?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے جبکہ مٹی کا تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں بالترتیب 10 روپے اور 7 روپے 50 پیسے کمی کردی۔
اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ میں وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں تبدیلی نہیں ہوگی اور اگلے 15 دن تک موجودہ قیمت 235 روپے 30 پیسے رہے گی جو تقریباً 2 ماہ سے برقرار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمت اس وقت قیمت 224 روپے 80 پیسے فی لیٹر ہے، اس میں بھی کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور اسی طرح برقرار رہے گی۔
وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ یکم دسمبر سے 15 دسمبر تک پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مٹی کے تیل میں 10 روپے فی لیٹر کم کی جائے گی کیونکہ سردیاں شروع ہوچکی ہیں اور یہ کم ترین آمدنی والے افراد دیہاتوں اور دور دراز علاقوں میں لوگ استعمال کرتے ہیں، اسی لیے وزیراعظم کی رہنمائی میں قیمت میں کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مٹی کے تیل کی نئی قیمت 181 روپے 83 پیسے فی لیٹر ہوجائے گی۔
اسحٰق ڈار نے کہا کہ لائٹ ڈیزل کی قیمت 186 روپے 50 پیسے ہے جس میں 7 روپے 50 پیسے کمی کردی گئی ہے اور نئی قیمت 179 روپے ہوجائے گی۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس ریٹرنز فائل کرنے کے لیے آج 30 نومبر تک جمع کرنے کی آخری تاریخ تھی لیکن ایف بی آر کو کاروباری برادری اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے 15 دن کی مزید توسیع کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے کے لیے 15 دن کا اضافہ کردیا گیا اور 15 دسمبر تک ٹیکس ریٹرنز جمع کرادیے جائیں۔
یاد رہے کہ وفاقی وزیرخزانہ اسحٰق ڈار نے 15 نومبر کو اعلان کیا تھا کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کا اطلاق 16 نومبر سے 30 نومبر تک ہوگا۔
اسحٰق ڈار نے نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ پیٹرول، ڈیزل، مٹی کا تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتیں برقرار رہیں گی، 16 نومبر سے 30 نومبر تک وہی قیمتیں ہوں گی جو آج نافذالعمل ہیں۔
اس سے قبل 31 اکتوبر کو بھی وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا تھا کہ حکومت نے پیٹرول، ڈیزل، لائٹ ڈیزل آئل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں رد بدل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ 15 اکتوبر کو وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے پیٹرول کی قیمت میں کمی کی تجویز مسترد کرتے ہوئے 31 اکتوبر تک تمام پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا۔
وزیرخزانہ اسحٰق ڈار نے واشنگٹن سے ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ ’وزرات خزانہ میں اوگرا (آئل اینڈ گیس ریگیولیٹر اتھارٹی) کی سمری مل چکی ہے اور میرے ساتھ یہاں واشنگٹن میں پہنچائی گئی ہے اور میں نے دیکھا ہے‘۔
انہوں نے کہا تھا کہ سمری میں ’پیٹرول میں معمولی کمی جبکہ ڈیزل، مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے اور اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف سے تبادلہ خیال کیا ہے‘۔
وزیرخزانہ نے کہا تھا کہ ’مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے چاروں مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کریں گے اور 31 اکتوبر 2022 تک یہی قیمتیں جاری و ساری رہیں گی‘۔
وفاقی حکومت نے یکم اکتوبر 2022 کو 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں کمی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 237.43 روپے سے کم ہو کر 224.80 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی 247.43 روپے سے کم ہو کر 235.30 روپے جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت 202.02 روپے سے کم ہو کر 191.83 روپے ہوگئی تھی۔


مشہور خبریں۔
پاکستان کے وزیر دفاع: جنگ کو اسلام آباد تک بڑھانا کابل کا پیغام ہے
?️ 11 نومبر 2025سچ خبریں: اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں خودکش دھماکے کا ذکر
نومبر
امریکہ عراق سے اپنی فوج واپس بلانے میں سنجیدہ نہیں ہے؛الحشد الشعبی کے کمانڈر کا اعلان
?️ 25 جولائی 2021سچ خبریں:عراقی الحشد الشعبی مزاحمتی گروپ کے ایک کمانڈر نے کہا کہ
جولائی
امریکہ نے گوانتانامو کا قیدی طالبان کے حوالے کیا
?️ 24 جون 2022سچ خبریں: فارس، طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا
جون
امریکہ کے یمن جنگ میں اربوں ڈالر خرچ
?️ 9 مئی 2025سچ خبریں: فلسطین انفارمیشن سنٹر کے حوالے سے، امریکی نیٹ ورک NBC
مئی
کیا محمد بن سلمان کا بادشاہی کا خواب پورا ہو گا؟
?️ 27 نومبر 2021سچ خبریں:سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے متزلزل انداز نیز اندرونی
نومبر
بعض یورپی ممالک شام کے بارے میں اپنے موقف پر نظر ثانی کر رہے ہیں: اسپوٹنک
?️ 13 مئی 2022سچ خبریں: اسپوٹنک کے ایک انٹرویو کے مطابق شام کے خلاف پابندیوں
مئی
ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد اربیل اور سلیمانیہ میں زوردار دھماکے
?️ 2 ستمبر 2026سچ خبریں: امریکی افواج کی جانب سے ایران کے خلاف جارحانہ کارروائیوں
ستمبر
سعودی دربار سے وابستہ متعدد آفیسر بدعنونی کے الزام میں گرفتار
?️ 3 مارچ 2021سچ خبریں:سعودی شاہی دربار سے وابستہ متعدد افسروں اور افراد کو بدعنوانی
مارچ