اگر بھارت نے ہمیں اکسایا یا حملہ کیا تو ہمارا ردعمل تیز اور وحشیانہ ہوگا، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری

?️

راولپنڈی: (سچ خبریں) پاک فوج کے ترجمان اور شبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر بھارت نے ہمیں اکسایا یا حملہ کیا تو ہمارا ردعمل تیز اور وحشیانہ ہوگا، نا تو بھارت اسرائیل ہے اور نا ہی پاکستان فلسطین۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے ترکیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کو حالیہ صورتحال پر خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دریائے سندھ کا پانی روگا گیا تو دہائیوں تک محسوس کئے جائیں گے۔

امید کرتا ہوں ایسا وقت کبھی نہ آئے تاہم اگرایسے اقدامات کئے گئے تودنیا دیکھے گی۔پاکستان دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ دہشتگردی کا شکار ملک ہے۔

جنوری 2024 سے اب تک ملک میں 3700 سے زائد دہشتگردی کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔اس ساری دہشت گردی کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی بھارت کر رہا ہے۔ 17 ماہ میں دہشتگردی کے واقعات میں 3896 افراد شہید ہوئے۔

3896 شہدا میں سے 2582 سویلین اور سکیورٹی اہلکار ہیں۔کشمیر میں یا بھارت میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ بھارتی جبر کی وجہ سے اندرونی مسئلہ ہے۔ کشمیر ایک بین الاقوامی تسلیم شدہ تنازعہ ہے۔ بھارت کشمیر کو حل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ وہ جبر سے اسے اندرونی مسئلہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔کوئی بھی پاکستان کا پانی روکنے کی ہمت نہ کرے، کوئی پاگل شخص ہی یہ سوچ سکتا ہے کہ وہ 24 کروڑ سے زائد لوگوں کا پانی روک سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر انڈیا نے دریائے سندھ کا پانی روکا تو نتائج دہائیوں تک محسوس کئے جائیں گے۔ ہم ایک امن پسند قوم ہیں لیکن اگر بھارت نے ہمیں اکسایا یا حملہ کیا تو ہمارا ردعمل تیز اور وحشیانہ ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت امریکہ نہیں اور پاکستان افغانستان نہیں، بھارت اسرائیل نہیں اور پاکستان فلسطین نہیں ہے۔ پاکستان، بھارتی تسلط کے سامنے نہیں جھکے گا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ امید کرتا ہوں ایسا وقت کبھی نہ آئے تاہم اگرایسے اقدامات کئے گئے تودنیا دیکھے گی۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کوئی بھی پاکستان کا پانی روکنے کی ہمت نہ کرے۔پاکستان کی افواج پیشہ ورہیں۔ ہم اپنے کئے گئے وعدوں کی مکمل پاسداری کرتے ہیں اور سیاسی حکومت کی ہدایات حرف بہ حرف مانتے ہوئے ان کے عزم کاپاس رکھتے ہیں۔

بھارت پہلگام واقعے میں پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا کر کوئی بھی ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہا، نئی دہلی حکومت ان واقعات کو دہشت گردی کے بہانے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔بھارت جتنی جلدی یہ بات سمجھ جائے گا یہ علاقائی اور عالمی امن کیلئے اچھا ہوگا۔ نئی دہلی حکومت ان واقعات کو دہشت گردی کے بہانے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ترجمان پاک فوج نے جعفر ایکسپریس پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حملہ کرنے والی بی ایل اے نے کھلے عام بھارت سے فوجی مدد کی درخواست کی تھی۔

نئی دہلی میں کچھ رہنماوں، سیاست دانوں اور ریٹائرڈ جنرلوں نے بی ایل اے کی حمایت میں بیانات دئیے تھے۔ترجمان پاک فوج کایہ بھی کہنا تھا حالیہ کشیدگی میں بھارت کے 5 جنگی طیارے مار گرائے جن میں سے 3 رافیل تھے۔ دنیا جانتی ہے پاکستان نے بھارتی طیارے گرائے لیکن نئی دہلی اسے ماننے کو تیار نہیں۔جہاں تک پاک آرمی کاتعلق ہے یہ جنگ بندی آسانی سے برقراررہے گی۔ فریقین کے درمیان رابطے میں اعتماد سازی کے اقدامات کئے گئے ہیں تاہم اگر خلاف ورزی ہوتی ہے توہمارا جواب ہمیشہ اورموقع پرہوگا۔

مشہور خبریں۔

22 روزہ جنگ میں صیہونی حکومت کے خلاف استقامت کی فتح پر ایک نظر

?️ 23 جنوری 2023سچ خبریں:2009 کی 22 روزہ جنگ جو فلسطینی استقامت اور صیہونی حکومت

الحشد الشعبی کا اربعین زائرین کے خلاف داعشی منصوبہ ناکام

?️ 10 ستمبر 2022سچ خبریں:عراق کی عوامی تنظیم الحشد الشعبی نے اس ملک کے صوبہ

حزب اللہ کی طرف سے حیفا پر بیلسٹک میزائل فائر

?️ 30 ستمبر 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت نے اعتراف کیا کہ حزب اللہ کی جانب

غزہ میں جرائم کی وجہ سے آئرلینڈ میں صہیونیوں کا خیرمقدم نہیں ہوا

?️ 16 مارچ 2025سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حکومت کی نسل کشی نے یورپی

ٹرمپ نے سوالوں کا جواب دینے سے انکار کیا

?️ 11 اگست 2022سچ خبریں:    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بدھ کی شام

افغانستان میں پانی کا بحران؛ 93% بچوں کی صاف پانی تک رسائی نہیں

?️ 24 مارچ 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ یونیسیف کا کہنا ہے کہ

کیا ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات آگے بڑھیں گے ؟

?️ 12 جون 2025سچ خبریں: ایک امریکی میڈیا outlet نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران

فلسطینی قیدیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے سنگین جرائم؛خوفناک اعداد و شمار

?️ 1 جنوری 2026سچ خبریں:فلسطینی قیدیوں کے امور کی نگراں تنظیموں کے اعداد و شمار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے