افغانستان کا مسئلہ فوج سے حل نہیں ہوگا:وزیر خارجہ

وزیر خارجہ

?️

اسلام آباد(سچ خبریں) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ترکی میں سہ فریقی وزرائے خارجہ اجلاس کے بعد ترکی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ترقی نے اہم کردار ادا کیا ہے انہوں نے کہا افغانستان کے مسئلہ کا حل فوج سے نہیں ہوگا بلکہ اس کا حل جامع مذاکرات کے ذریعے ہوگا۔

 استنبول میں ترک اور افغان وزرائے خارجہ کے ساتھ، سہ فریقی اجلاس کے بعد ترک وزیرخارجہ میولت چاؤش اوغلو کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ مجھے آج سہ فریقی اجلاس میں شرکت کر کے انتہائی خوشی محسوس ہو رہی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ افغان امن عمل کے اس اہم موڑ پر سہ فریقی اجلاس کا انعقاد بہت اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اس فورم کو بروئے کار لاتے ہوئے نہ صرف وزارتی سطح پر بلکہ سربراہی سطح پر کانفرنس کا انعقاد کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج ہم نے اس سہ فریقی اجلاس میں، ہائی سطح پر معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا، بین الافغان مذاکرات کی صورت میں افغانوں کے پاس ایک نادر موقع ہے، انہیں چاہیے کہ وہ سب مل کر مذاکرات کو نتیجہ خیز بنائیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، واحد راستہ جامع اور وسیع مذاکرات ہیں، اسی لیے ہم طالبان کو بار بار مذاکرات کا کہتے ہیں کیونکہ یہ ان کے مستقبل کا معاملہ ہے جس کا فیصلہ انہوں نے خود کرنا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں بدامنی کی سب سے بھاری قیمت، وہاں کے عوام کے بعد پاکستان نے چکائی ہے ہمیں سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ ایک پرامن افغانستان، پاکستان کے مفاد میں ہے، مجھے خوشی ہے کہ کانفرنس ملتوی ہونے کے باوجود آپ نے اس اہم اجلاس کا انعقاد کیا اور آج ہم نے افغان امن عمل کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی۔

ان کا کہنا تھا کہ آج ہم نے علاقائی روابط کے فروغ کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا، ہم نے اقتصادی تعاون، غیر قانونی ہجرت کے مسئلے پر بھی بات چیت کی اورغیر قانونی ہجرت پر مؤثر انداز میں مشترکہ کاوشوں کے ذریعے قابو پایا جا سکتا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارا مشترکہ پریس کانفرنس کرنے کا فیصلہ بھی ہماری سوچ میں یکسوئی کا مظہر ہے، افغانستان میں قیام امن سے خطے میں روابط کو فروغ ملے گا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے استنبول میں سہ فریقی اجلاس کے بعد افغان وزیر خارجہ محمد حنیف آتمر کے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے ملاقات کی اور اس دوران دو طرفہ تعلقات، افغان امن عمل، امریکا اور نیٹو کا افغان سر زمین سے انخلا کے اعلان کے بعد کے حالات پر تبادلہ خیال کیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان نہ صرف پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے بلکہ ہم یکساں مذہبی، تہذیبی اور تاریخی اقدار سے جڑے ہوئے ہیں، ہمارے بہت سے مفادات اور چیلنجز مشترک ہیںدونوں وزرائے خارجہ نے افغانستان کے حالات کے حوالے سے سہ فریقی اجلاس کے انعقاد پر ترکی کے کردار کو سراہا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں چار دہائیوں سے جاری کش مکش کے خاتمے اور افعان امن عمل کو کامیابی سے ہم کنار کرنے کے لیے تمام فریقین کو جامع، سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات کا راستہ اپنانا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے توقع ہے کہ جب دوبارہ استنبول کانفرنس بلائی جائے گی تو تمام فریقین اس میں شرکت کریں گے، پاکستان، افغانستان کے ساتھ کثیر الجہتی شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔

وزیر خارجہ نے مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون بڑھانے کے لیے اے پی اے پی پی ایس میکانزم کو فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ افغانستان میں امن کے قیام سے خطے میں اقتصادی سرگرمیوں اور روابط کو فروغ ملے گا۔

دونوں وزرائے خارجہ نے قیدیوں کی رہائی، ویزے کے مسائل، کاسا 1000 سمیت دو طرفہ دلچسپی کے امور پر گفتگو کی اور وزیر خارجہ نے اپنے افغان ہم منصب کو دورہ پاکستان کی دعوت دی جس سے انہوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔

مشہور خبریں۔

غیر ملکی سرکاری دستاویزات کی تصدیق کیلئے صرف ایک اپوسٹیل سرٹیفکیٹ درکار ہوگا

?️ 10 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان نے غیر ملکی سرکاری دستاویزات کی قانونی حیثیت

فواد چوہدری کا  نعمان نیاز اور شعیب اختر کی صلح پر ردعمل

?️ 13 نومبر 2021لاہور (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات برائے نشریات فواد چوہدری نے سابق

صیہونی حکومت کا الخلیل میں فلسطینیوں کی ایک ہیکٹر سے زائد اراضی پر قبضہ

?️ 4 مئی 2026سچ خبریں:صیہونی حکومت کی افواج نے مغربی کنارے کے شہر الخلیل کے

واشنگٹن نے شیرین ابوعاقلہ کی رپورٹ کا خیر مقدم کیا

?️ 6 ستمبر 2022سچ خبریں:       امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے

ایران کے میزائل ابھی تک صیہونیوں کے ڈراؤنا خواب

?️ 2 جولائی 2026سچ خبریں:نئی صیہونی دستاویزات کے مطابق حیفا ریفائنری کو ایران کے میزائل

کیا سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر آپائیں گے ؟

?️ 30 ستمبر 2023سچ خبریں:سعودی کا اصرار ہے کہ مسئلہ فلسطین کو دو ریاستی حل

یوکرین جنگ کیوں ختم نہیں ہو رہی،روس کیا کہتا ہے؟

?️ 31 جولائی 2023سچ خبریں: روسی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ

چین، بھارت اور برازیل، ٹرمپ کے تجارتی دباؤ کے سامنے ڈٹ جانے والی ابھرتی طاقتیں

?️ 20 ستمبر 2025چین، بھارت اور برازیل: ٹرمپ کے تجارتی دباؤ کے سامنے ڈٹ جانے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے