?️
راولپنڈی: (سچ خبریں) سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو دوسرا کھلا خط لکھا دیا جس میں انہوں نے کہا کہ گن پوائنٹ پر 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتی نظام پر قبضہ کیا گیا جب کہ مجھے موت کی چکی میں رکھا گیا ہے اور 20 دن تک مکمل لاک اپ میں رکھا گیا جہاں سورج کی روشنی تک نہیں پہنچتی تھی۔
میڈیا کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کو دوسرا کھلا خط لکھا دیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ملک و قوم کی بہتری کی خاطر نیک نیتی سے آرمی چیف کے نام کھلا خط لکھا۔
عمران خان نے کہا کہ خط کا مقصد فوج اور عوام کے درمیان دن بدن بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کرنا ہے، خط کا جواب انتہائی غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ داری سے دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے سابق وزیراعظم اور ملک کی سب سے مقبول اور بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ ہیں، انہوں نے اپنی ساری زندگی عالمی سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کرنے میں گزاری ہے اور ان کا جینا مرنا صرف پاکستان میں ہے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ انہیں صرف اور صرف اپنی فوج کے تاثر اور عوام اور فوج کے درمیان بڑھتی خلیج کے ممکنہ مضمرات کی فکر ہے جب کہ انہوں نے جن 6 نکات کی نشاندہی کی ہے ان پر اگر عوامی رائے لی جائے تو 90 فیصد عوام ان نکات کی حمایت کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ان نکات میں ایجینسیز کے ذریعے پری پول دھاندلی اور الیکشن کے نتائج تبدیل کر کے اردلی حکومت قائم کرنا، عدلیہ پر قبضے کے لیے پارلیمنٹ سے گن پوائنٹ پر 26ویں آئینی ترمیم کروانا، پاکٹ ججز بھرتی کرنا جب کہ ظلم و جبر کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو بند کرنے کے لیے پیکا جیسے کالے قانون کا اطلاق کرنا شامل ہیں۔
آرمی چیف کو لکھے گئے خط کے مطابق ان نکات میں سیاسی عدم استحکام اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی ریت ڈال کر ملک کی معیشت کی تباہی، ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو مسلسل ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنانا، تمام ریاستی اداروں کا اپنے فرائض چھوڑ کر سیاسی انجینئیرنگ اور سیاسی انتقام میں شامل کرنا شامل ہے جو عوامی جذبات کو مجروح عوام اور فوج میں خلیج کو بھی مسلسل بڑھا رہا ہے۔
عمران خان نے لکھا کہ پہلے اڈیالہ جیل کے فرض شناس سپرنٹنڈنٹ اکرم کو اغوا کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا، وہ قانون کی پاسداری کرتا تھا اور جیل قوانین پر عمل درآمد کرتا تھا، اب بھی تمام عملے کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بنیادی انسانی حقوق پامال کرتے ہوئے دباؤ بڑھانے کے لیے ایک کرنل کی ماتحت جیل انتظامیہ نے مجھ پر ہر ظلم کیا، مجھے موت کی چکی میں رکھا گیا ہے، 20 دن تک مکمل لاک اپ میں رکھا گیا جہاں سورج کی روشنی تک نہیں پہنچتی تھی اور پانچ روز تک ان کے سیل کی بجلی بند رکھی گئی، مکمل اندھیرے میں رہا جب کہ ورزش کرنے والا سامان اور ٹی وی تک لے لیا گیا اور اخبار بھی پہنچنے نہیں دیا گیا۔
خط میں انہوں نے کہا کہ ان 20 دنوں کے علاوہ انہیں دوبارہ بھی 40 گھنٹے لاک اپ میں رکھا گیا، ان کے بیٹوں سے پچھلے 6 ماہ میں صرف 3 مرتبہ بات کروائی گئی ہے اور اس معاملے میں بھی عدالت کا حکم نہ مانتے ہوئے بچوں سے بات کرنے نہیں دی جاتی جو بنیادی اور قانونی حق ہے۔
بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ تحریک انصاف کے افراد دور دراز علاقوں سے ملاقات کے لیے آتے ہیں مگر ان کو بھی عدالتی آرڈز کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں ملتی، پچھلے 6 ماہ میں گنتی کے چند افراد کو ہی ملوایا گیا ہے۔
انہوں نے خط میں کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے واضح احکامات کے باوجود بشریٰ بی بی سے ملاقات نہیں کروائی جاتی، بشریٰ بی بی کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گن پوائنٹ پر کروائی گئی 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتی نظام پر قبضہ کیا گیا، کورٹ پیکنگ کا مقصد انسانی حقوق کی پامالیوں اور انتخابی فراڈ کی پردہ پوشی اور ان کے خلاف مقدمات میں من پسند فیصلوں کے لیے ’پاکٹ ججز‘ بھرتی کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدلیہ میں کوئی شفاف فیصلے دینے والا نہیں ہے، ان کے سارے کیسز کے فیصلے دباؤ کے ذریعے دلوائے جارہے ہیں اور انہیں غیرقانونی طور پر 7 سزائیں دلوائی گئی ہیں۔
خط میں مزید کہا گیا کہ ان کے خلاف فیصلہ دینے کے لیے جج صاحبان پر اتنا دباؤ ہوتا ہے کہ ایک جج کا بلڈ پریشر 5 مرتبہ ہائی ہوا اور اسے جیل ہسپتال میں داخل کروانا پڑا جب کہ اس جج نے ان کے وکیل کو بتایا کہ انہیں اور بشریٰ بی بی کو سزا دینے کے لیے ’اوپر‘ سے شدید ترین دباؤ ہے۔
واضح رہے کہ 3 فروری کو عمران خان نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو کھلا خط لکھ لکھ کر ان سے پالیسیوں میں تبدیلی کی اپیل کی تھی۔
انہوں نے کہا تھا کہ ساری چیزوں کا نزلہ فوج پر گررہا ہے، 2024 کا الیکشن، 26ویں آئینی ترمیم، پیکا ایکٹ فوج اور عوام کے درمیان فاصلے کی وجوہات ہیں۔


مشہور خبریں۔
فلسطینی دانشور نزار بنات کے قتل کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرے، فلسطینی اتھارٹی نے متعدد افراد کو زخمی کردیا
?️ 28 جون 2021رام اللہ (سچ خبریں) فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے فلسطینی دانشور نزار
جون
صہیونی قیدیوں کی مکمل رہائی کے لیے جنگ کا خاتمہ شرط ہے: حماس
?️ 28 اپریل 2025سچ خبریں: گزشتہ روز حماس کے رہنماؤں نے جنگ بندی کے حوالے سے
اپریل
مسجد اقصیٰ کو آگ لگانے کی 51 ویں سالگرہ، حماس نے فلسطینی قوم سے اہم اپیل کردی
?️ 20 اگست 2021مقبوضہ بیت المقدس (سچ خبریں) 21 اگست سنہ 1969 تاریخ اسلام کا
اگست
اب شادی کا نہیں سوچ رہا، دو بچوں کیساتھ پُرسکون زندگی ہے، میکال ذوالفقار
?️ 4 فروری 2024کراچی: (سچ خبریں) اداکارہ میکال ذوالفقار نے ایک بار پھر اپنی دوسری
فروری
ایران اور مصر کی قربت نے صیہونیوں کو کیوں سیخ پا کیا ہے؟
?️ 1 جون 2023سچ خبریں:تہران ریاض تعلقات کی بحالی کے بعد ایران اور مصر کے
جون
آکساگون سعودی حکومت کے نیوم پروجیکٹ کا اہم موڑ
?️ 4 دسمبر 2021سچ خبریں : Oxagon کو سعودی ولی عہد کے نئے منصوبے کا اہم موڑ
دسمبر
تیونس: غزہ میں جنگ بندی سے قابضین کے مقدمے کا پردہ نہیں پڑنا چاہیے
?️ 10 اکتوبر 2025سچ خبریں: تیونس کی وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا
اکتوبر
مراکش کی ایک اور صیہونی خدمت
?️ 18 جولائی 2023سچ خبریں: صیہونی حکومت کے ذرائع ابلاغ نے دوطرفہ سیکورٹی تعاون کو
جولائی