?️
سندھ:(سچ خبریں) سندھ ہائی کورٹ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ صوبوں میں گیس کی تقسیم کے معاملے کو حل کرنے کے لیے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں بظاہر کوئی بامعنی پیش رفت نہیں ہو رہی۔
سندھ ہائی کورٹ نے ماہ رمضان میں بھی سندھ میں قدرتی گیس کی قلت کا ذکر کرتے ہوئے سندھ حکومت کو آئین کے آرٹیکل 158 کے نفاذ کے لیے دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔
جسٹس محمد کریم خان آغا کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے صوبائی لا آفیسر کو بھی ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت پر آرٹیکل 158 کی عدالتی تشریح حاصل کرنے کے لیے عدالت عظمیٰ سے رجوع کرنے کے وزیراعلیٰ کے فیصلے کے بارے میں آگاہ کرے، اس آرٹیکل کے مطابق گیس پیدا کرنے والے علاقے کا قدرتی گیس پر پہلا حق ہے۔
اس سے قبل بینچ نے سینئر وکیل مخدوم علی خان کو آرٹیکل 158 سے متعلق کچھ حقائق اور تفصیلات پر معاونت کے لیے عدالتی معاون مقرر کیا تھا جس میں وفاقی حکومت کا سندھ سے حکومت کی اجازت کے بغیر گیس لینے کا اختیار بھی شامل تھا۔
بینچ نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل نے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاسوں کے منٹس سمیت کچھ دستاویزات جمع کرائی ہیں، جن میں صوبائی حکومت کی جانب سے سی سی آئی میں گزشتہ تین سال کے دوران آرٹیکل 158 کو نافذ کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات ظاہر کیے گئے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ اس واضح آئینی حکم کے بارے میں اس تین سال کی مدت میں کوئی قرارداد پیش نہیں کی گئی ہے اور یہاں تک کہ منٹس کے ایک حصے میں بھی یہ کہا گیا کہ آئین کا آرٹیکل 158 صوبہ بلوچستان کے لیے شامل کیا گیا تھا اور بظاہر اس پر سندھ حکومت نے کوءی اعتراض بھی نہیں کیا۔
عدالتی حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ ایسا لگتا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کے سامنے آرٹیکل 158 کے حوالے سے کوئی بامعنی پیش رفت نہیں ہو رہی۔
عدالت کا کہنا تھا کہ معلوم ہوتا ہے کہ سی سی آئی پہلی نظر میں آئین کے واضح حکم سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے قابل نہیں ہے اور نہ صوبوں کے درمیان گیس کی تقسیم میں ترجیح کے مسئلے کو حل کر سکتا ہے۔
ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے بینچ کو آگاہ کیا کہ عدالت عظمیٰ نے اس معاملے کو حل کرنے کے لیے سی سی آئی کو بھیج دیا ہے۔
بنچ نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا کہ’ ان حالات میں حکومت سندھ آئین کے آرٹیکل 158 کے نفاذ کے لیے دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پر غور کر سکتی ہے کیونکہ یہ بالکل واضح ہے سی سی آئی کے ذریعے اس سلسلے میں کوئی قرارداد یا عمل درآمد ہونے کا امکان نہیں ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 158 بے کار ہے جو کہ آئین میں کبھی نہیں ہو سکتا کیونکہ کسی بھی آرٹیکل کو بے کار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
عدالت نے مزید کہا کہ زیر بحث آرٹیکل واضح اور غیر مبہم ہے جسے کسی بھی صورت میں کسی تشریح کی ضرورت نہیں۔
بینچ نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے کو سندھ حکومت پر چھوڑ رہا ہے کیونکہ وہ صوبے کے لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے اور جوابدہ ہونے کے ساتھ ساتھ انہیں بنیادی ضروریات بشمول کھانا پکانے کے لیے گیس فراہم کرنے کے لیے ذمہ دار بھی ہے۔


مشہور خبریں۔
طوفان الاقصی آپریشن کیوں شروع ہوا؟
?️ 8 اکتوبر 2023سچ خبریں: صہیونیوں کے سادے کپڑوں میں فرار، سرحدی فوجیوں کی ہلاکتوں،
اکتوبر
سیکیورٹی صورتحال 2008 اور 2013 کے انتخابات جتنی بری نہیں ہے
?️ 27 فروری 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پنجاب اور خیبرپختونخوا میں خراب سیکیورٹی کی وجہ سے
فروری
The Benefits of Running That Make You Healthier and Happier
?️ 15 اگست 2022Dropcap the popularization of the “ideal measure” has led to advice such
اگست
یمن کا امریکی آئل ٹینکر پر میزائل اور ڈرون حملہ
?️ 12 اکتوبر 2024سچ خبریں: یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے بحیرہ احمر میں ایک
اکتوبر
ٹرمپ کی پیوٹن کو غزہ امن کونسل میں شمولیت کی دعوت
?️ 19 جنوری 2026سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو غزہ
جنوری
ہم فلسطین کی غیر مشروط حمایت کرتے ہیں:الجزائری عہدہ دار
?️ 23 نومبر 2022سچ خبریں:الجزائر کی قومی اسمبلی (پارلیمنٹ) کے اسپیکر نے فلسطینیوں میں اتحاد
نومبر
مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کی تکالیف کا احساس ہے:وزیر اعظم
?️ 2 دسمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی
دسمبر
ایف بی آئی سربراہ پر الزامات، میڈیا رپورٹ کے بعد ۲۵۰ ملین ڈالر ہرجانے کا دعویٰ
?️ 21 اپریل 2026سچ خبریں:ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کش پٹیل نے امریکی جریدے کے
اپریل