سیلاب سے ہونے والی تباہی سے کوئی ملک اکیلا نہیں نمٹ سکتا، شیریں رحمٰن

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد سوئٹزرلینڈ اور پرتگال کی مشترکہ آبادی سے بھی کہیں زیادہ ہے، سیلاب سے ہونے والی تباہی سے کوئی ملک اکیلا نہیں نمٹ سکتا اور آنے والے وقت میں پاکستان کو مزید امداد کی سخت ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ نے پاکستان میں سیلاب متاثرین کے لیے ابتدائی طور پر 16 کروڑ ڈالر امداد کی اپیل کی تھی تاہم بڑھتی ہوئی آبی بیماریوں اور تباہی کے اثرات کے پیش نظر عالمی ادارے نے امداد میں پانچ گنا اضافہ کرتے ہوئے 81 کروڑ 60 لاکھ ڈالر امداد کی اپیل کی ہے۔

جنیوا میں اقوام متحدہ اور پاکستان کی سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے فلیش اپیل کی تقریب منعقد کی گئی جس سے وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے خطاب کیا۔

شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ تباہ کن بارشوں اور سیلاب سے ایک ہزار 700 سے زائد افراد جاں بحق اور 1300سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں جبکہ اس وقت سیلاب متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

وفاقی وزیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے پاکستان شدید متاثر ہوا ہے اور تقریباً 79 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ سوا 3 کروڑ سے زائد متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ آبادی میں سب سے زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے اور شدید مون سون بارشوں کے سبب آنے والے سیلاب نے ملک کی بڑی آبادی کو نقصان پہنچایا ہے۔

شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ تباہ کاریوں سے 46 ہزار کلومیٹر پر محیط 35 اضلاع شدید متاثر ہوئے، ملک میں 2 کروڑ 6 لاکھ سیلاب زدگان کو خوراک، ادویات اور دیگر سہولیات کی اشد ضرورت ہے اور یہ تعداد سوئٹزرلینڈ اور پرتگال کی مشترکہ آبادی سے بھی کہیں زیادہ ہے۔

انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کا مستقبل وقت داؤ پر لگ چکا ہے، بالخصوص خواتین کے حوالے سے اعداد و شمار حیران کن ہیں جو اس موسمیاتی آفت سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں 11 اضلاع مکمل طور پر زیر آب ہیں، کئی سیلاب زدگان صاف پانی، ادویات، خوراک اور خشک زمین کے منتظر ہیں، 14 ہزار سے زائد طبی سہولیات شدید متاثر ہوئی ہیں، ملک کا ایک بڑا حصہ بالخصوص جنوب کے کئی علاقے زیر آب ہیں جہاں شہریوں کو صاف پانی میسر نہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آئندہ موسم سرما میں سیلاب زدگان کھلے آسمان تلے بیٹھنے پر مجبور ہوں گے، حکومت کی جانب سے 5 ہزار 98 شہروں کو چھت فراہم کردی گئی ہیں لیکن اس کے علاوہ مزید 79 لاکھ شہری اب بھی خشک زمین اور محفوظ چھت کے منتظر ہیں۔

انہوں نے آنے والے دنوں میں سیلاب متاثرین کو پیش آنے والی ممکنہ مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موسم سرما میں 40 لاکھ افراد نقطہ انجماد پر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوں گے، جبکہ گرم علاقوں میں درجہ حرارت 10 ڈگری سینٹی گریڈ تک جاسکتا ہے۔

شیریں رحمٰن کا کہنا تھا کہ 71 لاکھ شہری اس وقت غذائی قلت کا شکار ہیں، حکومت نے پہلے مرحلے میں 39 لاکھ متاثرین کو ریلیف پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے، پہلے مرحلے میں ہماری ترجیح شدید غذائی قلت والے علاقوں کو ریلیف پہنچانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریلیف آپریشن کے کا کام سست روی کا شکار ہے کیونکہ سیلاب کا پانی 13 ہزار کلومیٹر طویل سڑک اور 440 پُلوں کو شدید نقصان پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب سے ملک کے معاشی نظام پر بھی اثر پڑا ہے، اس تمام صورتحال میں امدادی سامان کو متاثرہ علاقوں تک پہنچانا حکومت کے لیے مشکل ہوگیا ہے، یورپی ممالک کی طرح پاکستان کے پاس اضافی پیکج موجود نہیں ہے، ملک کے خراب معاشی حالات کی وجہ سے حکومت شہریوں کے بہتر مستقبل کے لیے انہیں نوکریاں نہیں دے سکتی، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت اب تک غریب افراد کو 70 ارب روپے تقسیم کیے جاچکے ہیں۔

شیری رحمٰن نے کہا کہ انسانوں کی جان بچانے کے لیے ہم ہر ممکن حد تک جارہے ہیں اور ہر کسی سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب سے اتنے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے کہ کوئی ملک اکیلا اس سے نہیں نمٹ سکتا ہے، یہ موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والی اس صدی کی سب سے بڑی تباہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اب نئے اتحاد کی ضرورت ہے اور جانیں بچانے کے لیے ایسا کیا جاسکتا ہے، مرنے والے افراد میں سے ایک تہائی تعداد بچوں کی ہے اور ہمیں وقت سے جیتنا ہے کیونکہ موسم سرما بہت تیزی سے آرہا ہے جس میں لاکھوں لوگ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہوں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم دنیا سے صرف اپیل کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں اس مشکل وقت میں اکیلا نہ چھوڑیں، ہم نے پہلے ہی دہشت گردی کے خلاف 20 سال طویل جنگ لڑی ہے جس میں ہم نے 80 ہزار سے زائد جانیں گنوائیں۔

ادھر پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ اور ہیومینیٹیرین کوآرڈینیٹر جولیئن ہارنیس نے کہا کہ پاکستان کے لیے 81 کروڑ 60 لاکھ ڈالر امداد کی اپیل ہرگز کافی نہیں ہے۔

مشہور خبریں۔

افغان سمیت غیرملکی کو پراپرٹی کرائے پر دینے والوں پر ایف آئی آر کا اندراج یقینی بنانے کا حکم

?️ 28 اکتوبر 2025لاہور (سچ خبریں) پنجاب حکومت نے افغان سمیت کسی بھی غیر ملکی

’صدارتی اختیار کے تحت سزاؤں کی معافی نہیں چاہیئے‘

?️ 27 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف

کرم تنازعہ کے حل کیلئے مشران نے معاہدے پر دستخط کردیئے

?️ 28 دسمبر 2024پشاور: (سچ خبریں) صوبہ خیبرپختونخواہ کے علاقہ پاراچنار میں کرم تنازعہ کے

ڈونلڈ ٹرمپ مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں، مولانا فضل الرحمٰن

?️ 13 جنوری 2025ملتان: (سچ خبریں) سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمٰن نے

پیپلزپارٹی کا سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافے کا مطالبہ

?️ 9 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان پیپلزپارٹی نے آئندہ بجٹ میں سرکاری ملازمین

اسرائیلی وزیر خارجہ کے طیارے کا سعودی فضائی حدود سے گذرنا ، ریاض تل ابیب کے درمیان تعلقات کا عندیہ

?️ 1 جولائی 2021سچ خبریں:متحدہ عرب امارات جانے کے لئے اسرائیلی وزیر خارجہ کے طیارے

شہباز شریف کا ایران کی جانب سے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی پر شدید تشویش کا اظہار

?️ 17 جنوری 2024اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم

امریکہ راستے سے بھٹک چکا ہے ؟ وجہ، ٹرمپ کی زبانی

?️ 28 جنوری 2024سچ خبریں: امریکہ کے سابق صدر نے سرحدی اصلاحات کے دو طرفہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے