عمران خان، آرمی چیف بند کمرے میں بیٹھ کر اپنے گلے شکوے دور کرلیں، اسد عمر

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری اسد عمر نے تجویز دی ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر بند کمرے میں براہِ راست ایک دوسرے سے بات چیت کر کے گلے شکوے دور کرلیں۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’خبر مہر بخاری کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کا امکان بھی ظاہر کیا کہ ہوسکتا ہے آرمی چیف اور عمران خان تک درست باتیں نہ پہنچائی جارہی ہوں۔

اسد عمر نے بات چیت کرنے کی تجویز میزبان کے اس کے سوال کے جواب میں دی کہ ’چاہتے یا نا چاہتے ہوئے آپ کی جماعت اسٹیبلشمنٹ مخالفت کی مکمل تصویر بن چکی ہے، وزیراعظم شہباز شریف، آصف زرداری یہاں تک کے محسن نقوی نے بھی کہہ دیا ہے کہ ریڈ لائن نہ کراس کی جائے عمران خان اداروں کو بدنام کرنے کی حد عبور کرچکے ہیں بلکہ سابق صدر نے یہ بھی کہا کہ ’میں اس شخص کا زوال دیکھ رہا ہوں‘۔

میزبان نے سوال کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’اس حکمت عملی کے ساتھ الیکشن ہو بھی جائیں تو کیا آپ کو حکومت بنانے دی جائے گی‘؟

جواب دیتے ہوئے اسد عمر نے سیاستدانوں کی تنقید رد کرتے ہوئے کہا کہ ’آصف زرداری کو اس وقت ادارے کا بہت احساس ہورہا ہے جنہوں نے بطور صدر پاکستان ٹیلی ویژن پر کہا تھا کہ ہم آپ کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے، آپ ہوتے کون ہیں ہماری طرف دیکھنے والے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اسی طرح شہباز شریف کے بھائی اور بھتیجی بھی حاضر سروس آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے بارے میں کیا کیا کہتے رہے ہیں، تو ان لوگوں کی باتیں تو چھوڑ دیں، ان کی باتیں سیاسی بیانات کے سوا کچھ نہیں‘۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ ’ادارے کے ساتھ کوئی ٹکراؤ نہیں ہے لیکن اس میں کوی شک نہیں کہ عمران خان نے ایک حاضر سروس جرنیل فیصل نصیر کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، انہوں نے ادارے پر نہیں بلکہ ایک شخص کے کردار کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں‘۔

اسد عمر نے کہا کہ ’میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ عمران خان پاکستان کے سب سے مقبول سیاسی رہنما ہیں، وہ مقبولیت کے اس عروج پر ہیں جو قائد اعظم کے بعد پاکستان کی سیاست میں کبھی نہیں دیکھی گئی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’فوج پاکستان کا سب سے بڑا منظم ادارہ ہے، میں کہوں گا وقت آگیا ہے کہ عمران خان اور جنرل عاصم منیر ایک کمرے میں ون آن ون بیٹھیں، کوئی بھی نہ ہو اور دروزاہ بند کردیں اور جو دونوں فریقین کو ایک دوسرے سے گلے شکوے ہیں وہ کرلیں، جو تحفظات عمران خان کے ذہن میں ہیں وہ جنرل عاصم منیر کھلے دل سے سنے اور اگر آرمی چیف کے ذہن میں کوئی تحفظات ہیں تو وہ عمران خان کے سامنے کرلیں‘۔

اسد عمر کا مزید کہنا تھا کہ ’اس وقت ایک کھچاؤ کی صورت نظر آرہی ہے, یہ کوئی مثبت صورتحال نہیں ہے‘۔

میزبان نے سوال کیا کہ اس کا مطلب یہ ہے کوئی ہے جو بدگمانیاں پیدا کررہا ہے۔

جس پر اسد عمر نے تائید کرتے ہوئے کہا کہ ’جی بالکل ایسا ہی ہے، ہوسکتا ہے کہ جو خبریں جنرل عاصم منیر کے پاس پہنچائی جارہی ہوں وہ سچی نہ ہوں اور ہوسکتا ہے کچھ باتیں جو عمران خان تک پہنچائی جارہی ہیں وہ حقیقت پر مبنی نہ ہوں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’جو کچھ بھی ہے آمنے سامنے بیٹھ کر حل کرلیں‘، ساتھ ہی واضح کیا کہ یہ ان کی جماعت کا نہیں بلکہ ان کا ذاتی مؤقف ہے اور کہا کہ میرےخیال میں کسی کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا۔

سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ’اگر صورتحال ایسی ہے کہ ہر ٹی وی پروگرام میں یہی سوالات پوچھے جائیں تو بہتر ہے کہ بات چیت سے معاملہ سلجھا لیا جائے‘۔

خیال رہے کہ ہفتے کے روز اعلیٰ عدلیہ اور حکومت کے درمیان کشیدگی کے درمیان چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال سے اظہار یکجہتی کے لیے پی ٹی آئی کی نکالی گئی احتجاجی ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اور ایک حاضر سروس اعلیٰ فوجی افسر پر سخت تنقید کی تھی۔

عمران خان نے ایک حاضر سروس اعلیٰ فوجی افسر کا نام لے کر الزام لگایا تھا کہ مجھے کچھ ہوا تو اس شخص کا نام یاد رکھنا جس نے مجھے پہلے بھی دو بار مارنے کی کوشش کی۔

جس کے ردِ عمل میں گزشتہ روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے بغیر کسی ثبوت کے ایک حاضر سروس سینئر فوجی افسر پر انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور بے بنیاد الزامات عائد کیے جو من گھڑت، بدنیتی پر مبنی، افسوسناک، قابل مذمت اور ناقابل قبول ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ گزشتہ ایک سال سے یہ ایک مستقل طرز عمل بن گیا ہے جس میں فوجی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکاروں کو سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے اشتعال انگیز اور سنسنی خیز پروپیگنڈے کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ ہم متعلقہ سیاسی رہنما سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قانونی راستہ اختیار کریں اور جھوٹے الزامات لگانا بند کریں۔

فوج کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی حاضر سروس جنرل کے خلاف بیان دینے پر عمران خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

مشہور خبریں۔

پنجشیر محاذ افغانستان کی مکمل آزادی تک لڑتا رہے گا؛احمد شاہ مسعود کے بھائی کااعلان

?️ 15 ستمبر 2021سچ خبریں:احمد شاہ مسعود کے بھائی نے دعویٰ کیا کہ پنجشیر کی

کیا ترک انتخابات جیتنے کے بعد اردگان اپنا راستہ بدل لیں گے؟

?️ 30 مئی 2023سچ خبریں:اب جبکہ اردگان مزید 5 سال اقتدار میں ہیں، ہر کوئی

پی ٹی آئی کا عمران خان کو علاج کیلئے نجی ہسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ

?️ 13 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی کو علاج

امریکہ میں متوقع عمردوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے کم ترین سطح پر

?️ 22 دسمبر 2021سچ خبریں:ایک نئی وفاقی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں متوقع عمر 2020

پنجاب حکومت کا قیمتوں پر قابو پانے کے لیے مجسٹریٹ نظام بحال کرنے کا فیصلہ

?️ 20 ستمبر 2022لاہور: (سچ خبریں) وزیراعلیٰ پنجاب  چوہدری پرویزالٰہی اور انتظامی سیکرٹریز نے ایگزیکٹو

مشرق وسطی میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے مکالمہ ضروری ہے۔ صدر مملکت

?️ 23 جون 2025اسلام آباد (سچ خبریں) صدر مملکت آصف علی زرداری نے مشرقِ وسطی

صیہونی حکومت کی جیلوں کو بھرنے کی وجہ سے درجنوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی

?️ 1 جولائی 2024سچ خبریں: صہیونی فوج نے غزہ کی پٹی کے 50 قیدیوں کو

ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ سے آبرومندانہ خروج کی ناکام کوشش:صیہونی میڈیا

?️ 1 اپریل 2026سچ خبریں:صہیونی میڈیا نے اعتراف کیا کہ ٹرمپ کی ایران کے ساتھ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے