تخفیف غربت ڈویژن کی آڈٹ رپورٹس میں 96 ارب کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی(پی اے سی) کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں تخفیف غربت ڈویژن کی تین سالہ آڈٹ رپورٹس میں 96 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے ذیلی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت معین عامر وٹو نے کی، جس میں مالی بے قاعدگیوں پر سخت سوالات اٹھائے گئے. آڈٹ رپورٹ کے مطابق بی آئی ایس پی کے 2 لاکھ 97 ہزار مستفیدین کے اکاﺅنٹس میں چھ ماہ تک کوئی مالی سرگرمی نہیں ہوئی جبکہ اس دوران 7 ارب روپے سے زائد کی رقم بینک اکاﺅ نٹس میں غیر فعال پڑی رہی اور ڈی کریڈٹ نہیں کی گئی حیران کن طور پر اس غفلت پر بینکوں پر کوئی جرمانہ بھی عائد نہیں کیا گیا.

سیکرٹری بی آئی ایس پی نے وضاحت دی کہ یہ معاملہ کورونا وبا کے دوران پیش آیا، تاہم اب پالیسی میں تبدیلی کی گئی ہے اور اگر نو ماہ تک کسی مستحق کے اکاﺅنٹ میں سرگرمی نہ ہو تو رقم واپس بھیج دی جاتی ہے کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے نشاندہی کی کہ کئی معمر خواتین رقم نکلوانے کے لئے خود نہیں جا سکتیں، اس لیے زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر پالیسیاں ترتیب دی جائیں.

کمیٹی نے مزید غور کےلئے اس معاملے کو فی الحال موخر کر دیا رپورٹ 2020-21، 2021-22 اور 2022-23 کے مالی حسابات سے متعلق تھیں دوسری جانب ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تخفیف غربت ڈویژن کے تحت مالی اعانت کے پروگراموں میں کرپشن اور وسیع پیمانے پر مالی بے ضابطگیاں طویل عرصے سے جاری ہیں اور بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کے اجراءکے وقت سے پروگرام میں مالی بے ضابطگیوں کی اطلاعات سامنے آنا شروع ہوگئی تھیں ‘اس کے علاوہ پیپلزپارٹی کی 2008میں قائم ہونے والی حکومت کے دور میں بیت المال میں بھی وسیع پیمانے پر کرپشن کی رپورٹس سامنے آئی تھیں ‘بی آئی ایس پی میں مالی بے ضابطگیوں کا سلسلہ آج تک جاری ہے.

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پروگرام کے تحت جاری کیئے جانے والے اے ٹی ایم کارڈ ضلع‘تحصیل اوریونین کونسل کی سطح کے سیاسی کارکنوں اور راہنماﺅں کے ذریعے بجھوائے گئے جن میں سے بڑی تعداد میں اے ٹی ایم کارڈ مقامی سیاسی راہنماﺅں اور کارکنوں کے زیراستعمال ہیں ‘دیہی علاقوں میں معمولی رقوم دے کر خواتین اور غریب افراد کے نہ صرف شناختی کارڈ حاصل کیئے جاتے ہیں بلکہ ضرورت پیش آنے پر ان کی بائیومیٹرک تصدیق بھی کروائی جاتی ہے .

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک کارڈ پر جاری ہونے والی سالانہ رقوم میں سے بمشکل ایک ماہ کے برابررقم درخواست گزارو ں کو اداکی جاتی ہے جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں ان کے اے ٹی ایم کارڈ مقامی سیاسی راہنماﺅں‘سرکاری ملازمین اور دیگر کے قبضے میں رہتے ہیں اور وہ ان کارڈوں سے رقوم نکلواکر ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں ‘رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایسے پروگراموں میںمالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کا سلسلہ ہر دورحکومت میں جاری رہا ہے سیاسی جماعتیں اضلاغ‘تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر راہنماﺅں اور کارکنوں کے ذریعے درخواستیں وصول کرتی ہیں اور انہی کی سفارشات پر حاجت مندوں کا تعین کیا جاتا ہے لہذا جب مقامی سیاسی راہنماﺅں اور کارکنوں کو نچلی سطح پر ایسے پروگراموں میں شامل کیا جاتا ہے تو بڑی تعداد میں لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں .

مشہور خبریں۔

صدر مملکت کو انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا اختیار حاصل ہے، سیکریٹری جنرل پیپلزپارٹی

?️ 28 اگست 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سیکریٹری جنرل پیپلزپارٹی (پی پی پی) نیئر بخاری نے

اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان برقرار، 100 انڈیکس میں 600 پوائنٹس کا اضافہ

?️ 25 نومبر 2024کراچی: (سچ خبریں) پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج بھی تیزی کا رجحان

پریتی زنٹا کی کترینہ کیف کو شادی کی مبارک باد

?️ 10 دسمبر 2021ممبئی (سچ خبریں) بالی ووڈ اداکارہ پریتی زنٹا نے کترینہ کیف کو

سعودی ولی عہد ذہنی عارضے میں مبتلا : سعودی لیکس

?️ 21 فروری 2022سچ خبریں:  سعودی لیکس کا کہنا کہ جلد کی یہ حالت پریشانی

کینیڈا  فلسطین کو بطور خودمختار ریاست تسلیم کرنے پر غور کر رہا ہے

?️ 31 جولائی 2025کینیڈا  فلسطین کو بطور خودمختار ریاست تسلیم کرنے پر غور کر رہا

آج فلسطین کا شہید کون ہے؟

?️ 22 نومبر 2021سچ خبریں: مقبوضہ بیت المقدس شہر کی مسجد الاقصی میں آج صبح قابض

کیا اسماعیل ہنیہ کو صیہونیوں نے شہید کیا ہے؟

?️ 31 جولائی 2024سچ خبریں: صیہونی فوج نے حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کی

مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ سے قبل سخت پابندیاں عائد

?️ 19 جنوری 2025سرینگر: (سچ خبریں) جیسے جیسے بھارت کا نام نہاد یوم جمہوریہ 26جنوری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے