سیلاب جیسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے موجود ماڈل پر بلاتاخیر عمل کرنا ہوگا، وزیراعظم

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے سیلاب کی تباہی کے دوران نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سینٹر (این ایف آر سی سی) سمیت دیگر اداروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں سیلاب جیسی بحرانی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ہمارے پاس ماڈل ہے، جس پر بلاتاخیر عمل کرنا ہوگا۔

اسلام آباد میں سیلاب کے دوران خدمات انجام دینے والے این ایف آر سی سی کے افسران کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل ظفر کی قیادت میں تمام افسران اور جوانوں نے دن رات محنت کی اور دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے۔

انہوں نے کہا کہ کروڑوں لوگ پانی میں گھرے ہوئے تھے، لاکھوں گھر تباہ ہوگئے تھے، 1700 لوگ اللہ کو پیارے ہوگئے، کھڑی فصلیں برباد ہوئیں، سڑکیں، پُل، انڈر پاسز، ریلوے ٹریک اور قصبوں کے قصبے پانی میں ڈوب چکے تھے، بجلی کا نظام درہم برہم ہوچکا تھا۔

سیلاب کی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کئی دیہات ایسے تھے جہاں پہنچنا ممکن نہیں تھا لیکن وہاں افواج پاکستان، آرمی، فضائیہ اور بحریہ، این ڈی ایم اے، صوبائی ادارے، وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ایک اجتماعی کوشش کے ساتھ مل کر شبانہ روز محنت کی ہے، جس کی تحسین ہوگی۔

انہوں نے افسران کو مخاطب کرکے کہا کہ سیلاب کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تاحال کوششیں کی جارہی ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جنرل ظفر کی ٹیم نے بہت شان دار کام انجام دیا اور اسی طرح وزارت توانائی میں وفاقی وزیر اور ان کے سیکریٹری، مواصلات میں وزیر اور ان کے سیکریٹری نے بہت کام کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی سندھ میں نکاسی کے نظام کی بڑی شان دار تجویز ہے اور اس حوالے سے بات کریں گے۔

شہباز شریف نے کہا کہ فوج کے ساتھ ساتھ وفاقی وزرا اور صوبائی وزرائے اعلیٰ نے درجہ بہ درجہ تمام افراد نے اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کیا ہے، ہمارے سامنے ماڈل ہے اور اب ہمیں بلاتاخیر اس ماڈل کو نافذ کرکے اس پر عمل کرنا ہوگا تاکہ ہم مستقبل میں جتنا ہوسکے پاکستان اور پاکستانیوں کو کسی بحرانی صورت حال سے بچا سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ماڈل کے نفاذ سے ہم صحیح معنوں میں ایسی صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے تیار بھی ہو سکتے ہیں، خدا ہمیں ایسے حالات سے بچائے تاہم تیاری ہو تو ہم اس سے نمٹ سکتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے پاس لامحدود قدرتی وسائل ہیں، ریکوڈک، شمالی علاقہ جات، سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں قدرتی خزانے ہیں جن سے اربوں ڈالر کمائے جاسکتے ہیں لیکن ماضی میں ہم ایک کلو بھی کوپر یا سونا نہیں نکال سکے۔

این ایف آر سی سی کے افسران سے انہوں نے کہا کہ آپ نے قوم کے لیے بڑا کام کیا ہے، پاکستان کے عوام آپ کی قربانیوں کی قدر کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ سب سے ضروری ہے کہ ہم یکجا اور متحد ہو پاکستان کو ترقی دینے کی کوشش کریں، اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

مشہور خبریں۔

ایران اور روس کے درمیان تعاون سے صیہونی خوفزدہ

?️ 22 اکتوبر 2022سچ خبریں:صیہونی حکومت کے وزیراعظم نے ایران اور روس کے درمیان تعاون

روس نے یوکرائنی جنگ کے سابق فوجیوں کے لیے سہولیات مختص کیں

?️ 28 اگست 2022سچ خبریں:    روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایک حکم نامے

ڈالر کے مقابلے صہیونی کرنسی کی قدر میں آزادانہ گراوٹ کا تسلسل

?️ 24 مارچ 2023سچ خبریں:مقبوضہ فلسطین میں حالات کی خرابی اور صہیونی مظاہرین کی صفوں

اردوغان ایران کا دورہ کریں گے

?️ 5 جولائی 2022سچ خبریں:    بعض خبری ذرائع نے آنے والے دنوں میں ترکی

حزب اللہ کا اسرائیل سے انتقام کیسا ہوگا؟لبنانی وزیر خارجہ کی زبانی

?️ 19 ستمبر 2024سچ خبریں: لبنان کے وزیر خارجہ عبدالله بوحبیب نے سی این این

مقبوضہ جموں کشمیر: دوران حراست لاپتہ ہزاروں کشمیریوں کے اہلخانہ انصاف کے منتظر

?️ 30 اگست 2025سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر

ہیومن رائٹس واچ: فوڈ لائنز میں فلسطینیوں کا قتل جنگی جرم ہے

?️ 2 اگست 2025سچ خبریں: ہیومن رائٹس واچ نے صیہونی حکومت کی طرف سے خوراک

ممکنہ صیہونی وزیر اعظم کے عرب مخالف ریکارڈ پر ایک نظر

?️ 1 جون 2021سچ خبریں:نفتالی بینیٹ ایک انتہا پسند اور عرب مخالف یہودی جو کبھی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے