ججز کےخلاف مہم: آئی ایس آئی، آئی بی، ایم آئی سمیت تمام خفیہ اداروں کے کردار کو دیکھنا ہے، عدالت

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس بابر ستار کے خلاف سوشل میڈیا مہم، خاندان کی خٖفیہ معلومات لیک کرنے پر توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اس کیس میں ہمیں آئی ایس آئی، انٹیلیجنس بیورو (آئی بی)، ملٹری انٹیلیجنس (ایم آئی) سمیت تمام خفیہ اداروں کے کردار کو دیکھنا ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس طارق محمور جہانگیری اور جسٹس سردار اعجاز اسحق خان بینچ میں شامل ہیں۔

سماعت کے آغاز پر عدالت نے دریافت کیا کہ ایڈووکیٹ جنرل آفس سے کون ہے؟ اٹارنی جنرل آفس سے کوئی آیا ہے؟

بعد ازاں سرکاری وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے سرکاری وکیل سے مکالمہ کیا کہ توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے جا رہے ہیں، کچھ ٹوئٹر اکاؤنٹس، کچھ ہیش ٹیگز بھی شامل ہیں، ہمارے معزز جج کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی، موجودہ جج کی وہ معلومات پبلک کی گئی جو کوئی عام بندہ نہیں نکال سکتا، جسٹس بابر ستار کی فیملی کی ذاتی معلومات سوشل میڈیا پر جاری کی گئیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید ریمارکس دیے کہ ذاتی معلومات یا تو سرکاری اداروں سے ہیک کرکے لی گئی یا کسی ادارے نے دی ہیں، ہم نے اس کیس میں آئی ایس آئی، انٹیلیجنس بیورو (آئی بی)، ملٹری انٹیلیجنس (ایم آئی) سمیت تمام خفیہ اداروں کے کردار کو دیکھنا ہے، موجودہ جج کے خلاف سوشل میڈیا مہم کیس پر اثر انداز اور جج کو دباؤ میں لانا ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے دریافت کیا کہ بڑا آسان ہے کہ وار فئیر ہے، مگر یہ وار فئیر صرف عدلیہ کے لیے کیوں؟ یہ توہین عدالت کارروائی ان کے خلاف ہیں کہ آئندہ کسی جج کے خلاف ایسا نہ ہو، کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ جج کو اپروچ کریں مگر یہ کام کرتے ہیں۔

جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ریمارکس دیے کہ اس کیس میں جو جو ملوث ہونگے ان کے لیے نتائج سنگین ہوسکتے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نےآئی ایس آئی، آئی بی، پی ٹی اے، وزارت دفاع، اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل آفس، ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ایف آئی اے، سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے، ڈی جی پاسپورٹ کو نوٹسسز جاری کردتے ہوئے کہا کہ کہ ان اداروں کے پاس ٹیکنکل ایکسپرٹس ہیں اسی بنیاد پر انہوں نے رپورٹ کرنا ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ وزارت دفاع کو اسی لیے نوٹس کریں گے کیونکہ سیکیورٹی کے ادارے ان کے ماتحت ہیں، ہم ایک آرڈر پاس کریں گے جس میں باقاعدہ سوال نامہ تیار کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی جی پاسپورٹ ہی بتائیں گے کہ جو انفارمیشن آپ کے پاس تھی وہ کیسے سوشل میڈیا پر آگئی؟

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ 6 مئی کو جسٹس بابر ستار نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں انہیں نشانہ بنانے والی سوشل میڈیا مہم کے بارے میں بتایا تھا، خط میں انہوں نے انکشاف کیا کہ آڈیو لیکس کیس میں مجھے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ پیچھے ہٹ جاؤ۔

28 اپریل کو جسٹس بابر ستار کے خلاف سوشل میڈیا مہم پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے اعلامیہ جاری کیا تھا۔

اعلامیے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس بابر ستار کے گرین کارڈ، بچوں کی امریکی شہریت، امریکی جائیدادوں اور فیملی بزنس پر وضاحت دی تھی۔

اعلامیے کے مطابق جسٹس بابر ستار نے آکسفورڈ لا کالج اور ہاورڈ لا کالج سے تعلیم حاصل کی، انہوں نے امریکا میں پریکٹس کی اور 2005 میں جسٹس بابر ستار امریکی نوکری چھوڑ کر پاکستان آگئے اور تب سے پاکستان میں کام کر رہے ہیں، جسٹس بابر ستار کی والدہ 1992 سے اسکول چلا رہی ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ جسٹس بابر ستار کے پاس اس وقت پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک کی شہریت نہیں، جسٹس بابر ستار کے گرین کارڈ کا اس وقت کے چیف جسٹس کو علم تھا، جسٹس بابر ستار کے جج بننے کے بعد ان کے بچوں نے پاکستانی سکونت اختیار کی۔

اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ جسٹس بابر ستار کی پاکستان اور امریکا میں جائیداد ٹیکس ریٹرنز میں موجود ہے۔

مزید کہا گیا تھا کہ سوشل میڈیا پر جسٹس بابر ستار کے خلاف ہتک آمیز اور بے بنیاد مہم چلائی جا رہی ہے، سوشل میڈیا پر جسٹس بابر ستار کی خفیہ معلومات پوسٹ اور ری پوسٹ کی جا رہی ہیں، جسٹس بابر ستار، اُن کی اہلیہ اور بچوں کے سفری دستاویزات سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے جا رہے ہیں۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیف جسٹس کے خط کو درخواست میں تبدیل کر کے توہین عدالت کی کارروائی کا فیصلہ کیا تھا۔

یاد رہے کہ جسٹس بابر ستار اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان 6 ججوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے ملک کے انٹیلی جنس ادارے کی طرف سے عدالتی امور میں مداخلت کی شکایت کی ہے۔

مشہور خبریں۔

غزہ میں عام سوگ

?️ 20 نومبر 2022سچ خبریں:فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ اور فلسطینی گروپوں نے غزہ میں ایک

امریکہ یوکرین میں جنگ کو ہوا دینے کی کوشش کر رہا ہے:چینی میڈیا

?️ 19 مارچ 2023سچ خبریں:چینی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چین اور روس کے

ہمیں بڑی طاقتوں کے درمیان جنگ کا خطرہ ہے: پینٹاگون

?️ 25 مئی 2022سچ خبریں:  جوائنٹ چیفس آف اسٹاف مارک جِل نے منگل کو کہا

پیپلزپارٹی کا یوم تاسیس: صدر مملکت کا پارٹی کے بانی رہنماؤں کو خراجِ عقیدت

?️ 30 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان پیپلز

چیٹ جی پی ٹی کمپنی کا لنکڈن کے ٹکر کا جاب پلیٹ فارم متعارف کرانے کا اعلان

?️ 6 ستمبر 2025سچ خبریں: چیٹ جی پی ٹی کی مالک کمپنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس

California Fires: This Is What Happens When You Breathe In Smoke

?️ 11 اگست 2022Dropcap the popularization of the “ideal measure” has led to advice such

جنوبی لبنان میں صیہونی فوج کو شدید دھچکا؛صیہونی میڈیا کا اعتراف

?️ 5 اپریل 2026سچ خبریں:صہیونی ذرائع کے مطابق جنوبی لبنان میں صیہونی فوج کو سخت

شہباز گل کا اہم بیان،وزیر اعظم میں کورونا وائرس کی علامات شدید نہیں ہیں

?️ 20 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں)وزیراعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے