?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے پاکستان میں اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے تحفظ کے فقدان پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں اقلیتی برادری جبری شادیوں اور مذہب تبدیلی کا شکار ہیں۔
جینوا میں انسانی حقوق کونسل میں ماہرین کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’ہندو مذہب اور مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں خاص طور پر جبری مذہب تبدیلی، اغوا، اسمگلنگ، کم عمر اور جبری شادی اور جنسی تشدد کا شکار ہیں‘۔
جن ماہرین نے یہ بیان جاری کیا ان میں خواتین اور بچوں کی سمگلنگ سے متعلق خصوصی نمائندے سیوبھان ملالی، اقلیتی امور کے خصوصی نمائندے نکولس لیورٹ ، خواتین اورلڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر کام کرنے والے گروپ کی سربراہ ڈوروتھی ایسٹراڈا ٹینک اور دیگر شامل تھے۔
بیان میں اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا کہ ’مذہبی اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والی نوجوان خواتین اور لڑکیوں کے خلاف جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو مزید برداشت نہیں کیا جاسکتا ’۔
ماہرین نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ مذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو جبری شادی اور مذہب تبدیلی پر مجبور کیا جاتا ہے، بعض اوقات عدالت بھی ایسے جرائم کی اجازت دیتی ہے اور مذہبی قوانین کا حوالہ دے کر ایسی لڑکیوں کو ان کے والدین کےحوالے کرنے کے بجائے اغوا کاروں کے ساتھ رکھنے کا جواز پیش کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجرم اکثر احتساب سے بچ جاتے ہیں اور پولیس بعض اوقات جرائم کو ’محبت کی شادیاں‘ کا لیبل لگا کر نظر انداز کر دیتی ہے۔
ماہرین نے زور دیا کہ کم عمری اور جبری شادیوں کو مذہبی یا ثقافتی بنیادوں پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت جب متاثرہ لڑکی کی عمر 18 سال سے کم ہو تو اس کی رضامندی (consent) سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
یاد رہے کہ پاکستان میں لڑکیوں کی شادی کی قانونی عمر 16 اور لڑکوں کے لیے 18 سال ہے۔
ماہرین نے کہا کہ ایک عورت کا شریک حیات کا انتخاب کرنے اور آزادانہ طور پر شادی میں داخل ہونے کا حق حاصل ہے، قانون کو اس حق کی حفاظت اور حمایت کرنی چاہیے۔
انہوں نے زبردستی کی جانے والی شادیوں کو ختم کرنے کے قوانین کی اہمیت پر زور دیتے متاثرین کو انصاف، مدد، تحفظ اور مدد فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہندو سمیت تمام مذہب سے تعلق رکھنے والی خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ بغیر کسی امتیاز کے منصفانہ سلوک کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان میں مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، بچوں، کم عمر اور جبری شادیوں کے ساتھ ساتھ اقلیتی برادریوں کی لڑکیوں کے اغوا اور اسمگلنگ کے خلاف موجودہ قانونی تحفظات کو نافذ کیا جائے، انہوں نے پاکستان سے بین الاقوامی انسانی حقوق کے فرائض کو پورا کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔


مشہور خبریں۔
ن لیگ کو انوارالحق کی حمایت سے بدنامی کے سوا کچھ نہیں ملا۔ طلال چوہدری
?️ 25 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے
اکتوبر
اردن کے عقبہ ایئرپورٹ پر سیکڑوں صیہونی سرگرداں، فرار کی لہر میں تیزی
?️ 30 مارچ 2026سچ خبریں:ایرانی حملوں کے خوف کے باعث صیہونیوں کے انخلا میں اضافہ،
مارچ
ہندوستانی وزیر اعظم نے ملک کی مسلسل چوکسی کی اپیل کی ہے
?️ 9 مئی 2025سچ خبریں: اپنے ملک اور پاکستان کے درمیان دشمنی میں اضافے کے
مئی
وزیر اطلاعات و نشریات کی جنگ اور جیو دفتر پر حملہ کی مذمت
?️ 21 فروری 2021کراچی {سچ خبریں} وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے
فروری
صیہونی آئل ریفائنریز میں خوفناک آتشزدگی
?️ 1 مئی 2021سچ خبریں:صیہونیوں کے ایٹمی پلانٹ تومر اور ڈیمونا میں ہونے والے حالیہ
مئی
کیپٹل ہل پر حملے کرنے والے کے بارے میں اہم انکشاف ہوگیا
?️ 4 اپریل 2021واشنگٹن (سچ خبریں) امریکی کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل پر حملے کرنے
اپریل
غزہ میں جنگ بندی کی صورت حال
?️ 12 نومبر 2023سچ خبریں:عبرانی زبان کے اخبار Ma’ariv کے سروے کے مطابق مقبوضہ علاقوں
نومبر
انصاراللہ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کرائے کے 77 قیدیوں کو رہا کیا۔
?️ 21 اپریل 2023سچ خبریں:انصار اللہ کی قیدیوں کے امور کی تگراں کمیٹی کے سربراہ
اپریل