ضمانت کی درخواستیں خارج ہونے کے بعد عمران خان کی فوری رہائی کے امکانات معدوم

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) احتساب عدالت کی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈ کے القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ کیسز میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں خارج ہونے کے بعد ان کی جلد رہائی کے امکانات معدوم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کے دو مقدمات درج ہیں، الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ان پر ظاہر کیے گئے اثاثوں میں کچھ حقائق چھپانے کا الزام لگایا اور انہیں سزا سنائی، اس کے علاوہ توشہ خانہ کیس کی تحقیقات قومی احتساب بیورو (نیب) کر رہا ہے جس میں سابق وزیر اعظم کے خلاف مبینہ طور پر بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

عمران خان کو 5 اگست کو ٹرائل کورٹ کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد ان کی قانونی ٹیم نے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور سزا معطل کرنے کی استدعا کی، تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے بدھ کو واضح کیا کہ وہ متعلقہ حکام کو سننے کے بعد ہی درخواست پر فیصلہ کریں گے۔

پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث نے مختصر مدت کے لیے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی تاکہ عدالت ایک ہفتے کے اندر کیس کا فیصلہ کر سکے، وہ آئندہ ہفتے تک عمران خان کی رہائی کے لیے پرامید تھے، تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ان کی درخواست مسترد ہونے کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کی جلد رہائی کے امکانات ختم ہو گئے۔

چونکہ نیب پہلے ہی ان کے وارنٹ جاری کر چکا ہے، اس لیے جیسے ہی وہ وہ جیل سے رہاں ہوں گے تو انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا جائے گا۔

دوران سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے طنزیہ ریمارکس دیے کہ عمران خان کو نیب کی حراست میں قدرے آرام ملے گا کیونکہ وہاں کا ایئر کنڈیشنڈ لاک اپ اٹک جیل کی بیرک سے کافی بہتر ہے۔

خواجہ حارث نے احتساب عدالت کے روبرو دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو ایک ہفتے کے اندر رہا کر دیا جائے گا اور جج سے استدعا کی کہ دونوں مقدمات میں ان کی عبوری ضمانت میں جمعہ تک توسیع کردی جائے۔

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر خان عباسی نے مشرف کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا جس میں عدالت عظمیٰ نے قرار دیا تھا کہ ’ایک سے زائد فوجداری مقدمات میں گرفتار ملزم کو تمام مقدمات میں گرفتار تصور کیا جائے گا‘۔

جج محمد بشیر نے ریمارکس دیے کہ وہ ملزم کی عدم موجودگی میں ضمانت قبل از گرفتاری دینے کے مجاز نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مختصر التوا دیا جا سکتا ہے لیکن موجودہ کیس میں ملزم جیل میں اپنی سزا کاٹ رہا ہے، سزا کی معطلی کا معاملہ آئندہ ہفتے طے کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے عمران خان کی عبوری ضمانت میں توسیع کو وقت صرف عمل قرار دیا اور دونوں مقدمات میں ان کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستوں کو خارج کر دیا۔

سابق خاتون اول بشریٰ بی بی نے جیل میں بند ہونے کے بعد پہلی بار اپنے شوہر عمران خان سے اٹک جیل میں ملاقات کی۔

سخت سیکیورٹی کے درمیان وہ وکلا کے ہمراہ جیل پہنچیں، تاہم صرف بشریٰ بی بی کو ہی جیل میں اندر جانے کی اجازت دی گئی اور ملاقات تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی۔

بعد ازاں عمران خان کے وکیل نے کہا کہ بشریٰ بی بی نے بتایا کہ ان کے شوہر ٹھیک ہیں۔

وکیل نے کہا کہ بشریٰ بی بی نے بتایا کہ عمران خان کو ابھی بھی اسی چھوٹے، سی کلاس سیل میں رکھا جا رہا ہے۔

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ وکلا نعیم پنجوتھا، شیر افضل مروت اور علی اعجاز بٹر کو چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی جب کہ انہوں نے اس سلسلے میں جیل حکام کو عدالتی احکامات بھی دکھائے۔

ذرائع نے بتایا کہ ملاقات کے بعد بشریٰ بی بی لاہور روانہ ہوگئیں۔

مشہور خبریں۔

 ایران کے خلاف ٹرمپ کی دھمکیاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی:البرادعی 

?️ 30 جنوری 2026 ایران کے خلاف ٹرمپ کی دھمکیاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف

چاند پر نظر آنے والے دھبوں کے حوالے سے جدید تحقیق

?️ 28 اپریل 2021نیویارک(سچ خبریں)خلائی تحقیقاتی ماہرین نے چاند پر نظر آنے والے دھبوں کے

وزیراعلیٰ جام کمال کو مستعفی ہونے کیلئے کل شام کی ڈیڈلائن دے دی

?️ 6 اکتوبر 2021کوئٹہ (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق بلوچستان حکومت میں وزراء اور ارکان

شہباز شریف کا اسلام آباد میٹرو اسٹیشن کا دورہ

?️ 14 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وزیر اعظم شہباز شریف نے آج صبح 7 بجے اسلام

صیہونیوں کے ہاتھوں قرآن پاک کی بے حرمتی

?️ 24 جون 2023سچ خبریں:مصر کے اوقاف کے وزیر نے عوریف بستی کی مسجد پر

لبنان کو امریکہ توانائی کی فراہمی؛ بحران کا حل یا اس ملک کو وابستہ کرنے کا منصوبہ

?️ 11 اکتوبر 2021سچ خبریں:امریکہ کی جانب سے لبنان میں توانائی کے مسائل کو حل

فلسطینی شہریوں کے قتل کے خلاف برطانوی موقف

?️ 15 دسمبر 2023سچ خبریں:برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے صیہونی غاصبوں سے مطالبہ کیا

فلسطینیوں کی شہریت کی منسوخی کا قانون پاس کرنے سے صورتحال بگڑنے کا خطرہ

?️ 16 فروری 2023خودساختہ تنظیم کی وزارت خارجہ نے صہیونی پارلیمنٹ کی طرف سے فلسطینی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے