ججز کو ترقی یا ذاتی فائدے کیلئے طاقتوروں کی نہیں بلکہ آئین کی زبان بولنی چاہیئے، جسٹس منصور

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا ہے کہ ججوں کو چھوٹےاور قلیل مدتی فوائد کے لالچ کا شکار نہیں ہونا چاہیئے، ججز کو ترقی یا ذاتی فائدے کیلئے طاقتوروں کی نہیں بلکہ آئین کی زبان بولنی چاہیئے کیوں کہ ایسے فوائد عارضی ہوتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس شاہ کی سربراہی میں ڈویژن بنچ نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی طرف سے دائر درخواست کو مسترد کر دیا جس میں اسسٹنٹ پروفیسر آبسٹیٹرکس اینڈ گائناکالوجی کے عہدے پر ایک خاتون سرکاری ملازم کی تقرری مسترد کردی گئی کیوں کہ انہوں نے شادی کے بعد اپنا ڈومیسائل تبدیل کرلیا تھا۔

جسٹس سید منصور علی شاہ کے تحریر کردہ اور جسٹس عقیل احمد عباسی کی طرف سے توثیق کردہ 15 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ بنیادی حقوق حتمی محافظ ہے، سپریم کورٹ کے ججوں کو دیانتداری اور جرأت کے ساتھ کام کرنا ہے، ان تمام بیرونی یا اندرونی رکاوٹوں سے مقابلہ کرنا ہے جو عدلیہ کی خود مختاری کو ختم کرنے یا قانون کی حکمرانی کو پامال کرنے کا خطرہ ہیں۔

سپریم کورٹ کے سینئر جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ججوں کو چھوٹے، قلیل مدتی فوائد کے لالچ کا شکار نہیں ہونا چاہیئے خواہ وہ ترقی، طاقت یا ذاتی راحت کا باعث ہوں جو آئین کی بجائے طاقتوروں کی زبان بولنے سے حاصل ہو سکتے ہیں کیوں کہ ایسے فوائد فریب اور عارضی ہوتے ہیں، جج کا اصل اجر ادارے کے وقار اور عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے میں ہے، اس عدالت کے ججوں کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اخلاقی وضاحت اور ادارہ جاتی جرأت کے ساتھ اپنی صفوں میں سے ان لوگوں کو پکاریں جو آئینی اصولوں کی قیمت پر دن کی طاقت کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اندر سے تنقید آئین کی وفاداری کی جڑیں ہیں، یہ بے وفائی نہیں ہے، یہ عدالتی ادارے کی خدمت کی اعلیٰ ترین شکل ہے، تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار میں رہنے والوں کو یاد نہیں رکھا جاتا بلکہ اصولوں کے دفاع میں ثابت قدم رہنے والوں کو دنیا یاد رکھتی ہے، عدالتوں کو کبھی بھی مصلحت کا آلہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ انہیں آئینی اخلاقیات اور جمہوری سالمیت کے محافظ ہونا چاہیئے، تاریخ ان ججوں کو بری نہیں کرے گی جو اپنی آئینی ذمہ داری چھوڑ دیتے ہیں، یہ انہیں انصاف فراہم کرنے والوں کے طور پر نہیں بلکہ ناانصافی کے ساتھی کے طور پر یاد رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ تنازعات کو حل کرنے کا فورم نہیں ہے یہ قوم کا آئینی ضمیر ہے جسے ترقی پسند اور اصولی فقہ تیار کرنے کا کام سونپا گیا ہے جو آئین میں جان ڈالتا ہے، قانون اور لوگوں کی زندہ حقیقتوں کے درمیان فاصلے کو ختم کرتا ہے، عدالت کو معاشرے کی ابھرتی ہوئی امنگوں کے مطابق زندہ رہنا چاہیئے اور انصاف کو آگے بڑھانے کے لیے نئے علاج ایجاد کرنا چاہیئے۔

مشہور خبریں۔

سابق آرمی چیف کو توسیع دینے کیلئے سب سر جوڑ کر بیٹھ گئے تھے، سپریم کورٹ

?️ 25 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں فوجی عدالتوں

پاکستان کی فتنہ الخوارج کیخلاف بڑی کامیابی، حافظ گل بہادر سمیت 70 دہشتگرد ہلاک

?️ 23 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑی کارروائی

پاکستان سے مارشل لا کے دن چلے گئے ہیں، عمران خان

?️ 6 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے

غزہ جنگ پر آنکارا اور تل ابیب کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ

?️ 17 نومبر 2023سچ خبریں:غزہ جنگ پر آنکارا اور تل ابیب حکام کے درمیان تناؤ

قرآن پاک کی بے حرمتی کا سلسلہ جاری،کوئی خاص مقاصد ہیں؟

?️ 9 اگست 2023سچ خبریں: عراقی نژاد سویڈش پناہ گزین سلوان مومیکا نے سویڈن میں

اسرائیلی ماہر کا اعتراف،حالیہ کاروائی صہیونی فوج کی بدترین شکستوں میں سے ایک

?️ 22 جولائی 2025اسرائیلی ماہر کا اعتراف،حالیہ کاروائی صہیونی فوج کی بدترین شکستوں میں سے

اسرائیل نے غزہ میں 6,000 انسانی امداد کے ٹرکوں کے داخلے کو روکا 

?️ 21 اکتوبر 2025 سچ خبریں: اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گیروں کی امداد اور

سالوں کے بعد شام کے وزیر خارجہ نے قاہرہ میں اپنے مصری ہم منصب سے ملاقات کی

?️ 2 اپریل 2023سچ خبریں:شام کے وزیر خارجہ فیصل مقداد آج صبح قاہرہ پہنچے اور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے