آزاد کشمیر سپریم کورٹ نے متنازع آرڈیننس معطل کردیا

?️

مظفر آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ آف آزاد جموں و کشمیر نے پرامن احتجاج اور امن عامہ سے متعلق آرڈیننس 2024 کا نفاذ معطل کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف 2 اپیلیں منظور کرلیں، جس نے متنازع قانون کو برقرار رکھا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس آرڈیننس کو مرکزی بار ایسوسی ایشن مظفر آباد اور آزاد کشمیر بار کونسل کے 3 ارکان نے آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

تاہم ہائی کورٹ نے ان درخواستوں کو مسترد کردیا تھا جس کے بعد درخواست گزاروں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر میں درخواست دائر کردی تھی۔

درخواست گزاروں کے سینئر وکلا راجا سجاد احمد اور راجا امجد علی خان نے الزام عائد کیا کہ ہائی کورٹ نے آرڈیننس کی قانونی حیثیت سے متعلق اٹھائے گئے سوالات کو نظر انداز کیا۔

انہوں نے موقف اختیار کیا کہ مقننہ کو آزاد کشمیر کے عبوری آئین کے تحت ریاست کو فراہم کردہ بنیادی حقوق سے محروم کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے لہٰذا مذکورہ آرڈیننس آئین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

درخواست گزاروں کے وکلا کا کہنا تھا کہ موجودہ قوانین ان حقوق کے استعمال کو منظم کرنے کے لیے کافی ہیں، جس سے نیا آرڈیننس غیر ضروری ہو گیا ہے۔

آزاد کشمیر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس راجا سعید اکرم کی سربراہی میں فل کورٹ نے درخواست پر سماعت کی۔

فل کورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد صدارتی آرڈیننس کو معطل کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے حکومت کو آرڈیننس پر عملدرآمد سے روک دیا۔

سپریم کورٹ نے دونوں درخواستوں کو اپیلوں میں تبدیل کرتے ہوئے باقاعدہ ایک کیس کے طور پر جمع کیا اور کہا کہ اس حوالے سے تفصیلی فیصلہ کیس کی مزید سماعت کے بعد سنایا جائے گا۔

یاد رہے کہ صدارتی آرڈیننس کے تحت کسی بھی احتجاج اور جلسے سے قبل ڈی سی سے ایک ہفتہ قبل اجازت لینا ضروری تھا، اس کے علاوہ کسی غیر رجسٹرڈ جماعت یا تنظیم کو احتجاج کا حق حاصل نہیں تھا۔

اس آرڈیننس کے خلاف جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے کے جے اے اے سی) کی جانب سے 5 دسمبر کو پہیہ جام ہڑتال کی کام دی گئی تھی تاہم ہڑتال کے اعلان کے 48 گھنٹوں کے اندر ہی یہ آرڈیننس معطل کردیا گیا۔

عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رکن شوکت نواز میر نے سپریم کورٹ کی مداخلت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہڑتال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک حکومت باضابطہ طور پر آرڈیننس کو منسوخ نہیں کرتی اور اس کی مخالفت کرنے پر حراست میں لیے گئے کارکنوں کو رہا نہیں کرتی۔

مشہور خبریں۔

اکثریت فلسطینی عوام کی مزاحمتی گروہوں کے غیر مسلح کیے جانے کی مخالفت

?️ 1 نومبر 2025اکثریت فلسطینی عوام کی مزاحمتی گروہوں کے غیر مسلح کیے جانے کی

وزیراعظم، سعودی ولی عہد ملاقات کا مشترکہ اعلامیہ، اقتصادی تعاون کا فریم ورک شروع کرنے پر اتفاق

?️ 28 اکتوبر 2025ریاض: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد کے درمیان

غزہ کی سرنگیں صیہونیوں کا قبرستان کیوں بنیں گی؟

?️ 1 نومبر 2023سچ خبریں: غزہ کی پٹی پر قابض حکومت کی زمینی جارحیت شروع

پاکستان کا ابابیل ویپن سسٹم کا کامیاب تجربہ

?️ 18 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے ہتھیاروں کے نظام ابابیل ویپن سسٹم

صنعا کا سعودی اتحاد کو انتباہ

?️ 27 دسمبر 2022سچ خبریں:       یمن کے عبد الملک العجری نے کہا کہ

شہید سلیمانی نے فلسطین کے لیے کیا کیا؟عراقی تجزیہ کار کی زبانی

?️ 1 جنوری 2024سچ خبریں: عراق اسٹڈیز سینٹر کے ڈائریکٹر نے اس بات کی طرف

یمن میں اقوام متحدہ کے 5 ملازمین رہا

?️ 12 اگست 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے اعلان کیا کہ

تنازعہ کشمیر کی وجہ سے کشمیری خواتین شدید متاثر ہوئی ہیں،حریت کانفرنس

?️ 8 مارچ 2025سرینگر: (سچ خبریں) کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بھارت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے