?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت اگلے دو ہفتوں میں درجن سے زائد عالمی غیر سرکاری تنظیموں (آئی این جی اوز) کو ملک میں کام کرنے کی اجازت دینے یا نہ دینے کے حوالے سے فیصلہ کرے گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی غیر سرکاری تنظیموں (آئی این جی اوز) کے مسئلے پر وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے تشکیل دی گئی مخصوص کمیٹی کی صدارت کی گئی تھی۔
ذرائع نے ڈان کو بتایا ان تنظیموں میں وہ شامل ہیں جنہیں پاکستان میں کام کرنے کی اجازت نہیں ہے اور انہیں دوبارہ رجسٹریشن کے لیےکہا گیا تھا، یا پھر وہ جن کے معاہدے حکومت کے ساتھ ختم ہوگئے ہیں اور اب نئے معاہدے کی تجدید کے لیے درخواست دی ہے۔
اجلاس میں داخلہ اور معاشی امور ڈویژنز کے ایڈیشنل سیکریٹریز، وزارت خارجہ امور کے ڈائریکٹر جنرل اور دیگر افسران کی جانب سے شرکت کی گئی تھی۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ تنظیموں کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست اور متعلقہ دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جبکہ اسکروٹنی کا عمل 15 دن میں مکمل ہوگا، اس حوالے سے درخواست گزاروں کو اطلاع دی جائے گی۔
وزیر داخلہ نے عالمی غیر سرکاری تنظیموں کو ہدایت کی ہے کہ وزارت داخلہ سے تعاون کریں اور متعلقہ دستاویزات کو وقت پر جمع کرائیں۔
2015 میں وفاقی حکومت نے ملک میں کام کرنے والی عالمی غیر سرکاری تنظیموں کے کام کو ہموار کرنے اور سہولت فراہم کرنے کے لیے پالیسی متعارف کرائی گئی تھی۔
اُس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی جانب سے اس پالیسی میں تمام عالمی غیر سرکاری تنظیموں جو کہ پاکستان میں کام کر رہی تھیں یا خواہاں تھیں سے متعلق بتایا گیا تھا، ساتھ ہی انہیں وزارت داخلہ کے ساتھ معاہدے کر کے رجسٹر کرنے کو کہا گیا تھا۔
ہدایات پر عمل درآمد نہ کرنے والی تنظیموں کو پاکستان میں کام کرنے سے روک دیا گیا تھا۔
حکومتی اجازت کے بغیر ملک اندرونی اور بیرونی طور پر فنڈز اکٹھا کرنے یا مقامی دفاتر میں مدد کرنے سے عالمی غیر سرکاری تنظیموں کو روکا گیا تھا۔
وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی جانب سے پالیسی متعارف کرانے سے چند ماہ قبل ایک ہزار سے زائد غیر ملکی انٹیلی جنس آپریٹرز کے گزشتہ چند سال کے دوران آئی این جی اوز کے نمائندوں کی آڑ میں اسلام آباد آنے کا انکشاف کیا تھا۔
2018 میں عمران خان کی حکومت نے ملک میں رہنے کی حتمی اپیل مسترد ہونے پر 18 عالمی خیراتی تنظیموں کو نکال دیا تھا، جن میں میں سے متعدد خیراتی گروپوں کا تعلق امریکا سے تھا جبکہ دیگر کا تعلق برطانیہ اور یورپ سے تھا۔
اپیکس انٹیلی جنس ایجنسی کی جانب سے جاری کیے گئے دستاویزات کے مطابق ان میں سے کچھ عالمی غیر سرکاری تنظیموں (آئی این جی اوز) کے پاس وسیع سرمایہ تھا، ’اعلیٰ حکومتی سطح سے لے کر یونین کونسلوں کی نچلی سطح تک اچھی طرح سے روابط‘ تھے۔
دستاویزات میں بتایا گیا تھا کہ ’عالمی غیر سرکاری تنظیمیں مافیا بن چکی تھیں‘۔
دستاویزارت میں مزید بتایا گیا ہے کہ سرکاری تنظیموں کی جانب سے اسکروٹنی کے دوران آئی این جی اوز کے پاکستان کے مفاد کے خلاف کام کرنے اور سیکیورٹی کے حساس مسائل، مذہبی معاملات کے خلاف کام کرنے کا انکشاف ہوا تھا۔
کچھ آئی این جی اوز پر پاکستان کے خلاف ’ہائبرڈ وار‘ میں تعاون کرنے، فرقہ واریت، بیرونی ایجنڈا اور دشمن جاسوس اینجنسیوں کی حمایت، غیر قانونی ڈیٹا جمع کرنے اور غیر قانونی طور پر کام کرنے کا الزام تھا۔


مشہور خبریں۔
ترک جنگجوؤں کی ایک بار پھر شمالی عراق پر بمباری
?️ 21 دسمبر 2023سچ خبریں:ترکی کی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ مقامی وقت کے
دسمبر
ہلوی کے استعفیٰ کا مطلب اسرائیل کے فوجی بحران کی گہرائی
?️ 22 جنوری 2025سچ خبریں: فلسطینی مجاہدین موومنٹ نے اسرائیلی فوج کے استعفوں کے ردعمل میں
جنوری
حکومت نے کیا اپوزیشن کی سازش کو بے نقاب: شبلی فراز
?️ 12 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خیریں) اسلام آباد میں سینیٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو
مارچ
سندھ میں تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ
?️ 22 اگست 2021کراچی(سچ خبریں) عالمی وباء کورونا وائرس کے پیش نظر محکمہ تعلیم سندھ
اگست
48 گھنٹوں میں امریکی سپیشل فورسز کے تین فوجیوں کی خودکشی
?️ 30 ستمبر 2021سچ خبریں:امریکی میڈیا نے اس ملک کے 10 ویں ماؤنٹین وار ڈویژن
ستمبر
یوٹیوب کی نئی مونیٹائزیشن پالیسی کا اعلان، اے آئی ویڈیوز سے کمائی بند
?️ 16 جولائی 2025سچ خبریں: ویڈیو اسٹریمنگ پلیٹ فارم یوٹیوب نے اپنی نئی مونیٹائزیشن پالیسی جاری
جولائی
غزہ میں نیتن یاہو کا حمایت یافتہ دہشت گرد کون ہے؟
?️ 6 جون 2025 سچ خبریں: آویگدور لیبرمین، "اسرائیل ہمارا گھر” پارٹی کے سربراہ اور سابق
جون
میری شادی کو 10 دن ہوئے تھے، ’جمع تقسیم‘ میں لیلیٰ کے جذبات کو سمجھنا آسان تھا، ماورا حسین
?️ 30 اکتوبر 2025کراچی: (سچ خبریں) اداکارہ ماورا حسین نے کہا کہ ڈراما ’جمع تقسیم‘
اکتوبر