القادر ٹرسٹ کیس: عمران خان کا نیب کے سامنے پیش ہونے سے انکار، الزامات کو بے بنیاد، من گھڑت قرار دے دیا

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے سامنے پیش ہونے کی معذرت کرتے ہوئے طلبی نوٹس میں خود پر عائد الزامات کو بے بنیاد، من گھڑت، جھوٹے اور حقیقت کے برعکس قرار دے دیا۔

گزشتہ روز نیب کی طرف سے القادر ٹرسٹ کیس میں طلبی نوٹس کا جواب دیتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے تحریری جواب میں لکھا کہ اس وقت میں لاہور میں موجود ہوں اور متعدد مقدمات میں ضمانت کے لیے درخواستیں دے رہا ہوں جس کے لیے لاہو ہائی کورٹ نے مجھے 22 مئی کا وقت دیا ہے۔

عمران خان نے تحریری جواب میں کہا کہ مقدمات میں ضمانت لینے کی وجہ سے نیب کے سامنے پیش ہوکر اپنا بیان ریکارڈ کرانا یا شاملِ تفتیش ہونا میرے لیے ممکن نہیں ہے۔

عمران خان نے اپنے جواب میں کہا کہ آپ (نیب) کی طرف سے طلبی نوٹس میں لگائے گئے تمام الزامات بالکل جھوٹے، غیر سنجیدہ، من گھڑت اور قانون اور حقائق کے بارے میں جان بوجھ کر غلط فہمی اور بے بنیاد قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ بدعنوانی یا کرپٹ پریکٹسز کا کوئی بھی کیس ریکارڈ پر موجود حقائق اور حالات سے برعکس نہیں بنایا جاتا، بلکہ اس کیس کی انکوائری اور تفتیش شروع کرنے کا پورا مقصد سیاسی انتقام ہے۔

عمران خان نے اپنے جواب میں لکھا کہ آپ (نیب) نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ مجھے 2 اپریل کو طلبی نوٹس ارسال کیا لیکن میں نے اس کا کوائی جواب نہیں دیا لیکن یہ الزامت مکمل طور ہر بے بنیاد اور من گھڑت ہے اور حقیقت یہ ہے کہ مجھے صرف ایک ہی طلبی نوٹس بھیجا گیا جس کا میں نے جواب دیا تھا اور اسے بھی جھوٹ پر مبنی قرار دیا تھا۔

نیب کی طرف سے حکومتِ پاکستان کی جانب سے دستخط کی گئی خفیہ معاہدے کے دستاویزات فراہم کرنے کے سوال پر عمران خان نے جواب دیا کہ متعلقہ دستاویزات میرے پاس موجود نہیں ہیں۔

ملک ریاض کے خاندان اور این سی اے کے درمیان ہونے والے معاہدے کی تفصیلات لانے پر عمران خان نے جواب میں لکھا کہ متعلقہ تفصیلات تک میری رسائی نہیں ہے، میرے پاس موجود نہیں ہیں۔

نیب کی طرف سے حکومتِ پاکستان اور این سی اے کے درمیان ہونے والی خط و کتاب کا مکمل ریکارڈ فراہم کرنے کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ متعلقہ ریکارڈ حکومتی محکمہ کے پاس موجود ہوگا، لہٰذا یہ میرے پاس موجود نہیں ہے۔

نیب کی طرف سے حکومتِ پاکستان اور ایسٹ ریکوری یونٹ کے درمیان ہونے والی خط و کتابت کا ریکارڈ دینے کے سوال پر عمران خان نے کہا جواب میں لکھا کہ متعلقہ ریکارڈ میرے پاس نہیں ہے۔

القادر یونیورسٹی کی تعمیر اور معاہدے سے متعلق دستاویزات کی فراہمی پر بھی پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ یہ ریکارڈ متعلقہ محکمہ کے پاس موجود ہوں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز (17 مئی) کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس کی تحقیقات کے لیے کل (18 مئی) کو ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں طلب کیا تھا۔

القادر ٹرسٹ کیس میں تحقیقات کے حوالے سے نیب کی طرف سے جاری کردہ نوٹس کی تفصیلات سامنے آگئی تھیں۔

پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو نیب کی طرف سے تین صفحات پر مبنی نوٹس ارسال کیا گیا تھا۔

نیب کی طرف سے جارہ کردہ نوٹس میں پی ٹی آئی عمران خان کو کل صبح 10 بجے نیب روالپنڈی میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔

نوٹس میں عمران خان سے 20 نکات پر مشتمل سوالات کے دستاویزات ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی تھی۔

مشہور خبریں۔

کسی جماعت پر پابندی نہیں، توڑ پھوڑ میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی، نگران وزیراعظم

?️ 23 ستمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے

امریکہ شام سے کیا چاہتا ہے؟اقوام متحدہ میں امریکی نمائندے کا بیان

?️ 11 جنوری 2025سچ خبریں:اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل نمائندہ لیندا تھامس گرینفیلڈ نے

غزہ میں صیہونی فوج نے کیا کیا ہے؟صیہونی فوجی کا اعتراف

?️ 14 دسمبر 2024سچ خبریں:حال ہی میں غزہ سے واپس آنے والے صیہونی اس بات

یمن میں سعودی کھیل ختم ہو رہا ہے: امریکی تجزیاتی سائٹ

?️ 2 اکتوبر 2021سچ خبریں:امریکی تجزیاتی ویب سائٹ کا کہنا ہےکہ یمن کے خلاف ریاض

الجزائر کے صدارتی انتخابات کی تازہ ترین صورتحال

?️ 8 ستمبر 2024سچ خبریں: الجزائر کے صدارتی انتخابات کے ابتدائی نتائج میں صدر عبدالمجید

وزیر اعظم 3 روزہ دورے پر ترکی روانہ

?️ 31 مئی 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وزیر اعظم شہباز شریف 3 روزہ دورے پر ترکی روانہ

شام اور عراق کے صدور کے درمیان فون پر گفتگو

?️ 16 جولائی 2021سچ خبریں:شام اور عراق کے صدور نے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے

مشرق وسطیٰ نہیں چھوڑیں گے:امریکہ

?️ 27 اکتوبر 2022سچ خبریں:ایک سینئر امریکی سفارت کار نے کہا کہ واشنگٹن مغربی ایشیائی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے