?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کراتے ہوئے کہا ہے کہ اسے پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات کے لیے درکار 21 ارب روپے کے فنڈز ابھی تک موصول نہیں ہوئے۔
اگرچہ حالیہ رپورٹ کے مکمل مواد کا علم نہیں لیکن دو صفحات پر مشتمل جواب میں کمیشن کو فنڈز کی عدم دستیابی کے بارے میں تازہ ترین صورتحال کی وضاحت کی گئی ہے۔
اس سے قبل 18 اپریل کو کمیشن نے عدالت کے سامنے یہ استدعا کی تھی کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیوں کے لیے الگ سے انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے کیونکہ اس پر ایک ہی روز تمام انتخابات کے انعقاد کے مقابلے میں کافی زیادہ اخراجات آئیں گے۔
یہ رپورٹ عدالت کی 14 اپریل کی ہدایات کے مطابق دائر کی گئی تھی، جس میں کمیشن نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ پہلے سے زیر استعمال سیکیورٹی سازوسامان کی نقل و حرکت کے لیے ہفتے درکار ہوں گے۔
ای سی پی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ الگ الگ انتخابات سے تشدد میں اضافے کا خطرہ ہو سکتا ہے کیونکہ ایک حلقے سے ہارنے والی پارٹی ممکنہ طور پر اگلے مرحلے میں کسی دوسرے حلقے میں تشدد کو جنم دے گی تاکہ نقصان کے امکانات کو پورا کیا جا سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اگلے مرحلے میں دھاندلی کے ذریعے نتائج پر اثرانداز ہونے کے واقعات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
ای سی پی نے خدشہ ظاہر کیا کہ علیحدہ علیحدہ انتخابات سے تشدد کا خطرہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ ایک دن کے محدود مواقع کے مقابلے میں غیرقانونی افراد کو منصوبہ بندی کرنے اور حملوں کا ارتکاب کرنے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔
مزید یہ کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے پنجاب میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
انتخابی ڈیوٹی میں ان کی تعیناتی دہشت گردوں کے حوالے سے انتخابی سرگرمیوں پر سمجھوتہ کرنے کا باعث بنے گی ۔
اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے زور دیا کہ موجودہ انتشار، پارٹیز کے مابین اتفاق رائے کا متقاضی ہے تا کہ سیاسی درجہ حرارت کم کیا جاسکے۔
رپورٹ میں اس کا کہنا تھا کہ انتخابی نقطہ نظر سے سیاسی انتشار کا بڑھاوا دینے جیسا اثر ہوسکتا ہے جو باعث تشدد اور انتخابات کے دوران لوگوں کی حفاظت کے لیے خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
کمیشن نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ مقابلہ کرنے والی سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے درمیان رواداری اور توازن کے لیے کچھ حفاظتی اور سرخ لکیریں کھینچ دی جائیں۔
تاہم چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ای سی پی کی سابقہ رپورٹ کو عام انتخابات کی تاریخ 8 اکتوبر کو بحال کرنے کی کوشش قرار دیا تھا، جسے عدالت نے پہلے ہی 4 اپریل کے ذریعے کالعدم قرار دے کر انتخابات کے لیے 14 مئی کی تاریخ مقرر کردی تھی۔
19 اپریل کے آرڈر میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن بنیادی طور پر سیکیورٹی کی بنیاد پر 8 اکتوبر کی تاریخ کو بحال کرانا چاہتا ہے، جو کہ بڑے پیمانے پر وزارت دفاع کی رپورٹ میں ظاہر کیے گئے خدشات کو اوور لیپ کرتی ہے۔
عدالت نے کہا تھا کہ ہمارے خیال میں کمیشن، نمائندگی کی آڑ میں ان معاملات کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہا ہے جس پر سماعت اورفیصلہ ہوچکا ہے اور 2 وکلا کو کمیشن کی جانب سے جواب جمع کرانےکی ہدایت کی گئی تھی۔
جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل بینچ نے کہا کہ ایسے مسائل اور سوالات کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کرنا درست نہیں جن کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہے۔ عدالت نے کہا کہ نمائندگی قابل سماعت نہیں اور ای سی پی کی رپورٹ کو نمٹا دیا جاتا ہے۔


مشہور خبریں۔
الیکشن میں دھاندلی روکنے کیلئے ای ووٹنگ واحد آپشن ہے: گورنر پنجاب
?️ 19 جون 2021لاہور (سچ خبریں) گورنر پنجاب چوہدری سرور کا کہنا ہے کہ الیکشن
جون
حزب اللہ کے ڈرونز کے بارے میں صیہونی فوج کے دعوؤں کی حقیقت کیا ہے؟
?️ 19 جون 2024سچ خبریں: اسرائیلی میڈیا نے حزب اللہ کے مقابلے میں تل ابیب
جون
روس یورپی یونین کے ساتھ کچھ معاہدوں سے دستبردار ہو گیا
?️ 3 جولائی 2022سچ خبریں: روسی وزیر اعظم میخائل میشوسٹن نے ہفتہ کے روز اعلان
جولائی
الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کیلئے حد بندی پر ’یو ٹرن‘ لے لیا
?️ 29 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے بظاہر
دسمبر
امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو بھیجے گئے ہتھیاروں کے چونکا دینے والے اعدادوشمار!
?️ 7 دسمبر 2023سچ خبریں: ایسی صورت حال میں جب اسرائیل جھوٹے اور بے بنیاد
دسمبر
سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز، جسٹس امین کا ازخود نوٹس سے متعلق فیصلہ مسترد کردیا
?️ 31 مارچ 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور
مارچ
سوڈان کی وحدت اور علاقائی سالمیت ہماری سرخ لکیر ہے:قاہرہ
?️ 19 دسمبر 2025 سوڈان کی وحدت اور علاقائی سالمیت ہماری سرخ لکیر ہے:قاہرہ مصر
دسمبر
غزہ میں شہداء کے تازہ ترین اعداد وشمار
?️ 16 دسمبر 2023سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں فلسطینی اتھارٹی کے انفارمیشن آفس کے
دسمبر