آج پھر عمران خان سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی، یہ عدالت کی توہین ہے، شبلی فراز

🗓️

راولپنڈی: (سچ خبریں) سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے کہا ہے کہ آج پھر ہمیں سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی، ملاقات کرانے سے انکار عدالت کی توہین ہے اور جو عدالتی فیصلوں پر عمل نہیں کرتے ان کی سزاؤں کا تعین ہونا چاہیے۔

ڈان نیوز کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے سینٹرل جیل اڈیالہ میں آج ملاقات کا دن تھا جس کے لیے ان کے وکلا علی عمران اور ملک طارق نون اڈیالہ جیل پہنچے، اس کے علاوہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان اور شبلی فراز بھی پہنچے، ان کے ہمرہا نیاز اللہ نیازی اور عالیہ حمزہ بھی موجود تھیں۔

تاہم، پی ٹی آئی رہنماؤں کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں مل سکی جس کے بعد تمام رہنما اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہوگئے۔

بعد ازاں، میڈیا سے گفتگو میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ہمیں عدالتی حکم کے باوجود بانی سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی، جمعرات کی ملاقات کی لسٹ بانی خود فائنل کرکے وکلا کے حوالے کرتے ہیں، پتا نہیں کس کے کہنے پر ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی اڑھائی ماہ سے بچوں سے بات نہیں ہونے دی گئی، بہنوں سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی، بانی کو عید کی نماز نہیں پڑھنے دے گئی، ہم کیسے مملکت اسلامی پاکستان میں رہ رہے ہیں، جہاں بانی کو عید کی نماز نہ پڑھنے دی تو پیچھے کیا چیز رہ جاتی ہے،اس سے بڑی بے غیرتی نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے کہا کہ یہ بار بار توہین عدالت کر رہے ہیں،امید کرتے ہیں جج صاحبان اپنے احکامات پر عملدرآمد کروائیں، اگر ججز اپنے احکامات پر عمل درآمد نہ کرواسکے تو بہتر ہے استعفی دیکر گھر چلے جائیں۔

ایک سوال کے جواب میں عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ہمارا وفد بلوچستان گیا ہوا ہے، مشکل سے وہ اختر مینگل کے قافلے سے جا کر ملے ہیں، بلوچستان کی حکومت نے ان کا راستہ روکا ہم اسکی مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ بلوچستان ایک ایس ایچ او کی مار ہے کہاں ہے وہ ایس ایچ او ؟ انتظامیہ خود اعلان کر رہی ہے کہ بلوچستان میں لا اینڈ آرڈر نہیں ہے، ملک کو صرف بانی پی ٹی آئی اکھٹا کر سکتے ہیں۔

’توہین عدالت پر سزا کا تعین ہونا چاہیے‘

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ہمیں دوسری مرتبہ ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اس سے ظاہر ہوتا ہے عدالتی فیصلے کوئی معنی نہیں رکھتے ،کوئی ملک جہاں عدالتی فیصلوں کو جوتے کی نوک پر رکھا جائے وہ ملک نہیں کہلا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ جہاں پک اینڈ چوز کیا جائے اس کا مطلب عدالتیں اپنا وقار کھو چکی ہیں، وہ عدالتیں اور ججز جو قانون کے مطابق فیصلے دیتے ہیں، اگر اس پر کوئی عمل درآمد نہیں کرتا تو اس پر سزا کا بھی تعین کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب عوام دیکھیں گے کہ عدالت کا کوئی مقام و حیثیت نہیں تو وہ کیوں قانون کا احترام کریں گے، عوام کنفیوژن کا شکار ہیں، جتنے قیدی یہاں بیٹھے ہیں ان کو عدالتوں نے ہی سزا دی ہیں، ہماری ملاقات نہ کروانا عدالت کے فیصلے کی کھلم کھلا توہین ہے۔

’عدالتی حکم کی مسلسل خلاف ورزی ہورہی ہے‘

بانی پی ٹی آئی کے فوکل پرسن نیاز اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ آئین کی بالادستی و قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ کے آرڈر کو تیسری مرتبہ وائیلیٹ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی ہے، ایک نئی درخواست بھی دائر کریں گے، ہم عدلیہ کے حکم پر عمل درآمد کرانا چاہتے ہیں لیکن ایگزیکٹو مسلسل اسکی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

’عمران خان کو باسی کھانا دے رہے ہیں‘

پی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ کا کہنا تھا کہ شرم کا مقام ہے کہ منتخب وزیر اعظم سے بدترین سلوک کیا جا رہا ہے ، ہمارے وزیر اعظم کو ان کی بہنوں سے نہیں ملنے دیا جارہا ہے، انہیں باسی کھانا دے رہے ہیں، ٹی وی اخبار نہیں دے رہے۔

انہوں نے کہا کہ جو کرپشن پر پکڑا جاتا ہے، ثابت ہوتا ہے اس کے پلیٹ لیٹس گرتے ہیں اس کو ملک سے باہر بھیج دیتے ہیں لیکن عمران خان کو سزا دیتے ہیں کیوں کہ وہ جھک نہیں رہا، وہ اپنے مفاد پر قوم کے مفاد کو ترجیح دے رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ملک دو نظام ہیں کہ اشرافیہ کی ملاقات سپریٹنڈنٹ کے اے سے کمروں میں کرائی جاتی تھی،گھروں سے کھانا آتا تھا، وہاں فون کمروں سے برآمد ہوتے تھے اور یہاں بچوں سے بات نہیں کرائی جاتی، آپ نے ہر فسطائیت کرلی اس کے باوجود ہم لیڈر کے ساتھ ڈٹ کھڑے ہیں۔

مشہور خبریں۔

غزہ میں امدادی قافلے پر اسرائیل کا حملہ

🗓️ 14 مئی 2024سچ خبریں: ہیومن رائٹس واچ نے اعلان کیا کہ صیہونی حکومت نے گزشتہ

ہمیں طالبان کے تسلط کی رفتار کا صحیح اندازہ نہیں تھا: امریکہ

🗓️ 9 اپریل 2023سچ خبریں:افغانستان سے غیر ملکی فوج کے انخلا کے بارے میں امریکی

موجوزہ آئینی ترامیم: کوششوں کے بعد اتفاق رائے کے قریب پہنچ چکے ہیں، مولانا فضل الرحمٰن

🗓️ 14 اکتوبر 2024کراچی: (سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن

پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ ہو گیا

🗓️ 22 ستمبر 2021مردان (سچ خبریں) پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ معمول کی پرواز کے

لیبیا سے برطانوی سفیر کو نکالنے کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ

🗓️ 26 دسمبر 2021سچ خبریں:لیبیا میں لندن کے سفارت خانے کی جانب سےاس ملک کی

صیہونی طیارے کی سعودی عرب میں آمد

🗓️ 4 مئی 2022سچ خبریں:صیہونی ذرائع ابلاغ نے ایک صیہونی طیارے کی سعودی عرب کے

صحافی کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال، قاسم سوری کے نیشنل پریس کلب میں داخلے پر پابندی

🗓️ 30 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) سینئر صحافی سلیم صافی کے خلاف بیان دینے پر

Instagram Is Testing Photo Albums, Because Nothing Is Sacred Anymore

🗓️ 7 اگست 2022Dropcap the popularization of the “ideal measure” has led to advice such

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے