?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) امریکی کانگریس کی خاتون رکن الہان عمر نے پاکستان میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے صاف، شفاف اور منصفانہ انعقاد پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری اپنے ایک بیان میں الہان عمر نے کہا کہ پاکستان میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہو ہی نہیں سکتے جب کہ اپوزیشن پارٹیوں میں سے کسی ایک جماعت کو مجرم قرار دیا گیا ہو۔
اپنے بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اور میرے ساتھیوں نے نومبر میں پاکستان میں انسانی حقوق کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔
الہان عمر نے مزید کہا انسانی حقوق سے متعلق حالات مزید خراب ہو گئے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں امریکی کانگریس کے 11 ارکان نے امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن کو لکھے گئے خط میں بائیڈن انتظامیہ پر زور دیا تھا کہ وہ پاکستان کے لیے مستقبل میں امریکی امداد اس وقت تک روک دیں جب تک ملک میں آئینی نظام بحال نہیں ہو جاتا اور آزادانہ اور منصفانہ انتخابات نہیں ہوجاتے۔
امریکی قانون سازوں نے لیہی قوانین اور فارن اسسٹنس ایکٹ کے سیکشن 502 (بی) کے تحت محکمہ خارجہ سے قانونی طور پر اس بات کا تعین کرنے کی درخواست کی تھی کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ آیا امریکا کی جانب سے سیکیورٹی امداد نے پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں سہولت فراہم کی۔
انہوں نے لکھا تھا کہ ہم مزید درخواست کرتے ہیں کہ پاکستان کو سیکیورٹی امداد کی فراہمی اس وقت تک روک دی جائے جب تک کہ پاکستان فیصلہ کن طور پر آئینی نظام کی بحالی کی طرف نہیں بڑھتا، جس کے تحت آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ہو جس میں تمام جماعتیں آزادانہ طور پر حصہ لینے کی اہل ہوں۔
خط میں پاکستان میں توہین مذہب کے قانون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کا بھی تذکرہ کیا گیا تھا، خط میں انٹونی بلنکن کو متنبہ کیا گیا تھا کہ مجوزہ تبدیلیوں کو چھوٹے مذہبی گروہوں اور اقلیتوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
قانون سازوں نے لکھا تھا کہ ہم فوجداری قانون (ترمیمی) بل 2023 کی منظوری کے حوالے سے انتہائی فکر مند ہیں جو توہین رسالت کے موجودہ قانون کو سخت کرے گا۔
انہوں نے نشاندہی کی تھی کہ اس بل پر صدر کے دستخط ہونا باقی ہیں، بل کی منظوری کے لیے بہت سے اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے باقاعدہ پارلیمانی طریقہ کار پر عملدرآمد کے بار بار مطالبات کے باوجود یہ بل جلد بازی میں منظور کر لیا گیا۔
قانون سازوں نے متنبہ کیا تھا کہ پاکستان میں مذہبی بنیادوں پر ظلم و ستم بدستور جاری ہے اور اگر یہ بل قانون بن جاتا ہے تو ہم مستقبل میں مذہب اور عقیدے کی آزادی پر پابندیوں کے بارے میں فکر مند ہیں۔
یہ اقدام کانگریس کی خاتون رکن الہان عمر کی جانب سے اٹھایا گیا تھا، جو امریکی کانگریس میں مسلم کاز کی چیمپئن ہیں، دیگر دستخط کنندگان میں فرینک پیلون جونیئر، جوکین کاسترو، سمر لی، ٹیڈ ڈبلیو لیو، ڈینا ٹائٹس، لائیڈ ڈوگیٹ اور کوری بش شامل ہیں۔
ان میں سے زیادہ تر کانگریس کے ترقی پسند گروپ کے ارکان تھے، واشنگٹن میں مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنے میں کانگریس نے کلیدی کردار ادا کیا تھا اور غزہ میں فوری جنگ بندی کے مطالبے کے لیے منعقدہ احتجاجی جلسوں اور ریلیوں میں بھی شرکت کی۔
پاکستان کے بارے میں امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں لکھا تھا کہ پاکستان میں مذہبی اقلیتیں خاص طور پر توہین مذہب کے الزامات کی بنیاد پر قانونی چارہ جوئی یا تشدد کا شکار ہیں اور توہین مذہب کے مقدمات مذہبی آزادی کے لیے کافی خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں پچھلی حکومت نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کے اراکین کے خلاف توہین مذہب کے قوانین کو ہتھیار بنایا۔
امریکی قانون سازوں نے ایک دیرینہ اتحادی کے طور پر پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے آزادی اظہار اور مذہبی پابندیوں، جبری گمشدگیوں، فوجی عدالتوں اور سیاسی مخالفین اور انسانی حقوق کے محافظوں کو ہراساں اور گرفتار کرنے جیسے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا۔
امریکی قانون سازوں نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف مقدمات کا بھی ذکر کیا تھا اور کہا تھا کہ انہیں مبینہ طور پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
خط میں انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری کا بھی تذکرہ کیا گیا تھا، جنہیں جبری گمشدگیوں کے خلاف ایک ریلی میں تقریر کرنے کے بعد بغیر وارنٹ گرفتاری کے رات 3 بجے اُن کے گھر سے اٹھا لیا گیا تھا۔
خط میں اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے پر زور دیا گیا تھا کہ وہ ایمان مزاری، خدیجہ شاہ اور عمران خان کے کیسز سمیت انسانی حقوق کے لیے سرگرم سماجی کارکنوں اور سیاسی رہنماؤں کے کیسز کی سماعتوں اور دیگر قانونی کارروائیوں کے لیے مبصرین بھیجیں۔
امریکی قانون سازوں نے لکھا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکا مثبت تبدیلی کے لیے تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے اور ہمیں امید ہے کہ ہمارا تعاون پاکستان کے عوام کے لیے منصفانہ مستقبل کے قیام میں معاونت کر سکتا ہے۔
انہوں نے پاکستان میں انسانی حقوق، جمہوریت اور استحکام کے فروغ کے لیے سیکریٹری انٹونی بلنکن کے ساتھ کام کرنے کی پیشکش بھی کی تھی۔


مشہور خبریں۔
شہریوں کی صحت کو عالمی مسئلہ نہ بنایا جائے
?️ 25 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اسد عمر
جون
صیہونیوں کے درمیان اختلاف کی وجہ؟
?️ 12 اگست 2023سچ خبریں:ایسی حالت میں کہ صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول
اگست
مریم نواز شریف کا پنجاب کو ٹی 30 وژن کے معیار کا صوبہ بنانے کا اعلان
?️ 10 نومبر 2025لاہور (سچ خبریں) وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب کو ٹی
نومبر
ٹرمپ بیوقوف ہے، عراق میں اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا : عراقی حزب اللہ
?️ 14 دسمبر 2025سچ خبریں: ابو علی العسکری، عراقی حزب اللہ کی سلامتی بٹالینوں کے ذمہ
دسمبر
ملک میں مصنوعی قیادت ہے
?️ 15 اپریل 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے
اپریل
شام میں اثر و رسوخ پر ترکی اور صیہونی حکومت کا بڑا کھیل
?️ 29 اگست 2026سچ خبریں: منگل 27 اگست کی صبح سویرے شام کے صوبہ ادلب
اگست
ٹرمپ کا نیتن یاہو پر غزہ کی جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ
?️ 27 ستمبر 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ یرغمالوں
ستمبر
اتنی جنگوں کے تمام تجربات کے باوجود میں نے ایسا حملہ پہلے کبھی نہیں دیکھا؛صیہونی عہدیدار کا اعتراف
?️ 15 جون 2025 سچ خبریں:صیہونی شہر رمات گان کے میئر نے ایران کے میزائل
جون