تحریک انصاف کا حکومت سے مذاکرات میں ’اصل فیصلہ سازوں‘ کی شمولیت کا مطالبہ

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کھٹائی میں پڑنے کا خدشہ پیدا ہوگیا، پی ٹی آئی نے حکومت سے مذاکرات میں اصل فیصلہ سازوں کی شمولیت کا مطالبہ کردیا۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات تعطل کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ تقریباً دو ہفتوں کے مذاکرات کے بعد سابق حکمراں جماعت نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاہدے میں کسی بھی ابہام سے بچنے کے لیے مذاکراتی عمل میں اصل فیصلہ سازوں کو شامل کرے۔

پی ٹی آئی کے رہنما اور مذاکراتی کمیٹی کے رکن اسد قیصر نے اسٹیبلشمنٹ کا نام لیے بغیر کہا کہ انہوں نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ مذاکرات میں ’اسٹیک ہولڈرز‘ کو شامل کرے کیونکہ ’جن کے پاس فیصلہ سازی کے حقیقی اختیارات ہیں ان کی سوچ ابھی تک نظر نہیں آئی‘۔

ڈان نیوز کے پروگرام میں میزبان نادر گورمانی سے بات کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ اصل میں فیصلے ان لوگوں کو کرنے ہیں جنہوں نے یہ حکومت بنائی ہے، پی ٹی آئی نے حکومت کو اس حوالے سے مشاورت کے لیے وقت دیا ہے۔

تاہم پی ٹی آئی رہنما کا موقف نیا نہیں ہے، ان مذاکرات سے قبل پی ٹی آئی نے بار بار حکومت کی مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ’فارم 47 حکومت‘ کے بجائے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کرے گی۔

اسد قیصر نے دھمکی دی کہ اگر حکومت نے پی ٹی آئی کمیٹی کو پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان تک بلا تعطل رسائی فراہم نہ کی تو وہ مذاکرات سے واک آؤٹ کرجائیں گے۔

حکومتی کمیٹی کے ترجمان عرفان صدیقی کے مطابق پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات تحریری طور پر حکومتی کمیٹی کے ساتھ شیئر کرنے کا وعدہ کرنے کے باوجود ایسا نہیں کیا جس سے مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کمیٹی صرف سہولت کار کا کردار ادا کر رہی ہے اور کسی بھی معاہدے پر حتمی فیصلہ صرف عمران خان ہی کریں گے‘، انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے عمران خان اور جیل میں بند دیگر رہنماؤں کے ساتھ ان کی ملاقاتوں میں سہولت فراہم نہیں کی تو اپوزیشن جماعت مذاکراتی کمیٹی تحلیل کر دے گی۔

مذاکرات میں اصل فیصلہ سازوں کی شمولیت کے مطالبے کے جواب میں حکومتی کمیٹی کے رکن اور پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ کمیٹی اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کو تیار ہے کیونکہ پی ٹی آئی کے کچھ مطالبات بشمول 9 مئی کے واقعات، اس سے متعلق ہیں، انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر فوج کے ساتھ بات چیت کی جائے گی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومتی ٹیم فوج سے بات کرے گی یا وہ مذاکرات میں اپنے نمائندے کو شامل کریں گے تو انہوں نے کہا کہ فوج حکومت کا حصہ ہے اور یہ ہماری فوج ہے، کوئی بیرونی قوت نہیں، انہوں نے کہا کہ نہ صرف پی ٹی آئی بلکہ حکومت نے بھی بعض معاملات پر موقف اپنایا ہے۔

مشہور خبریں۔

ٹرمپ امن کونسل کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملوں میں شدت آئی ہے: حماس

?️ 21 فروری 2026سچ خبریں:حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی

ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان ضمنی انتخابات ملکر لڑنے پر اتفاق

?️ 23 اگست 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان

یمن پر امریکی حملے؛ خوف و ہراس کی حکمت عملی

?️ 1 اپریل 2025سچ خبریں: یمن پر امریکی فضائی حملے کل رات سے جاری رہے

وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ پر روس کا رد عمل 

?️ 3 دسمبر 2025سچ خبریں: روسی سفارت خانے نے سوڈان میں روسی بحری اڈے کی تعمیر

پاکستان کا بھارت و افغانستان کے مشترکہ بیان پر سخت ردِعمل 

?️ 12 اکتوبر 2025پاکستان کا بھارت و افغانستان کے مشترکہ بیان پر سخت ردِعمل پاکستان

سیف القدس ابھی نیام میں نہیں گئی ہے:حماس

?️ 9 مئی 2022سچ خبریں:حماس اسلامی مزاحمتی تحریک کے ایک سینئر رکن نے یحییٰ السنوار

آل خلیفہ کا صیہونی عہدہ دار کا استقبال،بحرانی عوام کا احتجاج

?️ 12 مارچ 2022سچ خبریں:بحرین کے عوام نے اس ملک کے دار الحکومت منامہ اور

غزہ کے بحران میں یونیورسٹیوں کی فعال سرگرمی کے امکانات کا جائزہ

?️ 12 مئی 2025سچ خبریں: تہران یونیورسٹی کی فیکلٹی آف گورننس نے ہاؤس آف تھنکرز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے