علی امین گنڈاپور نے بجلی کے خالص منافع کی مد میں بقایاجات کیلئے وزیراعظم کو مراسلہ ارسال کر دیا

?️

پشاور: (سچ خبریں) وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ علی امین گنڈا پور نے خیبر پختونخواہ کے بجلی کے خالص منافع کی مد میں بقایاجات کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کو مراسلہ ارسال کردیا،علی امین گنڈاپور نے پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں صوبے کے بقایاجات کی ادائیگی کا مطالبہ کردیا،وزیراعظم کے نام لکھے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل (2)161 میں پن بجلی کے خالص منافع کا معاملہ واضح کیا گیا ہے۔
آئین کے مذکورہ آرٹیکل کے مطابق پن بجلی گھروں سے حاصل ہونے والی منافع کی رقم متعلقہ صوبوں کو ملنی ہے۔ صوبوں کو ملنے والی اس رقم کی شرح کا تعین مشترکہ مفادات کونسل نے کرنا ہے۔ادائیگیاں نہ ہونے کی وجہ سے خیبرپختونخوا کی 75 ارب روپے کے واجبات جمع ہوگئے ہیں۔وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے مراسلہ میں کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل نے اس مقصد کیلئے 1991 میں قاضی کمیٹی میتھاڈالوجی (کے سی ایم) کی منظوری دی تھی۔

کے سی ایم فارمولے کے تحت 1992 میں اس وقت کے شمال مغربی سرحدی صوبے (خیبر پختونخوا) کو چھ ارب روپے کی پہلی ادائیگی ہوئی تھی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ علی امین گنڈا پور نے مراسلے میں مزیدکہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کو درپیش مالی بحران کے پیش نظر مسئلے کے فوری حل کی ضرورت ہے۔وزیراعظم کو ارسال کئے گئے مراسلہ میں کہا گیا کہ اس عبوری طریقہ کار کے مطابق پن بجلی کے خالص منافع کی شرح 1.10 روپے فی کلوواٹ آور مقرر کی گئی ہے۔
عبوری طریقہ کار میں مذکورہ شرح پر سالانہ پانچ فیصد اضافہ بھی مقرر کیا گیا ہے اسی طریقہ کار کے تحت واپڈا نے صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کو ادائیگیاں شروع کیں۔علی امین گنڈاپور نے کہا کہ آئین کے تقاضوں اور مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں کے مطابق مسئلے کا منصفانہ حل نکالا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق پن بجلی کے خالص منافع کا معاملہ واضح کیا گیا ہے کہ پن بجلی گھروں سے حاصل ہونے والے منافع کی رقم متعلقہ صوبوں کو ملنی ہے اس رقم کی شرح کا تعین مشرکہ مفادات کونسل نے کرنا ہے۔
مراسلہ میں کہا گیا کہ مذکورہ طریقہ کار کے تحت باقاعدگی سے ادائیگیاں نہ ہونے کی وجہ سے خیبرپختونخوا کے 75 ارب روپے کے واجبات جمع ہوگئے، سال 2018 میں خیبر پختونخوا حکومت نے کے سی ایم فارمولے پر مکمل عملدرآمد کیلئے معاملہ وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھایا جس کے نتیجے میں مشترکہ مفادات کونسل نے پن بجلی کے خالص منافع کی شرح کا تعین کرنے کیلئے ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن کی سربراہی میں ایک کمپنی تشکیل دی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سال 1997 میں نیشنل فنانس کمیشن اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی اس کے سی ایم فارمولے کی توثیق کی ہے جبکہ سال 2016 میں وفاقی حکومت نے اس معاملے سے متعلق ایک عبوری طریقہ کار بھی متعارف کروایا تھا مشترکہ مفادات کونسل نے بھی اس عبوری طریقہ کار کی توثیق کی ہے۔

مشہور خبریں۔

توشہ خانہ کیس میں نااہلی کے خلاف عمران خان کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

?️ 30 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں

سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کی منظوری دیدی گئی

?️ 26 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کی

ملالہ یوسف زئی کی غزہ کے ہسپتال پر اسرائیلی فضائی حملے کی شدید مذمت

?️ 18 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) نوبل امن انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے غزہ

عیدالفطر کی تعطیلات کے لئے ہدایت نامہ جاری

?️ 6 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں)عید الفطر کی تعطیلات کو مد نظر رکھتے ہوئے

کیا ترکی کی حکمران جماعت جا رہی ہے؟

?️ 14 جنوری 2022سچ خبریں:ترکی کے صدر رجب طیب اردغان کی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں

تحریک انصاف کا مسلم لیگ (ن) کے امیدوار پرویز رشید پر اعتراض

?️ 17 فروری 2021 اسلام آباد /  لاہور /  کراچی {سچ خبریں} سینیٹ انتخابات میں

غزہ میں جنگ بندی کی عدم منظوری پر پاکستان کا ردعمل

?️ 10 دسمبر 2023سچ خبریں:پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے غزہ

قدس کی آزادی تک ہم مقاومت کی راہ پر گامزن ہیں: زیاد النخالہ

?️ 3 اپریل 2022سچ خبریں:  طزیاد النخالہ فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک کے سیکرٹری جنرل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے