?️
کوئٹہ: (سچ خبریں) صوبائی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن، دونوں بینچوں کی مخالفت کے باوجود بلوچستان حکومت نے 3 اضلاع کوئٹہ، گوادر اور لسبیلہ پر مشتمل لیویز فورس کو فوری طور پر صوبائی پولیس فورس میں ضم کر دیا ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ چیف سیکریٹری شکیل قادر کی زیر صدارت اجلاس میں ضلعی لیویز سے ضلعی پولیس کو آپریشنل کمانڈ منتقل کرنے کے حوالے سے متعلقہ ضلعی انتظامیہ سے مشاورت کے بعد کیا گیا، اس حوالے سے ہفتے کو باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔
اس فیصلے کے تحت مذکورہ تینوں اضلاع میں افسران اور دیگر عملے سمیت مجموعی طور پر 1116 لیویز اہلکار بلوچستان پولیس میں تعینات کیے جائیں گے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں لیویز فورس کے ڈائریکٹر جنرل نے محکمہ داخلہ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کو ایک خط ارسال کیا تھا، جس میں لیویز اہلکاروں، کوئٹہ لیویز کو کوئٹہ پولیس میں، گوادر لیویز کو گوادر پولیس میں اور لسبیلہ لیویز کو لسبیلہ اور حب پولیس میں ضم کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔
ان تینوں اضلاع میں لیویز فورس کے مجموعی طور پر 1116 اہلکاروں کو اب پولیس فورس میں ضم کردیا گیا ہے۔
ان عہدوں میں اسلحہ انسپکٹر، کلرک، رسالدار، نائب رسالدار، دفادار، خاصہ دار، جمعدار، حوالدار، سپاہی، وائرلیس آپریٹرز اور فٹ مین شامل ہیں، جو گریڈ 1 سے گریڈ 11 تک کے عہدوں تک ہیں۔
خصوصی طور پر کوئٹہ سے 346، گوادر سے 381، لسبیلہ سے 220 اور حب سے 219 لیویز اہلکاروں کو ان اضلاع کی پولیس فورس میں ضم کیا گیا ہے۔
لیویز، تھانوں، گاڑیوں، اسلحہ اور دیگر سرکاری سازوسامان کو مکمل جائزے کے بعد منتقل کیا جائے گا۔
گزشتہ ہفتے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن اور حکومت کے کچھ ارکان نے لیویز کو پولیس میں ضم کرنے کے فیصلے کی شدید مخالفت کی تھی۔
ان ارکان صوبائی اسمبلی نے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت اس فیصلے کو واپس لے، اور لیویز کو جدید ہتھیاروں، بلٹ پروف گاڑیوں اور دیگر ضروری آلات سے لیس کرے تاکہ فورس کو مضبوط بنایا جاسکے۔
واضح رہے کہ جام یوسف کی سربراہی میں مخلوط حکومت کے دور میں بلوچستان میں لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر دیا گیا تھا۔
تاہم 2008 میں نواب اسلم رئیسانی کی قیادت والی پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت نے اس فیصلے کو واپس لے لیا اور لیویز کو ایک علیحدہ فورس کے طور پر بحال کر دیا۔
لیویز فورس بلوچستان کے تقریباً 90 فیصد حصے کی پولیسنگ کی ذمہ دار تھی، جب کہ باقی 10 فیصد حصے میں پولیس کام کرتی تھی۔


مشہور خبریں۔
السیسی کا یمن کے سیاسی حل کے لیے مصر کی حمایت پر زور
?️ 5 مئی 2023سچ خبریں:یمن کی صدارتی کونسل کے وزیر دفاع محسن الداعری نے مصر
مئی
سائبر سیکیورٹی کے میدان میں صیہونی حکومت کی تاریخی ناکامی
?️ 15 نومبر 2025سچ خبریں: سیبر سپورٹ فرنٹ، جس نے حال ہی میں صیہونی ریجنٹ
نومبر
صہیونی حکام کا فلسطینیوں کے خلاف اپنی بربریت کا اعتراف
?️ 22 جنوری 2022سچ خبریں: آج صبح متعدد فلسطینی نابلس کے شہر بورین کے ارد
جنوری
لندن میں نواز شریف سے را کے ایجنٹ مل رہے ہیں
?️ 25 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ نواز
جولائی
اسرائیل کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہم ہیں ایران نہیں: موساد کے سابق سربراہ
?️ 11 جون 2022سچ خبریں: موساد اسرائیل کی غیر ملکی انٹیلی جنس سروس کے سابق
جون
اسرائیل کو ہیگ کے ججوں کو دھمکیاں دینے کا کوئی حق نہیں ہے : بریل
?️ 25 مئی 2024سچ خبریں: یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے تل
مئی
پاکستان کو ریڈ لسٹ میں ڈالنے کا معاملہ، برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے اہم قدم اٹھا لیا
?️ 7 اپریل 2021لندن (سچ خبریں) پاکستان کو ریڈ لسٹ میں ڈالنے کو لے کر
اپریل
ایران کے پاس اگلے 2 سالوں میں ہمیں تباہ کرنے کا منصوبہ ہے: لائبرمین
?️ 7 جون 2024سچ خبریں: لائبرمین نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران ہمیں
جون