعلان کیا کہ
مارچ
ٹرمپ ایسی جنگ میں پھنس گئے ہیں جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں:صیہونی اخبار
?️ 7 مئی 2026سچ خبریں:صیہونی اخبار ہارٹیز نے اعتراف کیا کہ دو ماہ سے زائد
مئی
150 صہیونی افسران کی نیتن یاہو کی کابینہ سے غزہ جنگ بند کرنے کی اپیل
?️ 11 اپریل 2025سچ خبریں:غزہ پٹی میں جاری جنگ کو روکنے اور اسرائیلی قیدیوں کی
اپریل
حکومت نے رات کی تاریکی میں عوام پر پٹرول بم گرا دیا
?️ 1 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت نے رات کی تاریکی میں عوام پر
جولائی
صدر مملکت کی علماء سے مذاہب وبین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دینے کی اپیل
?️ 28 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے علماء سے
جون