?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے ججز کے تبادلوں سے متعلق اہم آئینی مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ ججز کے تبادلوں میں 4 مراحل پر عدلیہ کی منظوری لازمی ہے، ججز کے تبادلوں سے متعلق اہم آئینی مقدمے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں عدلیہ کی خودمختاری، سنیارٹی اور آئینی آرٹیکلز پر گہرے سوالات اٹھا دئیے گئے۔
سپریم کورٹ میں ججز ٹرانسفر کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بنچ نے کی جس میں وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیئے جب کہ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کل اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔وکیل فیصل صدیقی نے موقف اپنایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا قیام آئین کے آرٹیکل 175 کے تحت عمل میں آیا ہے اور اس قانون میں ججز کی تقرری کا تعلق صرف صوبوں سے ہے جس کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کا تبادلہ ممکن نہیں۔
اگر کسی جج کا تبادلہ ہو بھی جائے تو وہ مستقل نہیں ہوگا اور واپسی پر دوبارہ حلف کی ضرورت نہیں پڑے گی۔جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا آرٹیکل 175 اے کے نافذ ہونے کے بعد آرٹیکل 200 غیر موثر ہو چکا ہے؟ فیصل صدیقی نے جواب میں کہا کہ تبادلوں کے موجودہ نظام میں جوڈیشل کمیشن کے اختیارات سلب کئے جا رہے ہیں جو آئینی روح کے منافی ہے۔جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ اگر ملک میں ججز کی ایک مشترکہ سنیارٹی لسٹ ہو تو تنازعات ختم ہو سکتے ہیں جس پر فیصل صدیقی نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ سنیارٹی لسٹ سے ججز کے تبادلوں کے اثرات سب پر واضح ہوں گے۔
فیصل صدیقی نے مزید کہا کہ سنیارٹی دہائیوں میں بنتی ہے اور ایگزیکٹو کے ذریعے راتوں رات اس فہرست میں ردوبدل کرنا ایک غاصبانہ عمل ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے تبادلوں کے عمل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس میں 4 مراحل شامل ہوتے ہیں۔ متعلقہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس، جس ہائیکورٹ میں ٹرانسفر ہونا ہے اس کے چیف جسٹس، ٹرانسفر ہونے والا جج اور چیف جسٹس آف پاکستان۔
اگر کسی ایک مرحلے پر بھی انکار ہو جائے تو تبادلہ ممکن نہیں۔جسٹس محمد علی مظہر کا مزید کہنا تھا کہ مزید کہا کہ اگر یہ سب کچھ ایگزیکٹو کے ہاتھ میں ہوتا تو الگ بات تھی لیکن یہاں عدلیہ کے 4 فورمز کی منظوری لازم ہے۔ فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ موجودہ قانون میں بدنیتی برتی گئی اور سنیارٹی کے حساس معاملے پر عدلیہ کو اندھیرے میں رکھا گیا۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے فیصل صدیقی کے دلائل مکمل ہونے کے بعد کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی جبکہ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کل اپنے دلائل دیں گے۔
مشہور خبریں۔
افغانستان کو انسانی حقوق کی تباہی کا سامنا: اقوام متحدہ
?️ 21 جنوری 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے جمعہ کے روز
جنوری
امارات میں علاقائی اور بین الاقوامی طاقتیں کیا تلاش کر رہی ہیں؟
?️ 29 جولائی 2023سچ خبریں:جاپان اور ہندوستان کے وزرائے اعظم اور ترکی کے صدر کے
جولائی
حکومت کی صوبوں میں انکم ٹیکس لگانے کی یقین دہانی، آئی ایم ایف نے مذاکرات کو مثبت قرار دیدیا
?️ 16 نومبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت پاکستان نے آئی ایم ایف کو
نومبر
شام کے اتحاد کے خلاف ترکی اور صیہونی حکومت کی ملی بھگت
?️ 14 دسمبر 2024سچ خبریں: وقت صیہونی حکومت نے شام کی انتشار کی اندرونی صورت حال
دسمبر
یوکرین میں کشیدگی میں کمی کی کوئی امید نہیں
?️ 30 مارچ 2022سچ خبریں: شمالی یوکرین میں روسی فوجی کارروائیوں میں کمی کی کچھ
مارچ
شنزو آبے کی آخری رسومات سے قبل ٹوکیو میں سخت حفاظتی اقدامات
?️ 26 ستمبر 2022سچ خبریں:جاپان نے پیر کو اعلان کیا کہ اس نے اس ملک
ستمبر
کیا فرانس میں خانہ جنگی ہونے جا رہی ہے؟
?️ 2 جولائی 2023سچ خبریں:پیرس کے مضافاتی علاقے میں پولیس کے ہاتھوں ایک 17 سالہ
جولائی
سویڈن کے سفیروں کے ستارے گردش میں
?️ 2 اگست 2023مصر کی وزارت مذہبی اوقاف کے سابق نائب سعد الفقی نے روس
اگست